بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حسد یا نظرِ بد؟ تحریر: ایس اے شازِم

نقطہ نظر
s a shazim

زندگی رب کی طرف سے دیا ہوا ایک خوبصورت اور انمول تحفہ ہے۔ جس کی ہم جتنی بھی قدر کریں کم ہے۔

کبھی کبھی زندگی کتنی خوب صورت ہوتی ہے! گھر کے آنگن میں ہنسی کے پھول کھلتے ہیں، رشتوں میں محبت کی خوشبو بکھرتی ہے، بچوں کی معصوم آوازیں دیواروں سے ٹکرا کر لوٹتی ہیں، ماں کی دعائیں گھر کی فضا میں سکون گھولتی ہیں اور باپ کی محنت سے حاصل ہونے والی چھوٹی چھوٹی خوشیاں پورے خاندان کے چہروں پر اطمینان بکھیر دیتی ہیں۔ انسان اپنے رب کی نعمتوں کو دیکھ کر دل ہی دل میں شکر ادا کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ زندگی کی اصل دولت یہی تو ہے؛ چند مخلص رشتے، گھر بھر کی مسکراہٹیں، دل کا سکون اور اپنے حصے کی تھوڑی سی خوشی۔

لیکن پھر کبھی اچانک دل میں ایک انجانا سا خوف جنم لینے لگتا ہے۔ کسی کی مسلسل تعریف، کسی کی حسرت بھری نگاہ، کسی کے رویّے میں چھپی تلخی یا کسی خوش حال گھرانے کو دیکھ کر پیدا ہونے والی بے نام سی بے چینی، انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ کیا ہماری خوشیاں بھی کسی کی بری نظر کا نشانہ بن سکتی ہیں؟

ہم نے اپنے بزرگوں سے اکثر سنا ہے کہ خوشی کو سنبھال کر رکھو، ہر بات ہر کسی کو نہ بتاؤ، ہر نعمت کی نمائش ضروری نہیں اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے مخلصی تلاش کرنا بھی آسان نہیں۔ شاید اسی لیے بعض لوگ اپنی خوشیوں کا ذکر کرتے ہوئے جھجکتے ہیں، اپنی کامیابیوں کو چھپانے لگتے ہیں اور اپنی زندگی کے خوب صورت لمحوں کو لوگوں کی نگاہوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بری نظر کا خوف اتنا بڑا ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی خوشیوں سے لطف اندوز ہونا ہی چھوڑ دے؟

اسلام اس معاملے میں ہمیں نہ تو حقیقت سے آنکھیں بند کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہی ہر پریشانی کو نظرِ بد قرار دے کر خوف میں مبتلا رہنے کی۔ اسلام ہمیں حقیقت کو سمجھنے، اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے، اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرنے اور دلوں کو حسد و بدگمانی سے پاک رکھنے کا راستہ دکھاتا ہے۔

میں اس بات کو مانتی ہوں کہ نظرِ بد ایک حقیقت ہے محض ہمارا وہم نہیں ہے۔ کیوں کہ نظرِ بد کے بارے میں رسول اللّہ ﷺ کی واضح رہنمائی موجود ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللّہ ﷺ نے فرمایا:


«الْعَيْنُ حَقٌّ»


ترجمہ: "نظرِ بد لگنا حقیقت ہے۔"


حوالہ: صحیح مسلم، کتاب السلام، حدیث 2187۔


یہ ہے تو مختصر مگر واضح حدیث ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ نظرِ بد اسلامی تعلیمات میں ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ اس لیے اسے محض ایک بے بنیاد خیال کہہ کر رد کرنا درست نہیں۔ تاہم اس حقیقت کو ماننے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم زندگی میں پیش آنے والے ہر حادثے، بیماری، اختلاف یا ناکامی کی وجہ نظرِ بد کو قرار دے دیں۔ کسی خاص شخص پر الزام لگانا، بغیر دلیل کے کسی کی نیت کو برا سمجھنا یا ہر ناخوش گوار واقعے کو کسی کی نگاہ کا نتیجہ قرار دینا درست رویہ نہیں۔

انسان کی زندگی میں بہت سے مسائل قدرتی حالات، جسمانی بیماریوں، نفسیاتی دباؤ، غلط فیصلوں اور باہمی اختلافات کے باعث بھی پیدا ہوتے ہیں۔ دانائی اسی میں ہے کہ ہم دعا اور توکل کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندانہ انداز میں مسائل کا حل بھی تلاش کریں۔

مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات انسان دوسروں کی خوشیوں کو دیکھ کر اپنے دل میں حسرت کے بجائے حسد پال لیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جو سکون دوسرے کے گھر میں ہے، وہ باقی نہ رہے؛ جو خوشی کسی کے چہرے پر ہے، وہ ماند پڑ جائے؛ جو کامیابی کسی کو ملی ہے، وہ اس سے چھن جائے۔

