Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہم ٹوٹ کر ہی کیوں اللہ سے جڑتے ہیں؟تحریر: ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

اللہ سے تعلق ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ پر یقین رکھنا، اس کے احکامات کو ماننا، اس کے فرائض کو بخوبی انجام دینا اور ہر حال میں اس کی ذات پر بھروسا رکھنا ایک مسلمان کی زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا حقیقی سہارا صرف اللہ ہے، ہماری دعاؤں کو سننے والا وہی ہے اور ہمارے دلوں کے حال سے سب سے زیادہ واقف بھی وہی ہے۔ پھر بھی نہ جانے کیوں زندگی کی مصروفیات، دنیا کی الجھنیں اور رشتوں کی کشمکش ہمیں اپنے رب سے دور کر دیتی ہے۔


ہم میں سے کچھ لوگ اپنے فرائض کی پابندی کرتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں، تلاوت کرتے ہیں، دعا مانگتے ہیں اور اللہ کو یاد رکھتے ہیں، لیکن کبھی کبھی انسان اپنی کمزوریوں، مصروفیات اور دنیاوی معاملات میں ایسا الجھتا ہے کہ اس کا وہ تعلق، جو ہر لمحہ اپنے رب کے ساتھ ہونا چاہیے، کہیں پسِ پشت چلا جاتا ہے۔


پھر زندگی میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب انسان ٹوٹ جاتا ہے۔


کبھی کسی اپنے کے رویے سے، کبھی کسی تعلق کے بکھرنے سے، کبھی کسی خواہش کے پورا نہ ہونے سے اور کبھی ان لوگوں کی بے رخی سے جن سے ہم نے محبت اور خلوص کے بدلے صرف اپنائیت چاہی ہوتی ہے۔ انسان دوسروں کے لیے بہت کچھ کرتا ہے، ان کی خوشیوں میں خوش ہوتا ہے، ان کے دکھ میں شریک ہوتا ہے اور کبھی کبھی اپنی ذات تک بھلا دیتا ہے۔ مگر جب وہی لوگ دل دکھا دیں تو انسان کے اندر ایک ایسی خاموشی اترتی ہے جسے کوئی دوسرا محسوس نہیں کر پاتا۔


تب اسے اپنے رب کی یاد آتی ہے۔


تب وہ سجدے میں سر رکھتا ہے اور اس کے آنسو وہ سب کہہ دیتے ہیں جو زبان نہیں کہہ پاتی۔ وہ اپنے رب سے اپنے دل کی بات کرتا ہے، اپنی تکلیفیں بیان کرتا ہے، اپنی محرومیوں کا ذکر کرتا ہے اور ان دکھوں کو بھی اس کے سامنے رکھ دیتا ہے جنہیں وہ دنیا سے چھپاتا رہا۔


یہاں دل میں ایک سوال ضرور اٹھتا ہے:


ہم ٹوٹ کر ہی کیوں اللہ سے جڑتے ہیں؟


کیا ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنے کے لیے کسی صدمے کا انتظار کرنا ضروری ہے؟ کیا ضروری ہے کہ دنیا ہمیں تنہا کر دے، تب ہمیں اللہ کا سہارا یاد آئے؟ کیا ضروری ہے کہ ہمارے دل پر چوٹ لگے، تب ہم سجدے کی ٹھنڈک تلاش کریں؟ کیا ہم اپنے رب کو صرف اس وقت یاد کریں جب ہمارے پاس کوئی اور راستہ باقی نہ رہے؟


اللہ تو ہر وقت ہمارے ساتھ ہے۔ ہماری خوشیوں میں بھی، ہماری خاموشیوں میں بھی، ہماری آسانیوں میں بھی اور ہماری آزمائشوں میں بھی۔ پھر ہمارا تعلق صرف مشکل وقت تک محدود کیوں ہو؟


ہمیں اللہ کو صرف حاجت کے وقت نہیں، محبت کے وقت بھی یاد کرنا چاہیے۔ صرف غم میں نہیں، خوشی میں بھی اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ صرف جب راستے بند ہوں تب نہیں، جب راستے کھلے ہوں تب بھی اس کے سامنے جھکنا چاہیے۔ کیونکہ وہی رب جو ہماری پریشانی سنتا ہے، ہماری خوشیوں کا خالق بھی ہے۔


