ایک سرنج، کئی زندگیاں اور سوالات کا انبار،تحریر: شمسہ رانی

کبھی کبھی کسی المیے کی ابتدا کسی بڑے حادثے سے نہیں ہوتی، صرف ایک چھوٹی سی غفلت سے ہوتی ہے۔ ایک لمحے کی بے احتیاطی، ایک معمولی سمجھی جانے والی چیز اور پھر اس کے اثرات برسوں تک دلوں پر نقش رہتے ہیں۔ اگر کسی معصوم بچے کی زندگی طبی غفلت کے نتیجے میں بیماری، خوف اور سماجی تنہائی کی طرف دھکیل دی جائے تو سوال صرف ایک سرنج کا نہیں رہتا، پورے نظام کی ذمہ داری کا بن جاتا ہے۔
حالیہ واقعات میں ایسے خاندانوں کی فریاد سامنے آئی ہے ۔جن کے بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔ والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچے علاج کے لیے طبی مراکز گئے، جہاں مبینہ طور پر استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے باعث انہیں سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان دعوؤں کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں، کیونکہ کسی بھی الزام کو تحقیق اور ثبوت کے بغیر حتمی حقیقت قرار دینا بھی انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
مگر اس پوری صورتحال کا سب سے دردناک پہلو بیماری سے بھی آگے ہے: سماجی رویہ۔ بعض خاندانوں کے مطابق تشخیص کے بعد انہیں اپنے ہی گھروں، رشتوں اور معاشرتی حلقوں میں خوف اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ گھر جہاں کبھی بچوں کی ہنسی گونجتی تھی، وہاں اب سوالات، آنسو اور بے بسی نے جگہ لے لی ہے۔ والدین اپنے بچوں کے چہروں کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ آخر ان معصوموں کا قصور کیا تھا؟
ایچ آئی وی کسی انسان کے کردار کا فیصلہ نہیں، ایک طبی حالت ہے۔ بیماری میں مبتلا بچے کو محبت، علاج، تحفظ اور عزت کی ضرورت ہوتی ہے، نفرت اور تنہائی کی نہیں۔ اگر ہم کسی بچے کو صرف اس کی بیماری کی بنیاد پر اپنے قریب آنے سے روک دیتے ہیں تو ہم بیماری سے نہیں بلکہ اپنی لاعلمی اور خوف سے جنگ ہار رہے ہوتے ہیں۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر شاید وہ ہے جب ایک بچہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو بدلتا ہوا محسوس کرے۔ کل تک جسے گلے لگانے کے لیے بازو پھیلتے تھے، آج اسی سے فاصلے اختیار کیے جائیں؛ کل تک جس کے ساتھ بچے کھیلتے تھے، آج اس کے قریب آنے سے گھبرایا جائے۔ ایک معصوم ذہن بیماری سے زیادہ اس رویے کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بچوں نے اپنی بیماری کا انتخاب نہیں کیا، اس لیے انہیں معاشرتی سزا دینا کسی صورت انسانیت نہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال بھی جنم لیتا ہے: اگر طبی مراکز میں حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ذمہ داری کس کی ہے؟ استعمال شدہ سرنج کو دوبارہ استعمال نہ کرنا طبی حفاظت کا بنیادی اصول ہے۔ ایک سرنج کی قیمت چند روپے ہو سکتی ہے، مگر ایک بچے کی زندگی کی قیمت کبھی نہیں لگائی جا سکتی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے تمام واقعات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں۔ متاثرہ بچوں کی تصدیق شدہ تشخیص، مناسب علاج ،اور مسلسل طبی نگرانی یقینی بنائی جائے۔ جبکہ ان کے خاندانوں کو نفسیاتی ،سماجی اور قانونی معاونت بھی فراہم کی جائے ۔کسی بھی بچے کو محض بیماری کے خوف سے تعلیم، کھیل ،محبت اور معاشرتی زندگی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے بچوں کے لیے تحفظ کا حصار قائم کریں ۔ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عمل درامد ہو۔ طبی عملے کی نگرانی موثر بنائی جائے اور والدین کو درست معلومات فراہم کی جائیں ۔جہاں غفلت ثابت ہو وہاں قانون کے مطابق ذمہ داری کا تعین بھی ہونا چاہیے۔ تاکہ ائندہ کسی اور گھر کا چراغ ایسی بے احتیاطی کی نظر نہ ہو۔
یہ بچے کسی جرم کی سزا نہیں کاٹ رہے۔ یہ وہ معصوم چہرے ہیں ۔جنہیں ہمارے نظام صحت کی حفاظت کی ضرورت تھی۔ اگر واقعی کسی طبی غفلت نے ان کی زندگیوں کو بدل دیا ہے تو ہمیں صرف افسوس نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں ایسا نظام بنانا ہوگا ۔جہاں علاج گاہ خود کسی نئےالمیے کا دروازہ نہ بنے۔
ایک سر نج چند روپے کی چیز ہے ۔مگر ایک بچے کی زندگی پوری دنیا ہوتی ہے۔ اور دنیا کی حفاظت چند روپے بچانے سے نہیں۔ ذمہ داری نبھانے سے ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں





