رات کی خاموشی میں گھڑی کی ٹک ٹک کسی ادھورے خواب کی چاپ معلوم ہوتی تھی۔ ماہا کھڑکی کے پاس بیٹھی چاند کو تک رہی تھی، جیسے اس کی روشنی میں ماضی کا کوئی بھولا ہوا چہرہ تلاش کر رہی ہو۔
"تمہیں چاند بہت پسند ہے؟"
وہ چونکی۔ سامنے کھڑا ارمغان مسکرا رہا تھا۔
"ہاں، کیونکہ چاند دور رہ کر بھی روشنی دیتا ہے۔"
"اور اگر کبھی وہ تمہاری دسترس میں آ جائے؟"
ماہا ہنس دی۔
"پھر شاید مجھے ڈر لگے کہ کہیں یہ خواب ٹوٹ نہ جائے۔"
یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔ ایک ادبی نشست میں ماہا نے اپنی نظم سنائی تھی، اور ارمغان نے سب سے آخر میں اسے داد دی تھی۔ داد بھی ایسی کہ جیسے وہ صرف نظم نہیں، اس کے دل کی آواز سن رہا ہو۔
پھر ملاقاتیں عادت بن گئیں، باتیں دعاؤں کا حصہ، اور محبت… زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت۔
ارمغان کو ماہا کی باتوں میں ایک عجیب سی سچائی محسوس ہوتی تھی۔ وہ دوسروں کی طرح بڑے بڑے دعوے نہیں کرتی تھی، بس چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں زندگی تلاش کرتی تھی۔ کبھی کسی کتاب کے اقتباس پر گھنٹوں گفتگو، کبھی بارش میں بھیگتے درختوں کو دیکھ کر خاموش مسکراہٹ، اور کبھی چائے کے آخری گھونٹ تک پھیلی ہوئی بے مقصد باتیں۔
ماہا پہلے ہی لکھنے سے وابستہ تھی۔ اس کے لفظوں میں احساس کی خوشبو تھی۔ ارمغان اس کی تحریریں پڑھتا تو دیر تک ان کے بارے میں سوچتا رہتا۔ رفتہ رفتہ اس کے اندر بھی لکھنے کی خواہش جاگی۔
ایک دن اس نے جھجکتے ہوئے اپنی پہلی تحریر ماہا کو تھمائی۔
"پتا نہیں میں لکھ بھی سکتا ہوں یا نہیں۔"
ماہا نے تحریر پڑھی اور مسکرا دی۔
"لفظ دل سے نکلیں تو راستہ خود بنا لیتے ہیں۔ لکھتے رہو۔"
ماہا کی حوصلہ افزائی نے ارمغان کے اندر چھپی ہوئی آواز کو لفظ دے دیے۔ وہ لکھنے لگا، اور کچھ ہی عرصے میں اس کے افسانوں میں بھی ایک الگ پہچان نظر آنے لگی۔ ماہا اس کی پہلی قاری تھی، اور ارمغان کے لیے اس کی رائے کسی سند سے کم نہ تھی۔
ایک شام ارمغان نے کہا، "ماہا! ہم ایک چھوٹا سا گھر بنائیں گے۔ صحن میں موتیے کی بیل، کھڑکی کے پاس کتابوں کی الماری اور شام کو چائے کے دو کپ۔"
ماہا نے مسکرا کر پوچھا، "اور اگر میں سارا دن لکھتی رہی تو؟"
"تو میں گھر کے کام کر لوں گا۔"
"اور اگر میری تحریر اچھی نہ ہوئی؟"
"تو میں جھوٹ بول دوں گا کہ بہت اچھی ہے۔"
ماہا بے اختیار ہنس پڑی تھی۔
ارمغان نے اس کی ہنسی کو اپنی زندگی کی سب سے قیمتی آواز سمجھ کر دل میں محفوظ کر لیا تھا۔
مگر زندگی ہمیشہ خوابوں کی زبان نہیں سمجھتی۔
ایک دن ماہا کے والد نے صاف کہہ دیا، "یہ رشتہ ہمارے گھر کے معیار کا نہیں۔ تمہیں کہیں اور بیاہنا ہوگا۔"
ماہا نے بہت سمجھایا، روئی، منتیں کیں، مگر گھر کی عزت، ماں کی بیماری اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی تھیں۔
ارمغان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ وہ محنتی تھا، تعلیم مکمل کر کے ایک اچھی ملازمت حاصل کرنے کی کوشش میں تھا، مگر ماہا کے گھر والوں کو اس کے خوابوں سے زیادہ اس کی موجودہ حیثیت دکھائی دیتی تھی۔
