انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرنے والی نعمتوں میں قوتِ اظہار سب سے نمایاں ہے۔ وہ سوچتا ہے ، سوال اٹھاتا ہے اور اپنے خیال کو لفظوں کا لباس پہناتا ہے۔ مگر تاریخ کی ایک عجیب ستم ظریفی ہے: جسے بولنے کی نعمت ملی وہی اپنے عہد کے اہم ترین سوالات پر اکثر چپ نظر آتا ہے۔ آخر کیوں؟ کیا یہ محض خوف ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہرا فکری اور اخلاقی بحران بھی ہے؟
قرآنِ حکیم بنیاد کی طرف رہنمائی کرتا ہے:
خَلَقَ الْإِنسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ
(سورۂ رحمٰن، آیات 3 تا 4)
"اس نے انسان کو پیدا کیا، اسے بیان سکھایا۔"
وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا
(سورۂ بقرہ، آیت 31)
"اور اس نے آدمؑ کو سب نام سکھا دیے۔"
صلاحیت تو عطا ہو چکی تو پھر مسئلہ بولنے کی قوت کا نہیں اس کے استعمال کا ہے۔ بچہ دنیا میں آتے ہی پہلی آواز سے اپنے ہونے کا اعلان کرتا ہے مگر وقت گزرتے گزرتے اس آواز پر خوف ، مصلحت اور معاشرتی دباؤ کی پرتیں چڑھ جاتی ہیں۔ کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے ، کہنے کی جرأت کم پڑ جاتی ہے۔
اس خاموشی کی جڑیں ہماری اجتماعی نفسیات میں ہیں۔ ہم اپنی رائے بنانے کے بجائے دوسروں کے خیالات ادھار لینے کے عادی ہو گئے ہیں۔ خاندان کی روایت ، مجمع کی رائے اور سب سے بڑھ کر "لوگ کیا کہیں گے؟" ہماری فکری آزادی کو باندھ دیتے ہیں۔ ہمارا نظامِ تعلیم بھی سوال پوچھنا نہیں ، جواب رٹنا سکھاتا ہے۔ نتیجہ ایسی نسل ہے جو معلومات جمع کر لیتی ہے مگر تجزیہ کرنے اور دلیل سے بات رکھنے میں جھجکتی ہے۔ حالانکہ زندہ معاشرے کی پہچان بلند آوازیں نہیں ، سوال کرنے ، اختلاف سننے اور دلیل ماننے کا حوصلہ ہے۔
اس سے بھی خطرناک مرحلہ وہ ہے جب خاموشی بے حسی بن جائے۔ ظلم سامنے ہو قانون پامال ہو رہا ہو ، طاقت کسی منصب کی آڑ میں بے لگام ہو اور ہم اپنے روایتی خوف کی وجہ سے چپ رہیں تو یہ عدم مداخلت نہیں رہتی ایک اخلاقی سوال بن جاتی ہے۔ ظلم کو ظالم کی قوت ہی نہیں معاشرے کی بے حسی بھی زندہ رکھتی ہے۔ ظلم نہ سنتا ہے ، نہ دیکھتا ہے ، نہ بولتا ہے؛ اسے صرف کسی کی آواز روک سکتی ہے۔ جب وہ آواز نہ اٹھے تو ناانصافی کو اجازت مل جاتی ہے۔ مگر حق گوئی کا مطلب شور یا تصادم نہیں ، دلیل اور وقار کے ساتھ سچ کہنا ہے۔
ہم حقوق مانگنے میں تو پیش پیش ہیں مگر ذمہ داریوں پر چپ۔ قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں لیکن اپنی سہولت کے لیے اسی قانون کو توڑنے سے نہیں چوکتے۔ ملاوٹ ، رشوت اور سفارش پر دوسروں کا احتساب مانگتے ہیں اور اپنی کوتاہی سے نظر چرا لیتے ہیں۔ حقوق اور ذمہ داریاں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جو اپنے کردار کا حساب نہیں دیتا وہ دوسروں سے انصاف مانگنے کی اخلاقی طاقت کھو دیتا ہے۔
تو کیا بولنے کا مطلب صرف کسی کے نعرے دہرانا ہے؟ ذرا ہمارے معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھیے۔ ہم نے مسئلوں کو چہرے دے دیے ہیں اور حل کو بھی۔ ایک طرف وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ مہنگائی ، بدامنی اور لاقانونیت کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان کا محبوب رہنما کرسی پر نہیں۔ دوسری طرف وہ ہیں جن کے نزدیک ہر خرابی کی جڑ کوئی ایک مخالف چہرہ ہے۔ دونوں کا ایمان ایک سا ہے: وہ آ جائے تو سب ٹھیک ورنہ کچھ ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ کوئی "آوے ای آوے" کہتا ہے اور کوئی "جاوے ای جاوے"، مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آ کر کرے گا کیا اور جو جا چکا وہ کیا کر گیا؟
یہ علامت ہے اصل مرض نہیں ! اصل مرض یہ ہے کہ ہم نے سوچنے کا کام کسی اور کے سپرد کر دیا ہے۔ دہشت گردی کی جڑیں ، معیشت کی گتھیاں ، عالمی حالات کا دباؤ اور اداروں کی کمزوری ایک شخص کے آنے جانے سے سلجھنے والے معاملے نہیں ، یہ برسوں میں پڑی گرہیں ہیں اور گرہیں کھولنے کے لیے چہرے نہیں، صبر ، ارادے اور مسلسل جدوجہد چاہیے۔ جو مسئلے کو ایک چہرے میں سمیٹ دیتا ہے وہ سوچنے کی زحمت سے تو بچ جاتا ہے مگر اس کی قیمت پوری قوم چکاتی ہے۔ عقیدت دل کی امید ہے اسے آنکھوں کی روشنی سے محروم نہ کیجیے۔ اپنے رہنما سے بھی یہ پوچھنے کی ہمت ہونی چاہیے: تمہارا منصوبہ کیا ہے؟
تبدیلی کوئی نعرہ نہیں ایک رویہ ہے۔ وہ گھر ، دفتر ، دکان اور محلے میں بولے گئے ایک چھوٹے سے سچ سے شروع ہوتی ہے۔ ہمارے حالات کسی سے چھپے نہیں ، وسائل کم ہیں ، مسائل زیادہ اور اردگرد بے چینی ہے مگر میں ناامید نہیں۔ میں اندھیرے میں بھی چراغ جلائے رکھتا ہوں۔ اسی لیے میری نظر نوجوانوں پر ہے جنہیں ہمیں صرف بولنا نہیں ، سوچنا ، سوال کرنا اور اختلاف کے آداب بھی سکھانے ہیں۔
تو سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے: ہم بولتے کیوں نہیں؟






