Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہم نے انسان کو کھو کر سہولتیں پالیں،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

ہم نے زندگی کو آسان بنانے کے لیے بے شمار چیزیں ایجاد کیں۔ فاصلے کم کیے، وقت بچانے کے طریقے نکالے، رابطے آسان بنائے اور ایسی سہولتیں پیدا کر دیں جن کا تصور کبھی انسان کے لیے محض خواب تھا۔ آج دنیا کا کوئی بھی کونا ہم سے دور نہیں، ایک پیغام چند لمحوں میں پہنچ جاتا ہے، ایک کال پر ہزاروں میل دور بیٹھا شخص سامنے آ جاتا ہے اور گھر بیٹھے ہماری ضرورت کی بیشتر چیزیں دروازے تک پہنچ جاتی ہیں۔ بظاہر زندگی پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور آرام دہ ہو چکی ہے، مگر اس تمام ترقی کے درمیان ایک سوال مسلسل ہمارا پیچھا کر رہا ہے کہ اگر زندگی اتنی آسان ہو گئی ہے تو انسان اتنا تنہا کیوں ہو گیا ہے؟

کبھی کسی اپنے سے ملنے کے لیے راستہ طے کرنا پڑتا تھا۔ ملاقات کے لیے وقت نکالا جاتا، خط لکھے جاتے، جواب کا انتظار کیا جاتا اور کسی کے گھر آنے کی خبر پورے گھر کے لیے خوشی کا باعث بنتی تھی۔ آج رابطہ چند سیکنڈ کا کام ہے، مگر تعلق نبھانے کے لیے وقت نہیں۔ ہم نے فاصلے مٹا دیے، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھا لیے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے کئی لوگ ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوتے ہیں لیکن ہر شخص اپنی الگ اسکرین میں مصروف ہوتا ہے۔ ماں بات کرنا چاہتی ہے تو بیٹی موبائل دیکھ رہی ہوتی ہے، باپ دن بھر کی تھکن کے بعد گھر آتا ہے تو گھر کے افراد اپنی اپنی مصروفیات میں گم ہوتے ہیں، بچے والدین کی توجہ چاہتے ہیں مگر والدین خود اپنی دنیا میں الجھے ہوئے ہیں۔ یوں ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ہم نے بچوں کے ہاتھ میں مہنگے موبائل اور جدید آلات تو دے دیے، مگر ان کے ساتھ بیٹھنے کا وقت کم کر دیا۔ ہم نے والدین کے لیے آرام کی سہولتیں پیدا کر دیں، مگر ان کے پاس بیٹھ کر ان کا حال پوچھنے کی فرصت نہیں نکالی۔ ہم نے شریکِ حیات کے لیے تحفے خرید لیے، مگر اس کے چہرے پر چھپی تھکن پڑھنا بھول گئے۔ ہم نے رشتوں کی سالگرہیں یاد رکھنے کے لیے موبائل میں یاددہانیاں لگا لیں، مگر رشتوں کو وقت دینے کے لیے کوئی یاددہانی ضروری نہ سمجھی۔ شاید ہم سہولتیں دیتے دیتے احساس دینا بھول گئے ہیں۔آج ہم کسی اجنبی کی ایک تصویر پر چند سیکنڈ میں تبصرہ کر دیتے ہیں، کسی دور بیٹھے شخص کے دکھ بھرے جملے پر فوراً تسلی لکھ دیتے ہیں، مگر اپنے گھر میں موجود انسان کے چہرے پر پھیلی خاموشی ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کو دیکھنے کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، مگر اپنے لوگوں کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے وقت کم پڑ جاتا ہے۔ یہ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں، ہمارے استعمال کا ہے۔ سہولتیں انسان کی زندگی آسان بنانے کے لیے ہیں، لیکن جب سہولت ضرورت سے بڑھ کر عادت بن جائے تو انسان آہستہ آہستہ اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا میں قید ہونے لگتا ہے۔ہم نے ایسی مشینیں بنا لی ہیں جو ہمارے بہت سے کام کر سکتی ہیں، مگر کوئی مشین ہمارے دل کی خاموشی نہیں سمجھ سکتی۔ مصنوعی ذہانت سوال کا جواب دے سکتی ہے، مگر ماں کی آنکھ میں موجود آنسو کی وجہ نہیں پوچھ سکتی۔ موبائل ہمیں دنیا کے دوسرے کونے تک پہنچا سکتا ہے، مگر اپنے ہی گھر میں بیٹھے کسی اداس شخص کے دل تک پہنچنے کے لیے آج بھی انسان ہی درکار ہے۔ شاید ہمیں دوبارہ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی قدر سیکھنے کی ضرورت ہے جنہیں ہم نے غیر ضروری سمجھ کر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کھانے کی میز پر چند لمحے بات کرنا، والدین کے پاس بیٹھ کر ان کا حال پوچھنا، بچے کی بات درمیان میں روکے بغیر سن لینا، تھکے ہوئے شخص کے لیے پانی کا گلاس لے آنا یا کسی خاموش انسان سے صرف اتنا پوچھ لینا کہ "تم ٹھیک ہو؟" بظاہر یہ معمولی کام ہیں، مگر رشتے انہی معمولی لمحوں سے زندہ رہتے ہیں۔ہمیں ترقی ضرور کرنی چاہیے، سہولتیں ضرور حاصل کرنی چاہئیں اور ٹیکنالوجی کو اپنی زندگی کا حصہ بھی بنانا چاہیے، مگر اتنا نہیں کہ انسان کو انسان کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔ زندگی کو آسان بناتے ہوئے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ محبت کسی ایپ سے ڈاؤن لوڈ نہیں کی جا سکتی، اپنائیت کسی اسکرین پر محسوس نہیں کی جا سکتی اور کسی اپنے کے کندھے پر سر رکھ کر رو لینے کا کوئی ڈیجیٹل متبادل نہیں۔ گھر کی خوبصورتی صرف مہنگے فرنیچر، روشن قمقموں اور جدید آلات سے نہیں ہوتی؛ گھر تب گھر بنتا ہے جب وہاں رہنے والے ایک دوسرے کے دکھ کو محسوس کریں، ایک دوسرے کی بات سنیں اور ایک دوسرے کے لیے وقت نکالیں۔

