Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کیا ہم واقعی زندہ ہیں یا صرف عادتََا سانس لے رہے ہیں؟تحریر:زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

کبھی آپ نے خود سے یہ سوال کیاہے؟کہ آپ جو ہر روز جاگتے ہوں،چلتے ہوں،بولتے ہوں،کیا واقعی جیتے بھی ہوں؟یا سب کچھ صرف ایک عادت ہے۔ایک خاموش تسلسل،جس میں سانسیں تو جاری ہیں مگر زندگی کہیں پیچھے رہ گئی ہے؟ہم نےجینا شاید اِس دن چھوڑ دیا تھا،جب ہم نے محسوس کرنا چھوڑ دیا تھا۔جب خوشی ایک رسمی مسکراہٹ بن گئی اور دُکھ ایک خاموش بوجھ جسے ہم نے دل کے کسی کونے میں دفن کردیا۔زندگی صرف دل دھڑکنے کا نام نہیں،یہ تو ہر اُس لمحے کا نام ہیں جہاں روح جاگتی ہے اور آنکھیں صرف دیکھتی نہیں بلکہ محسوس بھی کرتی ہیں۔مگر ہم،ہم نے تو خود کو مصروفیت کے پردوں میں اس قدر چھپا لیا ہے۔کہ اب ہمیں اپنی ہی آواز اجنبی لگتی ہے۔ہم دن بھر لوگوں کے درمیان رہتے ہیں،مگر رات کو اپنے ہی اندر کی ویرانی سے ہار جاتے ہیں۔یہ کیسی زندگی ہے؟جہاں خواب صرف نیند تک محسوس ہوگئے ہیں۔اور حقیقت ایک ایسا بوجھ بن گئی ہے،جسے ہم ہر صبح اُٹھانے پر مجبور ہیں۔شاید اِسی بےحسی کے بیج کہیں ہماری کہانی سمٹ کر اس رباعی جیسی بن گئی ہے

زندگی کی راہ میں،ہم خود سے کھو جاتے ہیں

سانس لیتے ہیں،مگر جینے سے ڈر جاتے ہیں

دل کے سنسان دریچوں میں کوئی صدا بھی نہیں

زینبؔ ہم عادتََا جیتے ہیں،مگر جیتے جی مر جاتے ہیں

شاید ہم زندہ نہیں ہے،صرف وقت گزار رہے ہیں۔ایک ایسے انجام کی طرف جسے ہم سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔مگر سچ یہ ہے زندگی ابھی بھی کہیں ہمارے اندر ہی سانس لے رہی ہے،بس ہم نے دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔کبھی رُک کر اپنے دل کی آواز سنو،اپنے احساسات کو جگہ دو،اپنے زخموں کو صرف چھپاؤں نہیں انہیں سمجھو۔کیونکہ زندہ ہونا صرف سانس لینے کا نام نہیں،ہر اُس لمحے کو جینے کا نام ہے۔جو ہمیں ہمارا احساس دلاتا ہے۔ورنہ ہم صرف عادتََا ہی سانس لے رہے ہیں۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL