Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

‎ہمیں انسان نہیں، کامیاب لوگ چاہیں ،تحریر:‎ انیم چوہدری

نقطہ نظر

‎اس دن گھر میں خوشی تھی۔ بیٹے کی ڈگری ہاتھ میں تھی اور ماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو۔ رشتہ دار آ رہے تھے، مبارک باد دے رہے تھے۔ کوئی کہتا، ’’ماشاءاللہ، بیٹا بہت آگے جائے گا۔‘‘ کوئی باپ کو مبارک دیتا اور کہتا، ’’چاچا! آپ کا بیٹا بڑا آدمی بن گیا۔‘‘ بوڑھا باپ کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے بیٹے کی طرف دیکھا اور دھیرے سے بولا: ’’ہاں… بڑا آدمی تو بن گیا۔‘‘

‎اس کے بعد وہ خاموش ہو گیا۔ مجھے نہیں معلوم اس جملے کے پیچھے کیا تھا، لیکن کبھی کبھی ایک چھوٹا سا جملہ پوری زندگی سے زیادہ کہہ جاتا ہے۔ اس باپ نے شاید اپنے بیٹے کی فیس کے لیے اپنی کئی خواہشیں چھوڑ دی ہوں گی۔ کبھی جوتا پرانا پہن لیا ہوگا، کبھی اپنی دوا بعد کے لیے رکھ دی ہوگی، کبھی گھر کا کوئی ضروری کام روک کر بیٹے کی کتاب خریدی ہوگی۔ اس نے بیٹے کو پڑھایا، اس امید پر کہ ایک دن وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا۔ اور وہ دن آ بھی  گیا بیٹا کامیاب ہو گیا۔ لیکن کامیاب ہونے کے بعد کیا وہ وہی بیٹا رہا جو کبھی باپ کے ساتھ سائیکل پر بیٹھ کر اسکول جاتا تھا؟ یہ سوال صرف ایک گھر کا نہیں ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا سوال ہے۔ ہم اپنے بچوں کی کامیابی کا حساب بہت غور سے رکھتے ہیں۔ کتنے نمبر آئے، کس یونیورسٹی میں داخلہ ہوا، نوکری کہاں ملی، تنخواہ کتنی ہے، گاڑی کون سی ہے، گھر کتنا بڑا ہے۔ ہم یہ سب جاننا چاہتے ہیں۔ لیکن ایک سوال شاید کہیں راستے میں رہ گیا ہے: وہ انسان کیسا بن رہا ہے؟ ہمیں اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ بچہ امتحان میں پیچھے نہ رہ جائے، لیکن کبھی کبھی یہ دیکھنا بھول جاتے ہیں کہ وہ اخلاق میں تو پیچھے نہیں رہ گیا۔ وہ اپنے سے کم حیثیت انسان کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے؟  گھر میں ملازم سے کس لہجے میں بات کرتا ہے؟ بوڑھے والدین کے پاس بیٹھنے کے لیے اس کے پاس وقت ہے یا نہیں؟

‎کسی ضرورت مند کو دیکھ کر اس کے دل میں ہمدردی پیدا ہوتی ہے یا صرف بے نیازی؟ یہ چیزیں کسی ڈگری پر نہیں لکھی جاتیں۔ اور شاید اسی لیے ہم انہیں کم اہم سمجھتے ہیں۔ ایک شخص بہت بڑی پوسٹ پر بیٹھ سکتا ہے، اس کے پاس دولت بھی ہو سکتی ہے، لوگ اس کا نام بھی جانتے ہوں گے، لیکن اگر اس کی وجہ سے اس کے قریب رہنے والے لوگ خوف، تکلیف یا محرومی میں زندگی گزار رہے ہوں تو صرف عہدہ اسے بڑا انسان نہیں بنا دیتا۔ دوسری طرف ایک عام سا آدمی بھی ہو سکتا ہے جو کسی کو راستہ دے دے، کسی پریشان شخص کی بات سن لے، بوڑھے والدین کے ساتھ چند لمحے بیٹھ جائے، یا کسی ضرورت مند کی مدد اس طرح کرے کہ سامنے والے کی عزت بھی محفوظ رہے۔دنیا شاید اس کا نام نہ جانتی ہو۔ لیکن کسی کی زندگی میں اس کا کردار ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے ہم نے بچوں کو کامیابی کا مطلب کچھ زیادہ ہی

‎مختصر کرکے سمجھا دیا ہے۔ ہم کہتے ہیں،

‎

‎’’پڑھو تاکہ بڑا آدمی بنو۔‘‘

‎’’محنت کرو تاکہ بہت پیسہ کماؤ۔‘‘

‎’’آگے بڑھو تاکہ لوگ تمہیں پہچانیں۔‘‘

‎

‎یہ سب اپنی جگہ ضروری ہے۔ والدین کا خواب بھی غلط نہیں۔ ہر ماں باپ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد اس سے بہتر زندگی گزارے۔ لیکن شاید اس کے ساتھ ایک جملہ اور بھی ہونا چاہیے: ’’آگے ضرور بڑھنا، مگر کسی کو پیچھے دھکیل کر نہیں۔‘‘ اپنے خواب پورے کرنا، مگر کسی کا خواب نہ توڑنا۔ دولت کمانا، مگر دل غریب نہ کر لینا۔ اختیار ملے تو لوگوں کو دبانا نہیں، سہارا دینا۔

‎اور جب زندگی تمہیں وہاں پہنچا دے جہاں لوگ تمہارے سامنے کھڑے ہوں، تو یہ مت بھولنا کہ کبھی تم بھی کسی کے سہارے کھڑے تھے۔ سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب والدین اپنے بچوں کی کامیابی دیکھنے کے لیے تو زندہ رہتے ہیں، مگر ان کی مصروف زندگی میں ان کے لیے جگہ نہیں رہتی۔ ماں کو بیٹے سے صرف مہنگا تحفہ نہیں چاہیے ہوتا۔ کبھی کبھی وہ صرف یہ چاہتی ہے کہ بیٹا چند منٹ اس کے پاس بیٹھ جائے۔ باپ کو ہر بار پیسے نہیں چاہیے ہوتے۔ کبھی وہ صرف یہ سننا چاہتا ہے: ’’ابا، آپ کیسے ہیں؟‘‘ شاید یہی وہ چیزیں ہیں جنہیں ہم کامیابی کی دوڑ میں بہت معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اور پھر ایک دن ہمارے پاس ڈگریاں ہوتی ہیں، عہدے ہوتے ہیں، بینک بیلنس ہوتا ہے، لوگوں میں نام ہوتا ہے۔مگر وہ لوگ نہیں ہوتے جن کے لیے یہ سب حاصل کیا تھا۔ اس لیے اپنے بچوں کو ضرور کامیاب بنائیں۔ انہیں پڑھائیں، آگے بڑھائیں، ان کے خواب پورے کرنے میں ان کا ساتھ دیں۔ لیکن ان کے ساتھ انسان بننے کی بات بھی کرتے رہیں۔

‎کیونکہ زندگی کے آخر میں شاید کوئی یہ نہیں گنے گا کہ آپ کتنی بڑی کرسی پر بیٹھے تھے۔ لوگ یہ یاد رکھیں گے کہ آپ کی وجہ سے کتنے لوگوں کو سکون ملا تھا,اور شاید اس بوڑھے باپ کے جملے کا اصل مطلب بھی یہی تھا: ’’ہاں… بڑا آدمی تو بن گیا، بس دیکھنا یہ ہے کہ انسان کتنا بنا ہے۔‘‘

‎

‎