یہیں سے ایک ایسا اخلاقی زوال شروع ہوتا ہے جو صرف دوسروں کی خوشیوں کو نہیں، انسان کے اپنے دل کو بھی بے سکون کر دیتا ہے۔ حسد صرف کسی کی کامیابی دیکھ کر دل میں پیدا ہونے والی ایک وقتی کیفیت نہیں بلکہ اس وقت ایک خطرناک اخلاقی بیماری بن جاتا ہے جب انسان دوسرے کی نعمت ختم ہونے کی خواہش کرنے لگے۔ کسی کے پاس محبت ہے تو اسے چھین لینے کی تمنا، کسی کا گھر آباد ہے تو اس کی خوشی سے جلنا، کسی کے بچے کامیاب ہیں تو ان کی کامیابی کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش اور کسی کو عزت مل رہی ہے تو اس کی عزت پر حرف لانے کی خواہش! یہ سب وہ رویّے ہیں جو رشتوں کی بنیادوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتے ہیں۔


قرآنِ مجید میں اللّہ تعالیٰ ہمیں حاسد کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دیتا ہے:


وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ


ترجمہ: ’’اور حسد کرنے والے کے شر سے، جب وہ حسد کرے۔‘‘


حوالہ: القرآن، سورۃ الفلق، 113:5۔


غور کیجیے، اللّہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی کہ ہم حسد کرنے والے کے شر سے اس کی پناہ طلب کریں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کا اصل سہارا لوگوں سے خوف کھانا نہیں، بلکہ اپنے رب کی حفاظت پر بھروسہ رکھنا ہے۔

کسی کی خوش حالی دیکھ کر دل میں یہ خیال پیدا ہونا کہ کاش میرے پاس بھی ایسی نعمت ہوتی، یہ اور بات ہے؛ لیکن یہ چاہنا کہ دوسرے سے وہ نعمت چھن جائے، بالکل مختلف بات ہے۔ ایک کیفیت انسان کو محنت، دعا اور امید کی طرف لے جا سکتی ہے، جب کہ دوسری کیفیت دل میں تلخی، نفرت اور بے سکونی پیدا کرتی ہے۔

کتنا خوب صورت معاشرہ ہو اگر ہم کسی کے گھر کی خوشی دیکھ کر یہ نہ سوچیں کہ اس کے پاس اتنا کیوں ہے، بلکہ یہ دعا کریں کہ اللّہ تعالیٰ اسے بھی برکت دے اور ہمیں بھی اپنے فضل سے نوازے۔

کسی کی خوشی پر دل سے مبارک باد دینا، کسی کی کامیابی پر خوش ہونا اور کسی کی نعمت دیکھ کر اس کے لیے خیر کی دعا کرنا بھی دل کی خوب صورتی ہے۔ اصل امتحان یہی ہے کہ ہم دوسروں کی خوشیوں کو دیکھ کر اپنے دل میں کیا پیدا کرتے ہیں: دعا یا حسد، محبت یا نفرت، خیر خواہی یا بدخواہی؟

بحیثیت ماں میں نے اکثر دیکھا ہے کہ کبھی کبھی ایک ماں اپنے بچے کو دیکھ کر پھولے نہیں سماتی۔ اس کی چھوٹی چھوٹی کامیابیاں اس کے لیے دنیا کی سب سے بڑی دولت ہوتی ہیں۔ وہ بچے کی مسکراہٹ پر صدقے واری جاتی ہے، اس کے روشن مستقبل کے خواب دیکھتی ہے اور ہر نماز میں اس کے لیے خیر مانگتی ہے۔ پھر جب کوئی اس بچے کی تعریف کرتا ہے تو ماں کے دل میں خوشی کے ساتھ ایک انجانا سا خوف بھی جاگ اٹھتا ہے۔ وہ فوراً دعا دیتی ہے، اللّہ کا نام لیتی ہے اور اپنے رب سے اس کی حفاظت مانگتی ہے۔

اسی طرح ایک باپ اپنی بیٹی کی کامیابی پر فخر کرتا ہے۔ برسوں کی محنت، قربانیوں اور دعاؤں کے بعد جب اس کی بیٹی اپنے مقصد میں کامیاب ہوتی ہے تو باپ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ جاتے ہیں۔ مگر بعض اوقات معاشرے کے چند لوگ اس کامیابی کو سراہنے کے بجائے اس میں عیب تلاش کرنے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے، "اتنی بھی کیا خاص بات ہے؟" اور "ایسا بھی کیا تیر مار لیا" جیسے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔ کوئی اس کی محنت کو قسمت کا کھیل قرار دیتا ہے اور کوئی اس کی خوشی کو کم کرنے کے لیے طنز کا تیر چلا دیتا ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ ہر دکھ کا تعلق نظرِ بد سے نہیں ہوتا؛ بعض زخم لوگوں کے الفاظ بھی دیتے ہیں، بعض دل ان کے رویّے توڑتے ہیں اور بعض خوشیاں دوسروں کی بے جا تنقید کے باعث اپنی چمک کھو دیتی ہیں۔ بری نظر سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ دل ہوتا ہے جو دوسرے کی خوشی برداشت نہیں کر پاتا۔

