جنرل اسمبلی اجلاس، اردوان کے خطاب کے دوران اسرائیلی وفد اجلاس سے واک آؤٹ کرگیا

ترک صدر رجب طیب اردوان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اسرائیلی وفد اجلاس سے واک آؤٹ کرگیا۔ رجب طیب اردوان نے منگل کو جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران غزہ کی صورتحال پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر فلسطینیوں کے تحفظ میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اقوام متحدہ بین الاقوامی امن اور سلامتی برقرار رکھنے کے اپنے مشن کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین برس کے دوران غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں کم از کم 74 ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جسے انہوں نے ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ قرار دیا۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ غزہ کے لوگ اب بھی ملبے تلے اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق لوگ اپنے شریک حیات، بچوں یا والدین کی لاشیں ملبے سے نکال رہے ہیں۔ ترک صدر نے غزہ کی پٹی میں بچوں کی تکلیف پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات ایک ایسے والد اور دادا کی حیثیت سے کہہ رہے ہیں جو اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں سے بے حد محبت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس ایوان سے بھاری دل کے ساتھ یہ بات کہنا چاہتے ہیں کہ آج غزہ صرف دنیا میں بچوں کے لیے سب سے بڑا قبرستان ہی نہیں بلکہ دنیا میں بچوں کے اعضا کاٹنے کی سب سے زیادہ شرح والا مقام بھی بن چکا ہے۔ رجب طیب اردوان نے مزید کہا کہ غزہ ہمارے دور کا ’’سب سے غیر انسانی اور شرمناک حراستی کیمپ‘‘ بن چکا ہے۔ ترک صدر نے غزہ کی صورتحال کو ’’انتہائی سنگین‘‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ اس صورتحال پر مؤثر ردعمل دینے میں ناکام رہی ہے، جسے انہوں نے ایسی ذہنیت قرار دیا جو نسل کشی پر مبنی ہے۔
رجب طیب اردوان نے ترجمہ شدہ خطاب میں کہا کہ دنیا کو ایسی نسل کش ذہنیت کا سامنا ہے جو قتل کرنے سے کبھی سیر نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص انسانیت، رحم، شفقت اور انصاف کی رہنمائی میں زندگی گزارتا ہو، وہ غزہ کی صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ ترک صدر نے کہا کہ غزہ کا بحران اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ 81 سال قبل بین الاقوامی امن اور سلامتی برقرار رکھنے کے لیے قائم کی گئی اقوام متحدہ اب اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہی، یا اسے ایسا کرنے سے قاصر کردیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین، لبنان، سوڈان اور دیگر بحران زدہ علاقوں کے وہ لوگ جنہوں نے اپنی امیدیں اقوام متحدہ سے وابستہ کر رکھی تھیں، اب شدید مایوسی کا شکار ہیں۔
رجب طیب اردوان کے خطاب کے دوران فلسطینی حکام سمیت اجلاس میں موجود افراد نے تالیاں بجا کر ان کے بیان کا خیرمقدم کیا، جبکہ اسرائیلی وفد ان کی تقریر کے دوران اجلاس سے واک آؤٹ کرگیا۔





