Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جنگ، تباہی اور جوابی کارروائی کی بدلتی ہوئی منطق،تحریر:پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

1945 ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں کے بعد جاپان نے امریکہ کے خلاف کوئی مؤثر جوابی کارروائی نہیں کی اور چند ہی دنوں میں ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کرلیا۔ مگر اس فیصلے کو صرف ایٹمی بموں کا نتیجہ سمجھنا تاریخ کو حد سے زیادہ سادہ بنا دینا ہے۔ جاپان پہلے ہی عسکری، صنعتی اور معاشی طور پر شدید کمزور ہوچکا تھا، جبکہ سوویت یونین کا جنگ میں داخل ہونا آخری بڑے دھچکوں میں شامل تھا۔

2026 ء میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے تناظر میں جاپان کی مثال دوبارہ زیرِ بحث آئی، خصوصاً جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی حملوں کی رازداری کا دفاع کرتے ہوئے Pearl Harbor کا حوالہ دیا۔ مگر کیا 1945 ء کا جاپان اور 2026 ء کا ایران واقعی ایک جیسے حالات میں ہیں؟ اس سوال کا جواب جنگی طاقت، جوابی کارروائی، جغرافیہ اور سیاسی مزاحمت کے فرق میں پوشیدہ ہے۔

1945 ء کے جاپان کی شکست صرف ایٹم بم سے نہیں ہوئی تھی۔ہیروشیما پر 6 / اگست اور ناگاساکی پر 9 /اگست 1945 ء کو ایٹمی حملے ہوئے۔ لیکن اس وقت تک جاپان کئی برس کی جنگ کے نتیجے میں شدید عسکری اور معاشی بحران کا شکار تھا۔امریکی بحری ناکہ بندی نے خام مال، ایندھن اور خوراک کی فراہمی کو محدود کردیا تھا۔ جاپانی بحریہ اپنے بڑے طیارہ بردار جہازوں اور تجربہ کار اہلکاروں کا بڑا حصہ کھو چکی تھی، جبکہ امریکی فضائی حملوں نے صنعتی مراکز اور شہری علاقوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کیا۔ جاپان کے پاس اب بھی لاکھوں فوجی اور ساحلی دفاعی صلاحیت موجود تھی، مگر وہ امریکہ کے خلاف جنگ کا پانسہ پلٹنے کی قابلِ اعتماد صلاحیت کھو چکا تھا۔ یہی فرق اہم ہے: جاپان کے پاس لڑنے کی کچھ صلاحیت باقی تھی، لیکن جنگ جیتنے یا اسے اپنے حق میں تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رہی تھی۔کامیکازے حملے خطرناک ہتھیار، مگر فیصلہ کن حل تصور نہیں کئے جاتے تھے۔ جنگ کے آخری مرحلے میں جاپان نے کامیکازے حملوں کا وسیع استعمال کیا۔ ان حملوں نے امریکی بحری افواج کو خاصا نقصان پہنچایا، خصوصاً اوکیناوا کی لڑائی میں۔

امریکی Naval History and Heritage Command کے مطابق اوکیناوا مہم کے دوران سیکڑوں کامیکازے طیاروں نے اتحادی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا؛ متعدد جہاز ڈوبے اور سینکڑوں کو نقصان پہنچا۔ تاہم یہ حملے جاپان کی مجموعی عسکری کمزوری کو دور نہیں کرسکے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ انتہائی خطرناک ہتھیار بھی اس وقت جنگ کا رخ نہیں بدل سکتے جب مخالف کی صنعتی، بحری اور فضائی برتری بہت زیادہ ہو۔

جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی بحث میں ایک اہم واقعہ اکثر ایٹمی حملوں کے سائے میں دب جاتا ہے: 9 اگست 1945 کو سوویت یونین نے جاپان کے خلاف جنگ میں داخل ہوکر منچوریا میں جاپانی افواج پر حملہ کردیا۔یہ پیش رفت جاپانی قیادت کے لیے خاص اہمیت رکھتی تھی۔ جاپان کو اُمید تھی کہ سوویت یونین امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کسی ممکنہ ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اب یہ راستہ بھی بند ہوگیا تھا۔امریکی محکمہء خارجہ کے تاریخی ریکارڈ میں جاپانی فیصلہ سازی کے حوالے سے ایٹمی حملوں اور سوویت داخلے دونوں کو اہم عوامل کے طور پر درج کیا گیا ہے۔اس لیے جاپان کے ہتھیار ڈالنے کو زیادہ درست طور پر ان عوامل کے مجموعے کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے:ایٹمی حملے، سوویت مداخلت، بحری ناکہ بندی، صنعتی تباہی، مسلسل فضائی بمباری اور داخلی سیاسی بحران۔

