انسانی حقوق، ایک عہد، ایک ذمہ داری اور ایک نئی صبح،تحریر:شمسہ رانی
نقطہ نظر
زندگی کے سفر میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں ۔جو محض کیلنڈر کا ایک دن نہیں ہوتے، بلکہ انسان کی زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز بن جاتے ہیں۔ ایسے لمحے خوشی ضرور دیتے ہیں، مگر اس خوشی کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی دل میں اترتا چلا جاتا ہے۔ میرے لیے بھی حالیہ دن ایسا ہی ایک یادگار لمحہ ہے، جب مجھے پاکستان پیپلز پارٹی ہیومن رائٹس ونگ، تحصیل ٹیکسلا کی صدر کی ذمہ داری سونپی گئی۔
یہ میرے لیے محض ایک عہدہ نہیں، بلکہ ایک امانت ہے؛ ایک ایسا اعتماد ہے جسے الفاظ سے زیادہ کردار کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا۔
انسانی حقوق کا تصور دراصل انسان کی عظمت کے اعتراف سے جنم لیتا ہے۔ دنیا کی ہر تہذیب، ہر معاشرہ اور ہر آئین اپنے اپنے انداز میں اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ انسان کو عزت، تحفظ، انصاف اور مساوی مواقع کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقوق صرف کتابوں، قوانین اور دستاویزات تک محدود رہیں، یا انہیں معاشرے کے عام انسان کی زندگی کا حصہ بھی بنایا جائے؟
میرے نزدیک انسانی حقوق کی اصل روح یہی ہے کہ کوئی انسان اپنی بے بسی کی وجہ سے انصاف سے محروم نہ رہے۔
ایک ماں اپنے بچے کے محفوظ مستقبل کی خواہش کرے، ایک بچہ تعلیم کا حق مانگے، ایک عورت عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنا چاہے، ایک بزرگ اپنے وقار کے ساتھ جینا چاہے، ایک مزدور اپنی محنت کا جائز معاوضہ طلب کرے، ایک اقلیتی شہری اپنے عقیدے کے مطابق امن کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہے—یہ سب انسانی حقوق ہی کے مختلف پہلو ہیں۔
انسانی حقوق صرف بڑے نعروں کا نام نہیں؛ یہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے رویوں میں بھی نظر آتے ہیں۔ کسی کمزور کی بات سن لینا، کسی مظلوم کو تنہا نہ چھوڑنا، کسی عورت کی عزت کا تحفظ کرنا، کسی بچے کو تشدد سے بچانا، کسی محنت کش کی محنت کو تسلیم کرنا اور اختلاف رکھنے والے شخص کے بنیادی وقار کا احترام کرنا بھی انسانی حقوق کی پاسداری ہے۔
آج کے دور میں جب دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، انسانی حقوق کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ معاشی مشکلات، بے روزگاری، تعلیم اور صحت تک غیر مساوی رسائی، خواتین اور بچوں سے متعلق مسائل، کمزور طبقات کے حقوق، مذہبی ہم آہنگی اور سماجی برداشت جیسے موضوعات ہماری اجتماعی توجہ کے محتاج ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں ہوتا، انصاف معاشرے کے رویوں میں بھی زندہ رہتا ہے۔
اگر کسی شخص کی آواز اس لیے نہ سنی جائے کہ وہ کمزور ہے، اگر کسی عورت کو اس لیے نظر انداز کیا جائے کہ وہ عورت ہے، اگر کسی بچے کے خواب غربت کے ہاتھوں دفن ہو جائیں، یا کسی محروم طبقے کو اس لیے پیچھے چھوڑ دیا جائے کہ اس کے پاس وسائل نہیں، تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا؛ یہ پورے معاشرے کے لیے ایک سوال بن جاتا ہے۔
اسی احساس کے ساتھ میں اپنی نئی ذمہ داری کو دیکھتی ہوں۔
میں سمجھتی ہوں کہ عہدے کی اصل خوبصورتی اختیار میں نہیں، خدمت میں ہوتی ہے۔ کرسی انسان کو بڑا نہیں بناتی، بلکہ انسان اپنے کردار، اپنے عمل اور اپنی خدمت سے کرسی کے وقار میں اضافہ کرتا ہے۔
اس موقع پر میں تہہ دل سے پیپلز پارٹی کی تمام اعلیٰ قیادت،گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان ، اور پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر جناب سردار اشعر حیات خان کی بھی