ہم اکثر لوگوں سے توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں سمجھیں، ہمارے جذبات کی قدر کریں، ہماری خاموشی پڑھیں اور ہمارے ساتھ ہمیشہ ویسا ہی برتاؤ کریں جیسا ہم ان کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن انسان بہرحال انسان ہے۔ اس سے غلطی بھی ہوتی ہے، وہ بدل بھی سکتا ہے اور کبھی انجانے میں کسی کا دل بھی توڑ دیتا ہے۔


اللّہ ہمارے ظاہر سے زیادہ ہمارے باطن کو جانتا ہے۔ ہم کچھ کہیں یا خاموش رہیں، وہ ہمارے دل کی کیفیت سے واقف ہے۔ اسی لیے شاید جب دنیا کے سامنے ہماری بات ختم ہو جاتی ہے تو اللہ کے سامنے ہماری گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔


لیکن کیا خوب ہو کہ ہم اپنے رب سے بات کرنے کے لیے ٹوٹنے کا انتظار نہ کریں۔


کیا خوب ہو کہ ہماری نماز صرف فرض ادا کرنے کا نام نہ ہو بلکہ اپنے رب سے ملاقات کا احساس بن جائے۔ ہماری دعا صرف ضرورت پوری کروانے کا وسیلہ نہ ہو بلکہ اللہ سے محبت اور قربت کا ذریعہ بنے۔ ہماری تلاوت صرف معمول نہ ہو بلکہ دل کی روشنی بن جائے۔


زندگی میں خوشی بھی آئے گی اور غم بھی۔ کچھ لوگ ہمارے ساتھ رہیں گے اور کچھ راستے بدل لیں گے۔ کچھ خواب پورے ہوں گے اور کچھ ادھورے رہ جائیں گے۔ مگر ایک تعلق ایسا ہے جو ہر حال میں ہمارے ساتھ رہ سکتا ہے، اور وہ تعلق اللہ سے ہے۔


اس لیے اپنے رب سے تعلق کو صرف آزمائشوں کے لیے محفوظ نہ رکھیے۔ اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیے۔ جب دل خوش ہو تب بھی اللہ کو یاد کیجیے، جب کوئی کامیابی ملے تب بھی سجدۂ شکر ادا کیجیے، جب کوئی نعمت ملے تو اس کا شکر کیجیے اور جب کوئی غم آئے تو صبر کے ساتھ اسی سے مدد مانگیے۔


شاید زندگی کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ انسان ٹوٹنے سے پہلے اپنے رب سے جڑ جائے۔


ہمیں ایسا تعلق چاہیے جو حالات کا محتاج نہ ہو۔ ایسا یقین چاہیے جو صرف مشکل وقت میں نہ جاگے۔ ایسا دل چاہیے جو دنیا کی محبتوں میں رہتے ہوئے بھی اپنے رب کو نہ بھولے۔


کیونکہ دنیا کے سہارے کبھی مضبوط ہوتے ہیں اور کبھی کمزور پڑ جاتے ہیں، مگر اللہ کا سہارا کبھی کم نہیں ہوتا۔


تو پھر کیوں نہ آج ہی اپنے دل سے یہ عہد کریں کہ ہم اللہ سے جڑنے کے لیے ٹوٹنے کا انتظار نہیں کریں گے۔ ہم اسے صرف اپنی ضرورت نہیں، اپنی زندگی کا مرکز بنائیں گے۔ ہم خوشی میں بھی اسے یاد کریں گے اور غم میں بھی، کیونکہ ہمارا رب صرف مشکل گھڑی کا سہارا نہیں، ہماری پوری زندگی کا سب سے خوبصورت تعلق ہے۔


ہم ٹوٹ کر ہی کیوں اللہ سے جڑیں؟

کیوں نہ ہم سلامت دل کے ساتھ ہی اپنے رب کے قریب ہو جائیں؟