عورت اللہ کی بہت پیاری تخلیق ہے۔ جس میں وفا، صبر، خاموشی، برداشت، ہمت، طاقت، دلیری، جیسی بے شمار خوبیاں اور صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ جو اپنے اندر ایک گہرا سمندر رکھتی ہے جس میں اس کا ہر غم، دکھ، درد پانی کی لہروں کی طرح بہہ جاتا ہے۔
ایک عورت ایسے انمول موتی کی طرح قیمتی ہوتی ہے۔ وہ انمول موتی جو ایک سیپ میں چھپا ہوتا ہے اور اس کے باہر جتنا بھی پانی یا گندگی ہو نہ اس موتی پر کوئی آنچ آتی ہے نہ وہ خراب ہوتا ہے کیونکہ وہ اللہ کے دیے ہوئے محفوظ پردے میں ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک عورت اگر اللہ کے حکم کی تعمیل کرے اور اپنے آپ کو پردے کا پابند کر لے تو وہ اس انمول موتی سے بڑھ کر انمول ہو جاتی ہے۔
عورت جس کا مطلب ہی پردے والی خود کو چھپا کے رکھنے والی ہے۔ جس کی ساری خوبصورتی حیا میں ہے اور تحفظ حجاب میں ہی ہے۔
جب ایک عورت خود کو زمانے کی نظروں سے محفوظ رکھتی ہے۔ اسلامی طرز زندگی اپنا کر خود کو پردے میں چھپاتی ہے تاکہ ہر نامحرم اور بری، ہوس، حسد ذدہ نظروں سے بچ کر رہ سکے۔ تب وہ اللہ کی امان میں ہوتی ہے۔ اللہ پر یقین اور امید لیے وہ خود کو مطمئن اور مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ محفوظ بھی سمجھتی ہے۔
ایک عورت جب ماں کے روپ میں ہوتی ہے تو وہ اپنی پوری نسل کو محبت کا درس دینے کے ساتھ ساتھ ان کی اچھی پرورش کرتی ہے۔ ان کی دین و دنیا اور آخرت کے مطابق اچھی تربیت کرتی ہے۔ ایک عورت ہی اپنی آنے والی نسلوں کو سنوار بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی سکتی ہے۔
بے شمار خوبیاں لیے ایک عورت بہن کے روپ میں بے لوث محبت نچھاور کرتی ہے۔ تا حیات اپنے بہن بھائیوں کے لیے دعائے خیر کرتی رہتی ہے اور ان کا ساتھ ہمیشہ دیتی ہے۔
بیوی کے روپ میں ایک عورت با وفا شریک حیات بنتی ہے جو اپنے ہمسفر کا عمر بھر ساتھ دیتی ہے۔ جیسے مرضی حالات ہوں، جتنی بهی مشکلات اور پریشانیاں ہوں وہ ہر طرح سے اپنے ہم سفر کی ڈھال بن کر اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
ایک عورت بیٹی کے روپ میں اس گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنا دیتی ہے۔ اس کے ہونے سے گھر میں رونق ہوتی ہے۔ اس کی ہنسی کی گونج سے کوئی گھر سونا اور ویران نہیں ہوتا ہے۔ اس کے ہونے سے گھر میں رحمت و برکت ہوتی ہے۔ رزق کی وسعت ہوتی ہے۔ معاشی تنگی ختم ہوتی ہے۔
احساس، جذبہ، صبر، قربانی، ہمت، برداشت، محبت، وفا ان سب کا نام ہے عورت۔
عورت دنیا کی بہترین متاع ہے۔ جو ایک نگینہ ہے اور جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے وہ اتنی ہی انمول ہوتی ہے اور اس کو پیار سے سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔ اس کی حفاظت بھی اچھے سے کی جاتی ہے۔ کوئی بھی انسان بہترین متاع کو ضائع نہیں کرتا ہے۔
عورت ذات کانچ کے ٹکڑوں کی مانند نازک ہوتی ہے۔ اس کی حفاظت کرنی ہے، پیار دینا ہے، پیار سے اصلاح کرنی ہے، اس کو سمجھنا ہے۔ ایسے نہیں کرنا کہ اس کو دکھ، تکلیف، اذیت دی جائے جس کی وجہ سے وہ ٹوٹ کر بکھر جائے۔ اس کے احساسات بہت نازک ہوتے ہیں۔ اداسی، پریشانی اس کی خوبصورتی ختم کر دیتی ہے۔
اس کو توڑنا نہیں ہے۔ اس کو تو قیمتی انمول ہیرے کی طرح سنبھال کر رکھنا ہے۔
"وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں۔"
مزید پڑھیں