دل کی گہرائیوں سے ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا۔اور یہ ذمہ داری مجھے سونپی ۔
میری خصوصی تشکر کی مستحق دو شخصیات پیپلز پارٹی ہیومن رائٹس ونگ ضلع پنجاب کے صدر ڈاکٹر منیر حسن اور میم آنسہ مظہر بھی ہیں، جن کی حوصلہ افزائی، محبت اور اعتماد میرے لیے ہمیشہ باعثِ تقویت رہے ہیں۔ زندگی کے سفر میں ایسے لوگ کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے جو انسان کے اندر موجود صلاحیت کو پہچانتے ہیں، مشکل وقت میں حوصلہ دیتے ہیں اور آگے بڑھنے کا یقین عطا کرتے ہیں۔
میں ان تمام احباب کی بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے میری تقرری پر مبارکباد دی، دعاؤں سے نوازا اور اپنی محبت کا اظہار کیا۔ یہ محبت میرے لیے خوشی سے بڑھ کر ایک ذمہ داری ہے، کیونکہ اعتماد جتنا بڑا ہو، اسے نبھانے کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے۔
میرا عہد میں یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ میں معاشرے کے ہر مسئلے کو حل کر سکتی ہوں، لیکن میں یہ ضرور کہتی ہوں کہ جہاں تک میری آواز پہنچے گی، میں اسے انصاف، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کروں گی۔
میری کوشش ہوگی کہ ہیومن رائٹس ونگ کو صرف ایک تنظیمی عنوان نہیں بلکہ لوگوں تک رسائی، مسائل سننے، متعلقہ فورمز تک آواز پہنچانے اور آگاہی پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا جائے۔
خاص طور پر خواتین، بچوں، بزرگوں، خصوصی افراد، محنت کشوں اور معاشرے کے ان طبقات کے مسائل کو سمجھنا ضروری ہے جو اکثر اپنی بات مؤثر انداز میں سامنے نہیں لا پاتے۔
کیونکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں طاقتور کتنی سہولت سے زندگی گزارتا ہے؛ اصل پہچان یہ ہے کہ وہاں کمزور کس قدر محفوظ، باعزت اور بااختیار زندگی گزار رہا ہے۔
پاکستان ہمارا وطن ہے۔ اس وطن کی ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں اور معاشی اعداد و شمار سے نہیں ہوگی۔ حقیقی ترقی اُس وقت ہوگی جب ہمارے معاشرے میں انصاف، برداشت، احترام، مساوات اور انسانی وقار مضبوط ہوں گے۔
ہمیں اختلاف کو دشمنی نہیں، مکالمے کو کمزوری نہیں اور برداشت کو شکست نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں مختلف خیالات رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے بنیادی حقوق کا احترام کریں، وہی معاشرہ مضبوط جمہوری بنیادوں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔
میری نظر میں انسانی حقوق کی جدوجہد دراصل انسان کو انسان سمجھنے کی جدوجہد ہے۔
اور شاید اسی لیے میرے لیے یہ نیا منصب ایک خوش خبری سے زیادہ ایک خاموش عہد ہے:
میں عہدے کی نمائندگی نہیں کروں گی،
میں ذمہ داری کی نمائندگی کرنے کی کوشش کروں گی۔
میں کوشش کروں گی کہ میری آواز میں شور سے زیادہ درد کی سمجھ ہو، میرے الفاظ میں دعوے سے زیادہ سچائی ہو اور میرے عمل میں منصب سے زیادہ خدمت کا جذبہ ہو۔
آج میرے سامنے ایک نیا راستہ ہے۔ اس راستے پر پھول بھی ہوں گے اور کانٹے بھی، آسانیاں بھی آئیں گی اور مشکلات بھی۔ مگر میرا یقین ہے کہ اگر نیت صاف ہو، مقصد انسانیت کی خدمت ہو اور قدم خلوص کے ساتھ اٹھایا جائے تو راستے خود منزلوں کی طرف لے جاتے ہیں۔
یہ عہدہ میرے لیے منزل نہیں، سفر کا آغاز ہے۔
یہ اختیار نہیں، امانت ہے۔
یہ اعزاز نہیں، ذمہ داری ہے۔
اور یہ صرف میرا نہیں، اُن تمام لوگوں کا سفر ہے جن کی آواز ابھی سنائی نہیں دیتی۔
اللہ تعالیٰ مجھے اس اعتماد پر پورا اترنے، اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرنے اور ہر حال میں انسانیت، انصاف اور پاکستان کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مزید پڑھیں