کسی کا گھر آباد ہو تو اس کے گھر میں اختلافات تلاش کیے جاتے ہیں۔ کسی کے میاں بیوی محبت سے رہتے ہوں تو ان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی بہن بھائی میں محبت ہو تو بعض لوگ ان کے کان بھرنے لگتے ہیں۔ کسی کو عزت ملے تو اس کی کردار کشی شروع ہو جاتی ہے۔ یوں بعض اوقات انسان کی خوشیوں کو نقصان کسی پراسرار قوت سے نہیں، بلکہ لوگوں کے حسد، منفی رویّوں، مداخلت اور بے احتیاط الفاظ سے پہنچتا ہے۔

ایسے حالات میں ہمیں یہ فرق سمجھنا چاہیے کہ نظرِ بد ایک اسلامی حقیقت ہے، جب کہ ہر خراب رشتے یا پریشانی کو اس کا نتیجہ سمجھ لینا درست نہیں۔ اپنے دل کو خوف اور بدگمانی کے حوالے کرنے کے بجائے ہمیں دعا، حکمت، صبر اور اچھے رویّوں کو اختیار کرنا چاہیے۔

اللّہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے ذریعے ہمیں مختلف شرور سے اپنی پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے۔ سورۃ الفلق میں حاسد کے شر سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے، جب کہ سورۃ الناس میں وسوسے ڈالنے والے کے شر سے اللّہ کی حفاظت طلب کی گئی ہے۔

قرآن کی تعلیم خوف میں جینے کی نہیں، اللہ کی پناہ میں امید کے ساتھ جینے کی تعلیم ہے۔

نظرِ بد سے حفاظت کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی سنت ہمارے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نظرِ بد سے بچاؤ کے لیے دم کرنے کی ہدایت فرمائی۔


حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الطب، حدیث 5738۔


اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نظرِ بد سے حفاظت کے لیے شرعی دم اور دعا کا راستہ موجود ہے۔ انسان قرآنِ مجید کی تلاوت، مسنون اذکار اور اللہ تعالیٰ سے دعا کے ذریعے حفاظت طلب کر سکتا ہے۔


عملی طور پر چند باتیں اپنائی جا سکتی ہیں:


* صبح و شام کے مسنون اذکار کا اہتمام کریں۔


* سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے حفاظت مانگیں۔


* اپنی خوشیوں اور نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کریں۔

* کسی کی نعمت دیکھیں تو حسد کے بجائے اس کے لیے برکت کی دعا کریں۔

* بیماری یا مسلسل پریشانی کی صورت میں مناسب طبی یا عملی مدد لینے سے گریز نہ کریں۔

* کسی فرد کو محض شک کی بنیاد پر نظر لگانے والا قرار نہ دیں اور نہ ہی اس کے ساتھ بدسلوکی کریں۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ حفاظت کے نام پر ایسے توہمات، بے بنیاد دعووں یا مشکوک طریقوں پر انحصار نہ کیا جائے جن کی شرعی بنیاد معلوم نہ ہو۔ مومن کے لیے سب سے مضبوط سہارا اللہ تعالیٰ پر توکل اور اس کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل ہے۔


ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خوشیوں کی نمائش بھی ہوتی ہے اور ان پر تنقید بھی۔ کبھی کسی کی نئی گاڑی موضوعِ گفتگو بن جاتی ہے، کبھی کسی کا نیا گھر، کبھی کسی کی شادی، کبھی کسی کی اولاد کی کامیابی اور کبھی کسی کی ادبی یا پیشہ ورانہ پذیرائی۔


سوشل میڈیا نے اس صورتِ حال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ لوگ اپنی زندگی کے خوب صورت لمحات دوسروں کے ساتھ بانٹتے ہیں، مگر بعض اوقات انہی لمحوں پر طنز، مقابلے بازی یا بے جا تنقید شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں اپنی نجی زندگی کی حدود قائم رکھنا دانش مندی ہے، لیکن ہر وقت لوگوں کی نگاہوں سے خوف زدہ رہنا بھی ضروری نہیں۔


ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر نعمت کی نمائش ضروری نہیں، مگر ہر نعمت کو خوف کے پردے میں چھپانا بھی لازم نہیں۔