ماہا جانتی تھی کہ محبت صرف دو دلوں کا معاملہ نہیں رہتی، کبھی کبھی پورے خاندانوں کی آزمائش بن جاتی ہے۔
وہ آخری بار ارمغان سے ملی۔
شام اتر رہی تھی۔ پارک کی پگڈنڈی پر زرد پتے بکھرے تھے۔ ماہا کے ہاتھ میں وہی کتاب تھی جو ارمغان نے اسے پہلی ملاقات کے بعد تحفے میں دی تھی۔
"مجھے معاف کر دینا،" اس نے نظریں جھکا کر کہا۔
ارمغان دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
"تم نے مجھے چھوڑا نہیں، ماہا… تم نے اپنے گھر کو چنا ہے۔ میں تم سے ناراض کیسے ہو سکتا ہوں؟"
"کیا تم انتظار کرو گے؟"
یہ سوال کرتے ہوئے ماہا کی آواز لرز گئی۔
ارمغان نے ایک گہری سانس لی۔
"انتظار وقت کا نہیں ہوتا، ماہا… انتظار تو دل کرتا ہے۔ اور دل کو حکم کہاں دیا جا سکتا ہے؟"
ماہا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
"کاش! سب کچھ اتنا آسان ہوتا۔"
"کچھ خواب پورے ہونے کے لیے نہیں ہوتے، بس زندگی بھر دل میں روشن رہنے کے لیے ہوتے ہیں۔"
وہ چلی گئی۔
ارمغان دیر تک اسی راستے پر کھڑا رہا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے ماہا کے قدموں کی چاپ ابھی بھی آس پاس بکھری ہوئی ہے، جیسے وہ پلٹ کر کہے گی، "ارمغان! میں نہیں جا رہی۔"
مگر کوئی واپس نہیں آیا۔
وقت گزرتا رہا۔ ماہا کی شادی ہو گئی۔ ایک اچھا گھر، ذمہ دار شوہر، بچے… زندگی بظاہر مکمل تھی، مگر دل کے کسی کونے میں ایک کھڑکی ہمیشہ کھلی رہتی، جہاں چاندنی کے ساتھ ارمغان کا نام بھی اترتا تھا۔
وہ اپنے شوہر کے ساتھ مخلص تھی۔ اس نے کبھی اپنے ماضی کو اپنی ازدواجی زندگی پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ گھر، بچوں اور ذمہ داریوں میں خود کو مصروف رکھا۔ مگر انسان اپنے دل کے کچھ دریچے چاہ کر بھی بند نہیں کر پاتا۔
کبھی کسی کتاب سے سوکھا ہوا پھول نکل آتا تو اسے ارمغان کی بات یاد آتی۔
کبھی بارش کی خوشبو آتی تو وہ بے اختیار کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوتی۔
اور کبھی رات کی خاموشی میں گھڑی کی ٹک ٹک اسے اس خواب کی یاد دلا دیتی، جس میں موتیے کی بیل اب بھی کھلتی تھی۔
ارمغان بھی شہر چھوڑ کر کہیں دور جا بسا۔ اس نے ملازمت اختیار کی، ایک چھوٹا سا گھر بنایا، مگر اس گھر کی کھڑکی کے پاس کتابوں کی الماری کبھی مکمل نہ ہو سکی۔
اس کے ایک دوست نے کئی بار شادی کا مشورہ دیا۔
"زندگی کسی ایک شخص کے انتظار میں نہیں رکتی، ارمغان۔"
وہ مسکرا دیتا۔
"میں زندگی روکنا نہیں چاہتا، بس کچھ یادوں کو بے گھر نہیں کر سکتا۔"
وہ ماہا کا ذکر کسی سے نہیں کرتا تھا، مگر اس کی تحریروں میں ایک نامعلوم عورت بار بار نمودار ہوتی۔ کبھی وہ بارش میں کھڑی ہوتی، کبھی چاند کو دیکھتی، کبھی کسی خط کو سینے سے لگا کر خاموش ہو جاتی۔
لوگ اس کے افسانوں کی تعریف کرتے، مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ ہر کردار میں اپنی ایک ادھوری دعا لکھتا ہے۔
پھر ایک دن خبر آئی کہ ارمغان شدید بیمار ہے۔
ماہا نے یہ خبر ایک مشترکہ جاننے والے سے سنی۔ اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
"کیا ہوا ہے اسے؟"
"کافی عرصے سے بیمار تھا۔ اب حالت کچھ زیادہ خراب ہے۔"
