"بدنامی کبھی کبھی انسان کے کردار سے نہیں، لوگوں کی سوچ سے جنم لیتی ہے۔"
الف ایک متوسط گھرانے کی باحیا اور خاموش طبع لڑکی تھی۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش صرف اتنی تھی کہ اس کے والدین اس پر فخر کریں۔ وہ اپنے رب سے محبت کرتی، تعلیم حاصل کرتی اور گھر کے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ مگر بعض اوقات قسمت انسان کو ایسے امتحان سے گزار دیتی ہے جہاں بے گناہی بھی جرم بن جاتی ہے۔
سردیوں کی ایک رات وہ چھت پر سوکھے ہوئے کپڑے اتار رہی تھی۔ نیچے اترنے لگی تو اچانک اس کے چچازاد بھائی زیان نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ الف نے گھبرا کر خود کو چھڑانے کی کوشش کی۔
"میرا راستہ چھوڑ دو، زیان!"
مگر اس نے ہنستے ہوئے کہا، "تمہاری یہ خاموشی ہی تو مجھے پسند ہے۔"
الف نے پوری قوت سے خود کو آزاد کیا۔ اسی لمحے اس کے منہ سے ایک چیخ نکل گئی۔ آواز سن کر گھر والے چھت پر پہنچ گئے۔ کسی نے حقیقت جاننے کی کوشش نہ کی۔ سب نے وہی دیکھا جو ان کی آنکھوں کے سامنے تھا، اور الزام صرف الف کے حصے میں آیا۔
اس رات الف کی صفائیاں اس کی سسکیوں میں دفن ہو گئیں۔ اس کی ماں نے بھی اس پر یقین نہ کیا، اور گھر کی دیواریں اس کے آنسوؤں کی گواہ بن گئیں۔
دن گزرتے گئے، مگر الف کی زندگی بدل گئی۔ پہلے وہ گھر کی رونق تھی، اب خاموشی کا دوسرا نام بن چکی تھی۔ لوگ اس سے نظریں چراتے، رشتے دار اس کا ذکر سرگوشیوں میں کرتے اور محلے کی عورتیں اس کے کردار پر انگلیاں اٹھاتیں۔
صرف اس کی دادی تھیں جو ہر رات اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتیں، "بیٹی! سچ کو وقت لگتا ہے، مگر وہ ہارتا نہیں۔"
ایک دن زیان کے موبائل فون سے چند پیغامات سامنے آئے۔ وہ اپنے دوست سے فخر سے کہہ رہا تھا کہ اس نے جان بوجھ کر الف کو بدنام کیا تاکہ وہ کبھی کسی کے سامنے سر نہ اٹھا سکے۔ یہ پیغامات اس کے چھوٹے بھائی نے دیکھ لیے اور ڈرتے ڈرتے اپنے والد کو دکھا دیے۔
گھر میں خاموشی چھا گئی۔
جن لوگوں نے کبھی الف کی بات نہ سنی تھی، آج ان کے پاس کوئی لفظ نہ تھا۔ چاچی کی نظریں شرم سے جھک گئیں، ماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اور والد پہلی بار اپنی بیٹی کے سامنے بے بس کھڑے تھے۔
زیان نے اپنی غلطی تسلیم کر لی، مگر الف کے دل پر لگے زخم کسی معافی سے بھرنے والے نہ تھے۔
الف نے صرف اتنا کہا، "بدنام کرنا آسان ہے، مگر عزت واپس لانے میں پوری زندگی لگ جاتی ہے۔"
چند ماہ بعد الف نے اپنی تعلیم مکمل کی اور ایک اسکول میں ملازمت اختیار کر لی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی کو دوسروں کی رائے کے مطابق نہیں، بلکہ اپنے رب کے بھروسے پر گزارے گی۔
لوگ آہستہ آہستہ اس کی بے گناہی بھول کر اس کی کامیابی کی مثال دینے لگے، مگر الف جانتی تھی کہ کچھ زخم وقت کے ساتھ مدھم تو ہو جاتے ہیں، مٹتے نہیں۔
اس نے اپنی ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا:
"اگر سچ بولنے والا خاموش ہو جائے تو جھوٹ کی آواز بلند ہو جاتی ہے، مگر اللہ کی عدالت میں نہ کوئی بے گناہ مجرم رہتا ہے، نہ کوئی ظالم ہمیشہ بچ پاتا ہے۔"
الف نے ڈائری بند کی، آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔ آج اسے لوگوں سے نہیں، اپنے رب کی گواہی کافی تھی۔
شاید اسی کا نام زندگی ہے... جہاں کچھ لوگ ہمیں بدنام کر کے خود گمنام ہو جاتے ہیں، مگر سچ آخرکار اپنی پہچان خود بنا لیتا ہے۔
مزید پڑھیں