اپنی نجی زندگی کی حفاظت کیجیے، اپنی خوشیوں کو سادگی سے منائیے، اپنی کامیابیوں پر شکر ادا کیجیے اور دوسروں کی رائے کو اپنی زندگی کا فیصلہ نہ بننے دیجیے۔ اگر کوئی آپ کی خوشی پر خوش نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی خوشی منانا چھوڑ دیں۔ اگر کوئی آپ کی کامیابی کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی محنت کی قدر کرنا بھول جائیں۔

زندگی اللہ کی عطا کردہ نعمت ہے۔ اس میں خوش ہونا، شکر ادا کرنا، محبت کرنا اور امید رکھنا بھی ضروری ہے۔

درد اس وقت بڑھ جاتا ہے جب نظرِ بد کا خوف انسان کو اپنے ہی رشتوں سے دور کرنے لگتا ہے۔

ایک بہن سوچتی ہے کہ شاید دوسری بہن اس کی خوشیوں سے جلتی ہے۔ ایک بھائی کو شبہ ہوتا ہے کہ شاید اس کے اپنے ہی اس کی ترقی برداشت نہیں کر پا رہے۔ ایک عورت کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے گھر کی خوشی کسی قریبی رشتے دار کو پسند نہیں۔ پھر دل میں ایسے سوالات جنم لیتے ہیں جن کا کوئی واضح جواب نہیں ہوتا۔

خاموشیاں بڑھتی ہیں، فاصلے پیدا ہوتے ہیں اور محبت کی جگہ بدگمانی لے لیتی ہے۔ وہ رشتے جنہیں اعتماد، گفتگو اور خلوص سے مضبوط بنایا جا سکتا تھا، بے بنیاد اندیشوں کی نذر ہونے لگتے ہیں۔

ذرا سوچیے! اگر کسی کی نظر سے بچنے کی کوشش میں ہم اپنے ہی لوگوں کی محبت پر شک کرنے لگیں تو کیا ہم نے اپنی خوشیوں کی حفاظت کی یا اپنے ہاتھوں ان کی بنیادیں کمزور کر دیں؟

یاد رکھیے، کسی کے دل کا حال اللّہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ہمیں لوگوں کے ظاہر رویّوں اور ثابت شدہ اعمال کی بنیاد پر معاملات سمجھنے چاہییں، نہ کہ ہر اختلاف کو حسد اور ہر پریشانی کو نظرِ بد کا نتیجہ قرار دینا چاہیے۔

اگر کسی رشتے میں واقعی تکلیف دہ رویّے موجود ہوں تو ان پر بات کیجیے، حدود قائم کیجیے اور ضرورت پڑنے پر کسی قابلِ اعتماد شخص کی مدد لیجیے۔ مگر محض اندیشوں کی بنیاد پر کسی کی نیت پر فیصلہ نہ سنائیے۔

کبھی کبھی خوشیوں کی حفاظت کے لیے بری نظر سے بچنے کی دعا کے ساتھ ساتھ اپنے دل کو بدگمانی سے بچانا بھی ضروری ہوتا ہے۔

آخر میں بات پھر وہیں آتی ہے کہ بری نظر ایک حقیقت ہے، حسد ایک اخلاقی بیماری ہے اور بدگمانی ایک ایسا بوجھ ہے جو انسان کے اپنے دل کا سکون چھین سکتا ہے۔ ان تینوں معاملات کو سمجھنا ضروری ہے مگر انہیں ایک ہی چیز سمجھ لینا درست نہیں۔

نظرِ بد سے حفاظت کے لیے اللّہ تعالیٰ کی پناہ مانگیے۔ حسد سے بچنے کے لیے اپنے دل کی اصلاح کیجیے۔ اور بدگمانی سے بچنے کے لیے دوسروں کے بارے میں فیصلے کرنے میں احتیاط کیجیے۔

زندگی بہت مختصر ہے۔ اسے اس خوف میں ضائع نہ کیجیے کہ کون ہماری خوشیوں سے جلتا ہے، کون ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے اور کون ہماری کامیابی برداشت نہیں کر پاتا۔ اپنی نجی زندگی کی حفاظت ضرور کیجیے مگر اپنے دل کے دروازے امید، محبت اور شکر کے لیے کھلے رکھیے۔ کیونکہ ہر شخص کی نگاہ سے بچنا ہمارے اختیار میں نہیں، لیکن اللّہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا، اپنے رویّے بہتر بنانا اور اپنے دل کو نفرت سے محفوظ رکھنا ہمارے اختیار میں ہے۔

اور شاید یہ تحریر لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم اپنی خوشیوں کو لوگوں کی نگاہوں کے خوف میں اتنا نہ چھپائیں کہ خود بھی انہیں دیکھنا بھول جائیں۔

اللّہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے، ہمارے گھروں میں محبت و سکون قائم فرمائے، ہماری نعمتوں میں برکت عطا کرے، ہمیں حسد کرنے سے بھی بچائے اور حاسدین کے شر سے بھی اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