ماہا نے کئی بار فون اٹھایا، مگر انگلیاں نمبر تک نہ پہنچ سکیں۔ برسوں کی خاموشی، رشتوں کی حدود اور دل کے اندر چھپی ہوئی ایک پرانی دھڑکن اسے روک رہی تھی۔
آخر ایک رات اس نے ہمت کی اور پیغام لکھا:
"کیسے ہو، ارمغان؟"
پیغام بھیجنے کے بعد وہ دیر تک موبائل کی روشن اسکرین کو دیکھتی رہی۔
جواب اگلی صبح آیا:
"اب بھی چاند دیکھتا ہوں۔ تم؟"
ماہا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
"اب بھی۔"
کچھ لمحوں بعد ارمغان کا پیغام آیا:
"پھر تو ہمارا آسمان اب بھی ایک ہے۔"
ماہا نے موبائل سینے سے لگا لیا۔ برسوں بعد اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے دل پر رکھی ہوئی خاموشی کو آہستہ سے چھو لیا ہو۔
ان کے درمیان کوئی لمبی گفتگو نہ ہوئی۔ بس چند مختصر پیغامات، کچھ دعائیں اور بہت سی ان کہی باتیں۔
ارمغان نے لکھا:
"ماہا! کبھی کبھی سوچتا ہوں، اگر ہم ساتھ ہوتے تو کیا واقعی خوش رہتے؟"
ماہا نے کافی دیر بعد جواب دیا:
"شاید… مگر اب یہ سوال بھی ایک خواب کی طرح ہے، جس کا جواب وقت نے اپنے پاس رکھ لیا ہے۔"
ارمغان نے لکھا:
"تم خوش ہو؟"
ماہا نے اس سوال کو دیر تک دیکھا۔ پھر جواب دیا:
"ہاں، ارمغان۔ زندگی نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔"
کچھ توقف کے بعد اس نے مزید لکھا:
"بس کچھ یادیں ایسی ہیں جنہیں خوشی یا غم کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ وہ صرف ہماری ہوتی ہیں۔"
ارمغان کا جواب آیا:
"تم ہمیشہ سے لفظوں کو محسوس کرنا جانتی تھیں۔"
یہ ان کی آخری گفتگو تھی۔
کچھ دن بعد ارمغان کی وفات کی خبر ملی۔
ماہا دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔ نہ چیخی، نہ روئی۔ بس اس کے اندر جیسے کوئی دروازہ آہستہ سے بند ہو گیا ہو۔
اس رات گھر میں سب سو گئے تو وہ الماری کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ برسوں سے محفوظ ایک پرانی ڈائری نکالی۔ اس کے پہلے صفحے پر ارمغان کی لکھائی میں ایک جملہ درج تھا:
"کچھ محبتیں منزل نہیں مانگتیں، بس دل میں ایک چراغ کی جگہ چاہتی ہیں۔"
ماہا نے ڈائری کھولی تو ایک سوکھا ہوا موتیے کا پھول فرش پر گر پڑا۔
وہ پھول، جو ارمغان نے کبھی اسے پارک میں دیا تھا۔
ماہا نے اسے اٹھایا، ہتھیلی پر رکھا اور دیر تک دیکھتی رہی۔ وقت نے اس کی خوشبو چھین لی تھی، مگر یاد نہیں۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"تمہیں معلوم تھا نا، ارمغان… کہ میں تمہیں کبھی بھولی نہیں تھی؟"
کمرے میں کوئی جواب نہ آیا۔
اس نے ڈائری بند کی، کھڑکی کھولی اور چاند کو دیکھا۔
آج بھی وہی چاند تھا، مگر اس کی روشنی میں ایک کمی تھی۔
ماہا نے دھیرے سے کہا:
"ارمغان! تمہارا خواب ناتمام رہا… مگر تمہاری محبت نہیں۔"
پھر اس نے موتیے کا وہ سوکھا پھول ڈائری میں رکھ دیا۔
کچھ یادیں دفن نہیں کی جاتیں، انہیں بس کتابوں کے درمیان محفوظ کر دیا جاتا ہے، تاکہ آنے والی کسی خاموش رات میں ان کی خوشبو دوبارہ محسوس کی جا سکے۔
اور پھر گھڑی کی ٹک ٹک میں اسے لگا، جیسے کوئی بہت دور سے اب بھی اس کے خواب کی چاپ سن رہا ہو۔
وہ خواب پورا نہ ہوا، مگر محبت نے مرنے سے انکار کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں





