Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فکر کل کی، خوشی آج کی،تحریر: شازیہ یاسین


انسان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ وہ اکثر اُس دکھ کے لیے آج ہی پریشان ہونا شروع کر دیتا ہے جو ابھی آیا ہی نہیں۔ آنے والا کل اپنی باری پر آتا ہے، مگر انسان اس کے اندیشوں کو آج کی دہلیز پر بٹھا لیتا ہے۔ پھر وہ لمحہ جو مسکراہٹ کا حق دار ہوتا ہے، فکر کی نذر ہو جاتا ہے۔ ہم مستقبل کے ممکنہ مسائل کو سوچتے سوچتے حال کی حقیقی خوشیوں سے محروم ہو جاتے ہیں، حالانکہ وقت کا سب سے قیمتی تحفہ یہی موجودہ لمحہ ہے۔


فکر اور پریشانی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں۔ اگر کسی آنے والے دن میں کوئی مشکل لکھی ہے تو مسلسل سوچتے رہنے سے وہ پہلے نہیں ٹلے گی، البتہ انسان آج ضرور تھک جائے گا۔ کل کے اندیشے آج کی توانائی، سکون اور مسکراہٹ چھین لیتے ہیں۔ ہم ایک ایسے دکھ کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں جس کا وجود ابھی صرف ہمارے خیال میں ہوتا ہے۔ یوں حقیقت سے زیادہ ہمارا وہم ہمیں زخمی کرتا رہتا ہے۔


زندگی بہت مختصر ہے۔ اس کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ ہر دن اپنے ساتھ ایک نیا امکان لے کر آتا ہے۔ صبح کی روشنی، اپنوں کی آواز، کسی دوست کا پیغام، بچوں کی ہنسی، گھر کا سکون، صحت کا ایک اچھا لمحہ اور دل کا اطمینان، یہ سب ایسی نعمتیں ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہماری توجہ اُن چیزوں پر مرکوز رہتی ہے جو ہمارے پاس نہیں، اور اسی کشمکش میں وہ کچھ بھی نظر نہیں آتا جو ہمارے پاس موجود ہے۔


ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ احتیاط اور پریشانی میں فرق ہوتا ہے۔ مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنا عقل مندی ہے، مگر مستقبل کے خوف میں آج کو برباد کر دینا دانش مندی نہیں۔ اگر کسی مسئلے کا حل ہمارے اختیار میں ہے تو اس کے لیے قدم اٹھانا چاہیے، اور اگر کوئی معاملہ ہمارے اختیار سے باہر ہے تو اسے ہر وقت سوچتے رہنا صرف ذہنی بوجھ میں اضافہ کرتا ہے۔ زندگی ہمیں ہر سوال کا جواب پہلے سے نہیں دیتی؛ بعض جواب وقت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔


کبھی کبھی ہم اپنے ذہن میں ایسے ایسے منظر بنا لیتے ہیں جو حقیقت میں کبھی رونما ہی نہیں ہوتے۔ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ شاید یہ ہو جائے، شاید وہ چھن جائے، شاید حالات خراب ہو جائیں، شاید کوئی اپنا بدل جائے۔ ان ’’شاید‘‘ کے درمیان ہم اپنے آج کے یقین کو کھو دیتے ہیں۔ حالانکہ کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ جس بات نے ہمیں کئی دن پریشان رکھا، وہ وقت آنے پر اتنی بڑی ثابت ہی نہیں ہوئی جتنی ہمارے خیال نے اسے بنا دیا تھا۔


خوش رہنے کے لیے زندگی کا مکمل طور پر بے فکر ہونا ضروری نہیں۔ خوشی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان مشکلات سے آنکھیں بند کر لے۔ اصل دانائی یہ ہے کہ مشکل کو مشکل کی حد تک دیکھا جائے اور خوشی کو خوشی کی طرح جیا جائے۔ اگر آج زندگی نے ہمیں مسکرانے کی وجہ دی ہے تو اسے کل کے خوف کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ کل جب آئے گا تو اس کے ساتھ نمٹنے کے لیے آج سے بہتر انسان بن کر کھڑا ہونا چاہیے، نہ کہ پہلے ہی سے تھکا ہوا اور شکستہ۔


اپنے دل کو یہ یقین دلانا چاہیے کہ ہر آنے والا دن اپنے ساتھ صرف آزمائش نہیں لاتا، امکانات بھی لاتا ہے۔ جس طرح رات کے بعد صبح آتی ہے، اسی طرح مشکل کے بعد آسانی بھی آ سکتی ہے۔ زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی، مگر ہر موڑ پر ہمیں اپنا رویہ منتخب کرنے کا اختیار ضرور دیتی ہے۔ ہم خوف کو منتخب کر سکتے ہیں یا امید کو، بے چینی کو جگہ دے سکتے ہیں یا صبر کو۔


اس لیے آج کو آج کی طرح جینا سیکھیں۔ جو نعمت میسر ہے، اس پر شکر کریں۔ جو رشتہ خوبصورت ہے، اسے وقت دیں۔ جو لمحہ خوشی دے رہا ہے، اسے محسوس کریں۔ جو مسئلہ حل ہو سکتا ہے، اس کے لیے کوشش کریں، اور جو ہمارے اختیار میں نہیں، اسے اللہ کے سپرد کر دیں۔ کیونکہ آنے والے کل کے درد کو آج محسوس کرنے سے نہ کل بدلتا ہے، نہ درد کم ہوتا ہے؛ صرف آج کی خوشی ہم سے چھن جاتی ہے۔


زندگی شاید اسی کا نام ہے کہ انسان کل کے لیے تیاری ضرور کرے، مگر آج کو قربان نہ کرے۔ کل ابھی آیا نہیں، اور آج ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اسے فکر کے حوالے کرنے کے بجائے شکر، امید اور مسکراہٹ کے نام کر دینا ہی زندگی کا خوبصورت ہنر ہے۔