شاید آنے والے وقت میں ہمارے پاس آج سے بھی زیادہ سہولتیں ہوں گی۔ مشینیں مزید ذہین ہوں گی، فاصلے مزید سمٹ جائیں گے اور زندگی کے بہت سے کام مزید آسان ہو جائیں گے، لیکن انسان کی بنیادی ضرورت نہیں بدلے گی۔ اسے آج بھی محبت چاہیے، توجہ چاہیے، اپنائیت چاہیے اور ایک ایسا دل چاہیے جو اس کی بات سن سکے۔ اس لیے کبھی اپنی مصروف زندگی میں رک کر اپنے اردگرد ضرور دیکھیں۔ ممکن ہے کوئی اپنا آپ کی توجہ کا منتظر ہو، کوئی خاموش شخص اپنے اندر ایک پوری داستان لیے بیٹھا ہو یا کوئی ایسا رشتہ آپ کی مصروفیت کی نذر ہو رہا ہو جسے آپ دنیا کی کسی بھی سہولت سے واپس نہیں لا سکیں گے۔

ہم نے دنیا کو قریب کر لیا ہے، اب اپنے لوگوں کو دور ہونے سے بچانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم نے بہت کچھ پالیا ہے، مگر اس کامیابی کی قیمت اپنے رشتوں کی تنہائی نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ آخرکار زندگی کی اصل آسائش یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنی سہولتیں موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جب دل تھک جائے تو ہمارے پاس کوئی ایسا انسان موجود ہو جس کے پاس بیٹھ کر ہم خاموش بھی رہ سکیں۔ سہولتیں زندگی کو آرام دے سکتی ہیں، مگر زندگی کو زندگی بنانے کے لیے انسان اب بھی انسان ہی کا محتاج ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سہولتوں کی یہ لمبی فہرست بناتے بناتے ہم اس فہرست سے انسان کا نام ہی مٹا دیں۔