Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وقت نہیں گزرتا، ہم گزر رہے ہیں،تحریر: مریم خان

نقطہ نظر

ہم اکثر اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار وقت کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ کہتے ہیں وقت ہمارے حق میں نہیں تھا۔ حالات سازگار نہیں تھے۔ موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ قسمت نے ساتھ نہیں دیا۔ مگر کبھی ہم نے رک کر یہ سوچنے کی کوشش کی ہے کہ وقت گزرا ہے یا ہم گزر رہے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ وقت اپنی رفتار سے چل رہا ہے۔ نہ وہ کسی کے لیے رکتا ہے نہ کسی کے لیے اپنی رفتار بدلتا ہے۔ دن رات کا سلسلہ جاری ہے۔ موسم بدل رہے ہیں۔ سال گزر رہے ہیں اور ہماری زندگی بھی اسی بہاؤ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وقت کے گزرنے کی شکایت کرنے کے بجائے ہمیں اپنے گزرنے کا احساس کرنا چاہیے۔

ہماری بہت سی ناکامیاں دراصل وقت کی ناکامیاں نہیں ہوتیں بلکہ ہماری اپنی غفلتوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ہم فیصلے مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ ضروری کام کل پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کے باوجود انہیں استعمال نہیں کرتے اور پھر ایک دن پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ بہت کچھ ہاتھ سے نکل چکا ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ وقت نہیں ملا۔ مگر اگر غور کریں تو مسئلہ اکثر وقت کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی کمی ہوتی ہے۔ ہم ان کاموں کے لیے گھنٹوں نکال لیتے ہیں جو ہماری زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لاتے لیکن جس کام سے ہماری زندگی سنور سکتی ہے اسے یہ کہہ کر مؤخر کر دیتے ہیں کہ ابھی وقت نہیں۔ یوں ایک دن کا انتظار ہفتے میں بدل جاتا ہے، ہفتہ مہینے میں اور مہینے سال میں۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وقت ہمارے خلاف نہیں ہے۔ وقت تو سب کے لیے یکساں ہے۔ کسی کے پاس چوبیس گھنٹے کم نہیں ہوتے اور کسی کے پاس زیادہ نہیں۔ فرق صرف اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ ہم ان گھنٹوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ کوئی انہی چوبیس گھنٹوں میں اپنی منزل کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے اور کوئی انہی گھنٹوں کو شکایتوں، خوف اور تذبذب میں گزار دیتا ہے۔

کبھی کبھی ہم دوسروں کی کامیابی دیکھ کر کہتے ہیں کہ اسے وقت نے موقع دیا۔ مگر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ اس شخص نے اپنے وقت کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اس نے کتنی بار ناکامی کا سامنا کیا۔ کتنی بار دوبارہ آغاز کیا اور کتنی مرتبہ اپنے خوف کو پیچھے چھوڑ کر قدم آگے بڑھایا۔ ہمیں کامیابی کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے مگر اس کے پیچھے گزرے ہوئے برس، چھوڑی ہوئی آسائشیں اور مسلسل محنت دکھائی نہیں دیتی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر شخص کو زندگی میں یکساں مواقع نہیں ملتے۔ کسی کے راستے میں مشکلات زیادہ ہوتی ہیں اور کسی کے لیے راستے نسبتاً آسان ہوتے ہیں۔ کسی کو وسائل میسر ہوتے ہیں اور کوئی محدود وسائل کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھتا ہے۔ لیکن مشکل حالات کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے۔ حالات ہمارے اختیار میں نہ بھی ہوں تو ان حالات کے اندر ہمارا ردعمل ضرور ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔

بعض اوقات انسان اپنے ماضی کی غلطیوں کو اتنا بڑا بنا لیتا ہے کہ مستقبل کے امکانات ہی نظر نہیں آتے۔ وہ سوچتا رہتا ہے کہ اگر میں نے اس وقت یہ فیصلہ کیا ہوتا تو آج میری زندگی مختلف ہوتی۔ اگر میں نے وہ موقع ضائع نہ کیا ہوتا تو آج میں کامیاب ہوتا۔ اگر میں نے وقت پر قدم اٹھایا ہوتا تو شاید حالات بہتر ہوتے۔ لیکن زندگی اگر اور مگر سے آگے بڑھنے کا نام ہے۔ ماضی واپس نہیں آتا مگر اس سے سبق ضرور لیا جا سکتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہماری عمر ہی نہیں بڑھ رہی بلکہ ہماری ذمہ داریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ جو کام آج ہم نہیں کرتے ممکن ہے کل وہ زیادہ مشکل ہو جائے۔ بچوں کی تربیت ہو، تعلیم کا حصول ہو، کوئی ہنر سیکھنا ہو، صحت کا خیال رکھنا ہو یا اپنے معاشرے کے لیے کچھ کرنا ہو، ہر کام کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے۔ ہر چیز کو کل پر چھوڑنے والا انسان بالآخر اپنے ہی بنائے ہوئے انتظار میں پھنس جاتا ہے۔

زندگی میں ہر شخص کے پاس ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب اسے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ صرف حالات کا شکوہ کرے گا یا اپنے حالات بدلنے کے لیے کوئی قدم بھی اٹھائے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اور وقت کا تعلق بدل جاتا ہے۔ وقت صرف گزرنے والی چیز نہیں رہتا بلکہ ہمارے فیصلوں کا گواہ بن جاتا ہے۔

ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ اگر وقت واقعی گزر رہا ہے تو ہم اس کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم صرف شکایتیں جمع کر رہے ہیں یا اپنی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی بھی لا رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی صلاحیتوں کو استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے کچھ کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے معاشرے کے لیے کوئی ایسا کام کر رہے ہیں جس کا اثر ہمارے بعد بھی باقی رہے؟

یہ سوال صرف فرد کی زندگی تک محدود نہیں۔ بحیثیت معاشرہ بھی ہمیں اپنے رویوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہم مسائل پر گفتگو بہت کرتے ہیں مگر ان کے حل کے لیے عملی قدم کم اٹھاتے ہیں۔ ہم تعلیم کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں مگر کتاب سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم بچوں کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں مگر ان کے لیے محفوظ اور بہتر ماحول بنانے میں اپنی ذمہ داری بھول جاتے ہیں۔ ہم تبدیلی چاہتے ہیں مگر اکثر تبدیلی کا آغاز اپنے آپ سے کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

وقت کو الزام دینا اس لیے بھی آسان ہے کہ اس میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کرنی پڑتی۔ اگر ہم کہیں کہ وقت خراب تھا تو ذمہ داری ہم سے ہٹ کر ایک ایسی چیز پر چلی جاتی ہے جس سے کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر ہم یہ مان لیں کہ کہیں نہ کہیں ہماری غفلت، کمزوری یا غلط فیصلہ بھی ہماری ناکامی کا سبب تھا تو پھر ہمیں اپنے اندر جھانکنا پڑے گا۔ یہی خود احتسابی مشکل بھی ہے اور ضروری بھی۔

وقت گزرنے کی شکایت بہت آسان ہے۔ مشکل یہ ہے کہ انسان اپنے حصے کا کام کرے۔ اپنی غلطی تسلیم کرے۔ اپنی سمت درست کرے اور آج سے وہ قدم اٹھائے جسے وہ برسوں سے کل پر چھوڑتا آیا ہے۔ زندگی ہمیشہ بڑے فیصلوں سے نہیں بدلتی۔ کبھی ایک چھوٹا سا فیصلہ بھی انسان کی سمت بدل دیتا ہے۔ روزانہ تھوڑا سا وقت مطالعے کے لیے نکالنا، کوئی نیا ہنر سیکھنا، کسی غلط عادت کو چھوڑنا، کسی رشتے کو وقت دینا یا کسی ضروری کام کا آغاز کرنا بھی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

شاید ہمیں اپنی گفتگو سے یہ جملہ نکال دینا چاہیے کہ وقت گزر رہا ہے۔ اس کے بجائے ہمیں کہنا چاہیے کہ ہم گزر رہے ہیں۔ وقت تو اپنی جگہ موجود ہے۔ گزرنے والے ہم ہیں۔ اس لیے اصل فکر وقت کی نہیں ہونی چاہیے بلکہ اپنے عمل کی ہونی چاہیے۔

ہمیں یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کو صرف گزرنے دینا چاہتے ہیں یا اسے کوئی معنی بھی دینا چاہتے ہیں۔ ہر دن جو ہماری زندگی میں آتا ہے وہ واپس نہیں آتا۔ کل کا دن ہماری یاد میں رہ سکتا ہے مگر ہماری گرفت میں نہیں۔ ہمارے اختیار میں صرف آج ہے۔ اسی آج میں ہم اپنی آنے والی زندگی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

آخرکار ہماری زندگی کا حساب اس بات سے نہیں ہوگا کہ ہمارے پاس کتنا وقت تھا بلکہ اس بات سے ہوگا کہ ہم نے اپنے حصے کے وقت میں کیا کیا۔ کتنے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی۔ کتنے خوابوں کو حقیقت بنانے کی کوشش کی۔ اپنی صلاحیتوں سے کتنا فائدہ اٹھایا اور اپنی موجودگی سے اپنے اردگرد کی دنیا میں کیا فرق پیدا کیا۔

وقت کو الزام دینے سے بہتر ہے کہ ہم اپنا راستہ دیکھیں۔ شاید وقت نہیں بدلا مگر ہم آج بھی خود کو بدل سکتے ہیں۔ شاید بہت سے مواقع گزر گئے ہوں مگر زندگی ابھی باقی ہے۔ شاید کچھ فیصلے دیر سے ہوئے ہوں مگر دیر کا مطلب ہمیشہ اختتام نہیں ہوتا۔ جب تک انسان کے اندر عمل کی خواہش اور آگے بڑھنے کا حوصلہ باقی ہے تب تک راستے بھی باقی رہتے ہیں۔

اس لیے اگلی بار جب دل میں یہ خیال آئے کہ وقت گزر رہا ہے تو ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے پوچھیں: وقت کہاں گزر رہا ہے؟ شاید جواب ہمارے سامنے ہی ہو۔ وقت اپنی جگہ رواں ہے، گزرنے والے ہم ہیں۔ اور اگر گزرنا ہی ہے تو کیوں نہ ایسے گزریں کہ ہمارے گزرنے کے بعد ہماری محنت، ہمارے فیصلے اور ہمارے اچھے کام کچھ دیر اور باقی رہیں۔