Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بڑھتی بے حیائی کو کیسے روکیں؟ تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

نقطہ نظر
almas fatimah

موجودہ دور میں دن بدن بڑھتی ہوئی بے حیائی ہمارے معاشرے کے لیے ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جو ہماری اخلاقی، سماجی اور خاندانی اقدار کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اس بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ جدید برقی آلات، بالخصوص موبائل فون اور انٹرنیٹ کا بے لجام اور غلط استعمال ہے۔ آج ہماری نئی نسل اس سستے اور دیدہ زیب نشے میں اس حد تک مست ہو چکی ہے کہ اسے اچھے اور برے، جائز اور ناجائز کی تمیز ہی نہیں رہی۔ اس جادوئی اسکرین نے ہماری نوجوان نسل کی سوچنے، سمجھنے اور اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا ہے۔ مغربی ثقافت کے اندھا دھند فیشن اور فکری یلغار نے ہمارے نوجوانوں کو اپنے اصل راستے سے بھٹکا دیا ہے۔


اس برقی بے حیائی کا سب سے پہلا اور کاری وار ہمارے مضبوط خاندانی نظام پر ہوا ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کے باوجود آج خون کے رشتے ایک دوسرے سے کوسوں دور ہو چکے ہیں۔ ایک ہی گھر کے دوسرے کمرے میں کیا ہو رہا ہے، کسی کو کچھ خبر نہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ سامنے بیٹھے ہوئے لوگ بھی آپس میں اجنبی ہیں؛ قربتیں فاصلوں میں بدل چکی ہیں اور جذباتی لگاؤ دم توڑ چکا ہے۔ وہ گھر جو کبھی تربیت گاہ اور سکون کا گہوارہ ہوتے تھے، اب محض نام نہاد مسافر خانوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ جب رشتوں کا تقدس اور حیا رخصت ہو جائے، تو معاشرے سے عزت اور تکریم کا جنازہ نکل جاتا ہے۔


اس اخلاقی پستی کا سب سے ہولناک انجام ہماری معصوم کلیوں اور بچوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آئے روز ننھے بچوں اور بچیوں کو وحشیانہ زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی خبریں سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ یہ گھناؤنے جرائم کرنے والے کوئی انسان نہیں، بلکہ انسانی بھیس میں چھپے ہوئے بھیڑیے ہیں جو ہمارے اردگرد دندناتے پھر رہے ہیں۔ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا قانون اور معاشرہ ان درندوں کو پکڑنے اور انہیں عبرت کا نشان بنانے کی صلاحیت سے یکسر محروم نظر آتا ہے۔ کمزور تفتیش اور سست عدالتی نظام کی وجہ سے یہ مجرم صاف بچ نکلتے ہیں، جس سے دوسرے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ مزید دلیر ہو جاتے ہیں۔


اس ناسور کو صرف کھوکھلے دعووں سے نہیں روکا جا سکتا، اس کے لیے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:


۱۔ انفرادی اور خاندانی سطح پر نگرانی: والدین کو اپنے بچوں کے فون کے استعمال پر سخت نظر رکھنی ہوگی۔ گھروں میں دوبارہ سے باہمی گفتگو کا آغاز کرنا ہوگا تاکہ بچے خیالی اور فحش دنیا کے بجائے حقیقی رشتوں سے جڑیں۔ بچوں کو دین کی بنیادی تعلیمات اور حیا کے حقیقی تصور سے روشناس کروانا سب سے پہلا قدم ہونا چاہیے۔


۲۔ ذرائع ابلاغ پر سخت پابندی: حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر فحش، غیر مہذب اور اخلاق باختہ مواد پر مکمل پابندی عائد کریں۔ وہ تمام ایپلیکیشنز جو بے حیائی پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں، ان پر مستقل فلٹر لگائے جائیں۔


۳۔ عبرت ناک سزائیں: جب تک معصوم بچوں پر ظلم کرنے والے ان آدم خوروں کو قانون کے تحت عبرت کا نشان نہیں بنایا جائے گا، تب تک معاشرے میں خوفِ خدا اور قانون کی ہیبت قائم نہیں ہو سکتی۔ مجرموں کو فوری اور کڑی سزا دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔


۴۔ اساتذہ کا کردار: اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کو ہفتے میں کم از کم ایک دن اخلاقیات اور کردار سازی پر لیکچر دینا چاہیے۔ میڈیا کو بھی ریٹنگ کی دوڑ سے نکل کر ایسے پروگرام نشر کرنے چاہئیں جو حیا اور خاندانی اقدار کو فروغ دیں۔


بڑھتی ہوئی بے حیائی کو روکنا اب صرف ایک عام انتخاب نہیں، بلکہ ہماری قومی اور اخلاق بقا کا مسئلہ ہے۔ اگر آج بھی ہم نے اپنے قلم، اپنی آواز اور اپنے کردار سے اس اخلاقی سیلاب کے آگے مضبوط بندھ نہ باندھا، تو ہماری آنے والی نسلیں اخلاقیات کے اس ملبے تلے دفن ہو جائیں گی اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