پاکستانی پاسپورٹ: دنیا کے بند دروازے اور ہماری قومی ترجیحات،تحریر: نعیم خان
نقطہ نظر
کسی قوم کی بے بسی کا اندازہ اس وقت بخوبی ہوتا ہے جب اس کے شہری کی جیب میں موجود پاسپورٹ دنیا کے بیشتر دروازوں پر اجازت کی بجائے انکار بن کر کھڑا ہو۔ پاسپورٹ محض چند صفحات پر مشتمل ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ ریاست کی ساکھ ، سفارت کاری اور عالمی اعتماد کا خاموش تعارف بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایٹمی قوت ہونے کے باوجود پاکستان کا پاسپورٹ دنیا میں اس قدر محدود رسائی کیوں رکھتا ہے؟
Henley Passport Index 2026 کے مطابق پاکستان 102ویں نمبر پر ہے اور پاکستانی شہریوں کو محض 29 مقامات تک پیشگی ویزے کے بغیر یا آمد پر ویزے جیسی سہولت میسر ہے۔ پاکستان سے نیچے صرف عراق، شام اور افغانستان ہیں ، جبکہ صومالیہ اور یمن جیسے ممالک بھی اس سے آگے ہیں۔ یہ درجہ بندی کسی قوم کی ذہانت ، قابلیت یا محنت کا پیمانہ نہیں ، لیکن عالمی سطح پر ہمارے سفارتی اثر و رسوخ اور سفری آزادی کی صورت حال ضرور ظاہر کرتی ہے۔
اس پستی کی وجوہات تلاش کرنے کے لیے ہمیں محض دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے نظام کا جائزہ لینا ہوگا۔ دنیا کا کوئی ملک بلاوجہ اپنے دروازے نہیں کھولتا۔ ہر ریاست یہ دیکھتی ہے کہ آنے والے مسافر کی واپسی کا امکان کتنا ہے ، غیر قانونی قیام کا خطرہ کیا ہے ، جعلی دستاویزات کا استعمال کس حد تک ہوتا ہے اور متعلقہ ملک کے ساتھ اس کے سفارتی و معاشی تعلقات کس نوعیت کے ہیں۔
پاکستان کے لیے غیر قانونی ہجرت ، انسانی اسمگلنگ اور جعلی سفری دستاویزات کے مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جب کسی ملک کے شہری غیر قانونی راستوں سے دوسرے ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کا اثر صرف ان افراد تک محدود نہیں رہتا بلکہ ان کے ملک کے عام شہریوں کے لیے بھی سفری پابندیاں سخت ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ پاسپورٹ کی کمزور حیثیت کی تمام وجوہات صرف غیر قانونی ہجرت نہیں؛ سیاسی عدم استحکام ، معاشی غیر یقینی ، سلامتی کے خدشات اور محدود سفارتی معاہدے بھی اس میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
اس کے باوجود بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان اور یورپی ممالک کے درمیان قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے تعاون جاری ہے۔ پاکستانی حکومت کے مطابق 2025 میں سمندری راستوں سے ہونے والی غیر قانونی آمد میں 47 فیصد کمی آئی۔ اٹلی کے ساتھ پاکستانی کارکنوں کے لیے 10,500 ملازمتوں کا کوٹہ بھی قانونی روزگار کے فروغ کی ایک مثال ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ درست حکمت عملی کے ذریعے مسائل میں کمی اور مواقع میں اضافہ ممکن ہے۔
لیکن چند اقدامات کو مستقل پالیسی کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا۔ پاکستان کو کم از کم اگلے دس برس کے لیے ایک واضح قومی پاسپورٹ پالیسی درکار ہے جس کا مقصد صرف درجہ بندی بہتر بنانا نہیں بلکہ پاکستانی شہریوں کی سفری آزادی میں حقیقی اضافہ ہو۔ وزارت خارجہ ، وزارت داخلہ ، ایف آئی اے اور پاسپورٹ اتھارٹی کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا چاہیے۔ ہر سال مخصوص ممالک کے ساتھ ویزا سہولت کے مذاکرات ، نئے معاہدوں کے اہداف اور ان پر پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اس پالیسی میں قانونی ہجرت کو فروغ دینا ، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک ختم کرنا ، جعلی دستاویزات کی روک تھام اور جدید بائیومیٹرک نظام کو مؤثر بنانا بنیادی ترجیحات ہونی چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم ، تجارت ، سیاحت اور روزگار کے لیے سفر کرنے والے پاکستانیوں کو آسان ویزا سہولت دلانے کے لیے الگ سفارتی کوششیں بھی ضروری ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ Henley کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں اس کے پاسپورٹ کی ویزا فری رسائی میں 153 مقامات کا اضافہ ہوا۔ اس پیش رفت سے یہ سبق ملتا ہے کہ مسلسل سفارت کاری ، معاشی شراکت داری اور عالمی تعاون کسی ملک کی سفری حیثیت بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان کو بھی وقتی سفارتی سرگرمیوں کے بجائے مستقل اور نتیجہ خیز حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ پاسپورٹ کی طاقت صرف سفارت خانوں میں ہونے والے مذاکرات سے نہیں بڑھتی۔ ملک کے اندر امن ، سیاسی استحکام ، معاشی ترقی ، قانون کی حکمرانی اور اداروں کی ساکھ بھی اس کا حصہ ہیں۔ دنیا کسی ریاست کے وعدوں سے زیادہ اس کے عملی اقدامات کو اہمیت دیتی ہے۔ لہٰذا اگر پاکستان واقعی اپنے پاسپورٹ کی حیثیت بدلنا چاہتا ہے تو اسے داخلی اصلاحات اور خارجہ پالیسی کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہوگا۔
حکومت کو چاہیے کہ ہر سال پارلیمان میں پاسپورٹ کی عالمی حیثیت اور سفارتی پیش رفت پر ایک باقاعدہ رپورٹ پیش کرے۔ اس میں کامیابیوں کے ساتھ ناکامیوں اور رکاوٹوں کی بھی نشان دہی ہو تاکہ یہ معاملہ محض کسی ایک حکومت کا تشہیری منصوبہ بننے کے بجائے قومی پالیسی کی شکل اختیار کرے۔ اس مقصد کے لیے واضح اہداف ، مقررہ مدت اور اداروں کی جواب دہی ناگزیر ہیں۔
پاکستانی شہریوں کی صلاحیت پر کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے نوجوان دنیا کی بڑی جامعات اور عالمی اداروں میں اپنی قابلیت منوا رہے ہیں۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بیرون ملک اپنی صلاحیت ثابت کرنے والے انہی شہریوں کو سفر کے لیے غیر معمولی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تضاد محض ایک سفری مسئلہ نہیں بلکہ ہماری قومی ترجیحات پر غور کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم پاسپورٹ کی کمزور درجہ بندی کو محض ایک خبر سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔ اسے ریاستی کارکردگی کا ایسا پیمانہ بنائیں جس کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ ادارے جواب دہ ہوں۔
آخر کب تک پاکستانی شہری اپنی قابلیت ثابت کرنے کے باوجود اپنے پاسپورٹ کی کمزوری کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں ہماری پوری ریاستی مشینری سے ہے۔ کیونکہ دنیا میں پاکستان کی عزت صرف نعروں سے نہیں بڑھے گی؛ اس کے لیے ایسے عملی اقدامات درکار ہیں جن کا اثر پاکستانی شہری کو دنیا کے ہر ہوائی اڈے پر محسوس ہو۔
پاسپورٹ کی عزت دراصل ریاست کے اعتماد کی عکاس ہے اور اس اعتماد کی تعمیر اب ہماری قومی ترجیح ہونی چاہیے
مزید پڑھیں





