Baaghi TV Logo

آج سے 17 ستمبر تک ملک کے بیشترحصوں میں مزید بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی

rain

محکمہ موسمیات نے آج 14 ستمبر سے 17 ستمبر تک ملک کے بیشترحصوں میں مزید بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی ہے-

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں بھی گرج چمک کےساتھ مزید بارش متوقع ہے، راولپنڈی، مری اور گلیات سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان ہےاسی طرح پشاور، سوات، چترال اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارش متوقع ہے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بھی بارش کی توقع ہے ، بلوچستان کے اضلاع ژوب، بار کھان اور موسیٰ خیل میں بھی بارش کا امکان ہےکل سے17ستمبر کے دوران لاہور،سیالکوٹ،شیخوپورہ ،نارروال ،گجرات میں بارش کی توقع ہے ، گوجرانوالہ ،وزیرآباد ،قصور ،اوکاڑہ اورننکانہ صاحب سمیت مختلف علاقوں میں بارش متوقع ہے۔

اسی طرح پشاور ،دیر ،چترال ،سوات ،ملاکنڈ ،مردان میں بارشیں متوقع ہیں،خیبرپختونخوا کےپہاڑی علاقوں ،گلگت بلتستان ،مری ،گلیات اور کشمیر میں لینڈ سلا ئیڈنگ کاخدشہ ظاہر کیا گیا ہے،دنیا کے بڑے شہروں کی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کے جائزے کی رپورٹ جاری ہوئی ہے جس میں پاکستان کے 4 بڑے شہر بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے 72 بڑے شہروں پر مبنی یہ رپورٹ موسمیاتی خطرات کا جائزہ لینے والی کمپنی الفاجیو نے جاری کی ہے جس میں یہ بھی دیکھا گیا کہ شہر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں جنوبی ایشیا کے 6 شہر مومسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی سب سے کم صلاحیت رکھنے والے شہروں میں شامل ہیں، ان شہروں میں انڈیا کا احمد آباد 41 کے اسکور کے ساتھ پہلے، حیدرآباد دوسرے، پاکستان کا ملتان 38 کے اسکور کے ساتھ تیسرے، ڈ ھاکہ چوتھے، لاہور پانچویں نمبر، فیصل آباد ساتویں اور کراچی آٹھویں نمبر پر ہے۔

الفا جیو نےان شہروں کو لاحق موسمیاتی خطرے کی بڑی وجوہات میں شدید گرمی اورموسمیاتی خطرات کےمقابلےمیں محدود موافقتی اقدامات کوقرار دیا ہے ،کمپنی کے مطابق جنوبی ایشیا میں ایسے شہروں کی تعداد زیادہ ہے جہاں موسمیاتی خطرات کی شدت کے مقابلے میں موافقت اور تحفظ کے اقدامات ابھی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکے۔

رپورٹ میں موسمیاتی خطرے کو صرف سیلاب تک محدود نہیں کیا گیا بلکہ اندرونِ ملک اور ساحلی سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، جنگلات میں آگ اور سمندری طوفانوں سمیت مختلف خطرات کو جائزے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے بعد شہروں میں موجود موافقتی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے باقی ماندہ خطرے کا اندازہ لگایا گیا۔

رپورٹ کےمطابق دنیا کے نسبتاً زیادہ موسمیاتی لچک رکھنے والے بڑے شہروں میں شکاگو، بارسلونا، پیرس، لندن، ایڈیس ابابا، نیروبی اور میلبورن شامل ہیں دوسری جانب چین کے بیجنگ، تیانجن، شین ژین اور شنگھائی نے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی کارکردگی کے اعتبار سے بہتر کارکردگی دکھائی۔

الفاجیو نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو خاص توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں ممالک کے بڑے شہروں میں موسمیاتی خطرات زیادہ ہیں جبکہ ان خطرات کو کم کرنے کی صلاحیت اور موافقتی اقدامات میں خلا برقرار ہے رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال قدرتی آفات کے بعد بحالی، بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور آبادی کی نقل مکانی جیسے مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