ہمارا معاشرہ اور اخلاقی زوال ،تحریر : شگفتہ خان
نقطہ نظر
افراد کا مجموعہ معاشرہ کہلاتا ہے۔ جہاں ہر مذہب اور رنگ و نسل کے لوگ رہتے ہیں۔ ان کا مل جل کر رہنا۔ بلا تفریق اپنے مذہبی امور بجا لانا ہی کسی معاشرے کی ترقی پر منحصر ہے۔ کوئی بھی معاشرہ ترقی کی منازل تب طے کر سکتا ہے جب وہاں کے افراد تعلیم یافتہ، مہذب اور اخلاقی قدروں کاپاس رکھنے والے ہوں۔معاشرے میں امن وامان ،بھائی چارہ، یگانگت، محبت و خلوص ، باہمی اخوت و مساوات ہمدردی اور اپنائیت پائی جاتی ہے ۔جب معاشرہ میں اخلاقی زوال آتا ہے تو وہ تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کا سبب ہی اخلاقی اقدار کی تنزلی بن جاتا ہے۔ رشوت، بد عنوانی، سود، دہشتگردی، ظلم و ستم ، نا انصافی ،خود غرضی اور مفاد پرستی کا راج قائم ہو جاتا ہے۔
آج کے دور میں دیکھیں تو ہمارے معاشرے میں یہی سب کچھ تو ہو رہا ہے ۔بے راہ روی او گمراہی کا شکار آج کی نسل نو تنزلی کی طرف گامزن ہیں۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے مذہب اور اس کی تعلیمات کو فراموش کرتے جا رہے ہیں۔ہماری نسلوں میں خوف خدا ناپید ہوتا جا رہا ہے۔پہلے ہماری اخلاقی اقدار، نرم دلی ، خوش گفتاری ،باہمی ہم آہنگی،برداشت و بردباری سے متاثر ہو کر دوسرے مذاہب کے لوگ جوق در دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتے تھے ۔غیر مسلم اقوام آج ہمارے تمام اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ترقی کی منازل طے کر کے ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ آج کے دور میں کونسی برائی ہے جو ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کا سبب نہیں بن رہی۔لوگوں کی آپس کی محبت و خلوص اور ہمدردی و اپنائیت کے جذبے ختم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملنا ،خبر گیری کرنا،کسی کے کام آنا اب معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے جو مساوات، ہمدردی مشاورت، بردباری، در گذر، اخوت، انصاف بلا تفریق رنگ و نسل کا سبق دیا تھا ۔ہم وہ بھلا چکے ہیں ۔ فرقہ وارانہ فسادات، نسلی اور مذہبی تعصب و امتیاز رنگ و نسل کے جھگڑوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ جو وطن اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا تھا وہاں آج قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے ۔رشوت خوری، بے انصافی عام ہے ۔ اپنائیت و خلوص کے رشتے تو مر چکے اب تو خون کے رشتے بھی قابل احترام نہیں رہے ۔عزتیں محفوظ نہیں ۔ نقب زن گھر میں ہی موجود ہوں تو کس کو محافظ بنایا جائے۔ سوشل میڈیا نے معاشرے کو تباہی کے دہانے پہ لا کھڑا کیا ہے اور ہم سمجھ رہے ہیں کہ ہم ماڈرن اور جدید دور کے لوگوں میں شامل ہوتے جارہے ہیں ۔
خدارا اپنی اخلاقی اقدار کو سمجھیں ۔اخلاقی حدود وقیود کی پاسداری کریں ۔قرآن مجید رب کریم نےصرف غلاف میں لپیٹ کر اونچے مقام پر رکھنے کے لئے نہیں اتارا ۔ اس کو پڑھنے اور سمجھنے کے ضرورت ہے ۔اس میں موجود باتیں اور قصائص اس کی ضخامت میں اضافہ کےلئے نہیں ہے ۔ہر قصہ ہمیں درس دیتا ہے۔ اللہ تعالی نے خود فرمایا کہ " اس میں سمجھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں موجود ہیں "
ان نشانیوں کو سمجھیں۔ جان لیں کہ یہ سوشل میڈیا صرف ذہنی دباو،ذہنی بیماریاں دے سکتا ہے مگر اللہ کے ذکر میں ذہنی اور دلی سکون ہے۔
"بے شک اللہ کا ذکر دلوں کو سکون دیتا ہے"۔
مزید پڑھیں