جاپانی حکومت کے اندر جنگ ختم کرنے پر فوری اتفاق نہیں تھا۔ فوج کے بعض حلقے جنگ جاری رکھنے کے حامی تھے، جبکہ دوسرے رہنما تباہ کن حالات کے پیش نظر جنگ ختم کرنا چاہتے تھے۔بالآخر شہنشاہ ہیروہیتو نے مداخلت کی اور Potsdam Declaration قبول کرنے کا فیصلہ آگے بڑھایا۔ 15 /اگست کو جاپانی عوام کو ریڈیو کے ذریعے ہتھیار ڈالنے کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا، جبکہ 2 /ستمبر 1945ء کو رسمی surrender documents پر دستخط ہوئے۔یوں جاپان نے کوئی بڑا امریکی جوابی حملہ کرنے کے بجائے جنگ ختم کردی، کیونکہ اس وقت اس کے پاس ایسا کرنے کے لیے نہ مناسب بحری طاقت تھی، نہ فضائی برتری اور نہ ہی مطلوبہ صنعتی بنیاد۔

2026 ء میں امریکہ اور ایران کا مختلف نوعیت کا تنازعہ ابھی جاری ہے۔ امن معاہدوں پر بات چیت ہوتی ہے۔ لیکن فریقین کے مطالبات پر متفق نہ ہونے کے باعث بات تصفیہ پر نہیں پہنچ پاتی۔ پاکستان شد و مد سے امریکہ اور ایران کہ ثالثی کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔

تقریباً آٹھ دہائیوں بعد امریکہ اور ایران ایک شدید فوجی تصادم میں داخل ہوئے۔ 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ایران نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دیا۔ ستمبر 2026 ء تک تنازعہ میں خلیج فارس، علاقائی امریکی تنصیبات اور آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی اہم عناصر بن چکے تھے۔

یہاں جاپان اور ایران کا بنیادی فرق نمایاں ہوتا ہے۔


1945ء کا جاپان ایک بڑی روائتی فوجی و بحری طاقت تھا جس کی جنگی صلاحیت مسلسل تباہ ہورہی تھی۔ ایران کی طاقت کا اہم حصہ میزائل، ڈرون، زیرِ زمین تنصیبات، جغرافیائی محلِ وقوع اور غیر متناسب جنگی صلاحیتوں سے وابستہ ہے۔لہٰذا کسی فضائی حملے میں ایران کی بعض اہم تنصیبات کو نقصان پہنچنا لازماً اس بات کے برابر نہیں کہ ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت بھی ختم ہوگئی۔

19 مارچ 2026 ء کو جاپانی وزیراعظم سنے تاکائچی کے ساتھ وائٹ ہاؤس ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائی سے قبل اپنے اتحادیوں کو کیوں مطلع نہیں کیا۔ٹرمپ نے surprise کے عنصر کا دفاع کرتے ہوئے جاپان اور Pearl Harbor کا حوالہ دیا اور کہا”جاپان سے بہتر ’اچانک پیش آنے والے واقعات‘ (سرپرائز) کے بارے میں کون جانتا ہے؟“ یہ حوالہ امریکی کارروائی کی رازداری اور اچانک پن کے دفاع کے تناظر میں تھا۔

تاہم پرل ہاربر اور 2026 ء کے ایران امریکہ تنازع کو ایک ہی تاریخی نوعیت کا واقعہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ 7 دسمبر 1941 کا پرل ہاربرحملہ جاپان کی طرف سے امریکہ پر اچانک حملہ تھا، جس کے بعد امریکہ دوسری عالمی جنگ میں براہِ راست داخل ہوا۔ 2026 ء میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع طویل عرصے سے جاری علاقائی کشیدگی کے پس منظر میں پیدا ہوا۔

جاپان 1945 ء کی مثال یہ ظاہر کرتی ہے کہ کسی ریاست کی شکست صرف ایک تباہ کن حملے سے نہیں ہوتی۔ جنگ کا نتیجہ صنعتی طاقت، معاشی برداشت، عسکری ذخائر، سیاسی فیصلوں، اتحادیوں اور جغرافیائی حالات کے مجموعے سے تشکیل پاتا ہے۔جاپان کے معاملے میں ایٹمی حملے انتہائی اہم تھے، مگر ان کے ساتھ سوویت حملہ، ناکہ بندی، روایتی بمباری اور پہلے سے جاری عسکری شکست بھی موجود تھی۔

ایران کا معاملہ مختلف ہے۔ امریکہ کے مقابلے میں اس کی روائتی عسکری طاقت محدود ہوسکتی ہے، لیکن اس کی میزائل اور ڈرون صلاحیت، جغرافیائی پوزیشن اور غیر متناسب جنگی ذرائع اسے 1945 ء کے جاپان سے بنیادی طور پر مختلف بناتے ہیں۔اسی لیے 1945ء کا جاپان اور 2026 ء کا ایران ایک ہی تاریخی سانچے میں نہیں رکھے جاسکتے۔ دونوں واقعات میں حیران کن، فضائی طاقت اور جوابی کارروائی کے سوالات ضرور مشترک ہیں، لیکن جنگی طاقت کی ساخت، سیاسی حالات اور جنگ جاری رکھنے کے ذرائع بالکل مختلف ہیں۔ البتہ 1945 ء ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ شدید تباہی کسی ریاست کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کرسکتی ہے؛ 2026 ء کا ایران یہ سوال اٹھاتا ہے کہ جدید جنگ میں کسی ملک کی عسکری تنصیبات کو تباہ کرنا اور اس کی جنگ لڑنے کی صلاحیت ختم کرنا کیا واقعی ایک ہی چیز ہیں؟………………