نوجوان اور کردار کی تعمیر،تحریر: فائزہ شہزاد
نقطہ نظر
نوجوان نسل کسی بھی قوم چاہے وہ کسی بھی رنگ،نسل یا قبیلے سے تعلق رکھتی ہو اس کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہےـ یہ نوجوان نسل مُلک و قوم کی فلاح و بہبود اور عروج و زوال کی ذمہ دار ہوتی ہےـ یہی اپنی قوم کا حال اور مستقبل ہوتی ہےـ جو نوجوان اپنی قوم سے اُس کی تاریخ سے اُس کی تہذیب و ثقافت سے غافل ہو جاتی ہے وہ نہ اپنے حال کو سنبھال سکتی ہے اور نہ ہی مستقبل کو سنوار سکتی ہےـ
یہ ہمارے معاشرے کا قابل قدر اور حساس طبقہ ہے جنہوں نے مُلک و قوم کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے اور اِس کے لئے سب سے ضروری چیز اس طبقے کی کردار سازی ہے جِس پر ہم سب کو توجہ دینا بہت ضروری ہے کیونکہ اِس کا کردار وہ پہلی اینٹ ہے جس پر پوری عمارت ( مُلک) کی بُنیاد رکھی جاتی ہےـ
اگر اِس کا کردار مضبوط ہو گا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو گا تو وہ نا صرف ایک اچھا انسان ہو گا بلکہ پوری ایک نسل کا ترجمان ہو گا رہنما ہوگا ـ
اِس کے کردار کی تعمیر میں جہاں والدین اہم کردار ہیں وہاں اساتذہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتاـ والدین اگر گھر پر اُن کی تربیت کرتے ہیں تو درسگاہوں میں یہ اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ اِس قیمتی سرمائے کو ایسا پرسکون ماحول فراہم کریں جِس سے اِن کا ذہنی سکون برباد نہ ہو یا یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ ذہنی انتشار کا شکار نہ ہو اور نہ ہی اخلاقی تنزلی کاـ
اسلامی تعلیمات پر زندگی بسر کرنے میں ہی کامیابی کا راز پوشیدہ ہےـ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی حیاتِ طیبہ صرف نوجوان نسل کے لئے نہیں بلکہ ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے جِس کی روشنی میں سب ہی اپنے کردار کو حسین ترین بنا سکتے ہیں ـ علّامہ اقبال نے نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت پر بہت زور بہت توجہ دی ہے ـ اُن کی شاعری میں اُن کا مخاطب نوجوان نسل ہے اور وہ دعا کرتے ہیں کہ " اللہ ! نوجوان نسل کو اِس قابل کر دے کہ وہ میرے پیغام کو آسانی سے سمجھیں اور اُس پر عمل پیرا ہو کر مُلک و قوم کی تقدیر کو سنوار دیں ـ" ( یہ اُن کی ایک نظم کی تشریح کی ہے ) اقبال کا نوجوان ایک سچا ، کھرا اور ناڈر مسلمان ہے ـ وہ ہر وقت سرگرم عمل رہتا ہےـ اپنے ربّ پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے اپنی منزل کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے ـ اُس کا نوجوان " طارق بن زیاد" ہے ـ اُس کا جوان " صلاح الدین ایوبی" ہے ـ اُس کا جوان " شاہین " ہےـ وہ نوجوان نسل کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے ہمیشہ " شاہین " کی اصطلاح استمعال کرتے تھے کیونکہ وہ نوجوان نسل کو شاہین بنانا چاہتے تھے ـ اُن کے خیال میں شاہین ایسا پرندہ ہے جو انتہائی تیز اور بلند پرواز کرتا ہے ، وہ ہمیشہ بلندی کی طرف پرواز کرتا ہے اور نیچے کبھی نہیں دیکھتا اور کبھی بھی نہ درخت پر اور نہ کسی گھر پر اپنا ٹھکانہ بناتا ہے وہ ہمیشہ " پہاڑ کی چوٹی پر اپنا آشیانہ " بناتا ہے ـ وہ دوربین جیسی تیز نِگاہ رکھتا ہے ، وہ خوددار ہے کسی مردار کو یا کسی دوسرے کے مارے شکار کو کبھی منہ بھی نہیں لگاتا لہٰذا یہی سب خوبیاں وہ نوجوانوں میں دیکھنا چاہتے تھے مگر افسوس صد افسوس کہ آج کی نوجوان نسل تن آسانی کا شکار ہو گئی ہے وہ بیٹھے بٹھائے ہر چیز حاصل کرنا چاہتی ہے اور اُس کا مقصد حیات صرف مال و دولت ہے جس کے لئے وہ اپنے کردار اپنے اخلاق یہاں تک کہ دینی تعلیمات تک کی پرواہ نہیں کررہا ـ تعلیم کو پس پشت ڈال کر وہ دُنیا کی رنگینیوں میں خود کو وقف کر رہا ہے ـ اُسے نہ اپنی پرواہ ہے نہ والدین کی تربیت کی اور نہ ہی اپنی آنے والی نسلوں کی جبکہ یہ کوئی معمولی بات نہیں یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے جس کے لئے سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے اور اپنا حصہ ڈالنا ہے اب وہ چاہے قول ہو یا فعل ، قلم ہو یا ہتھیار ـ
تاریخ گواہ ہے کہ جب نوجوان اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوئے،اپنے محور سے باہر نکلے تو وہ قوم تباہی کا شکار ہو گئی اور صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئی ـ لہٰذا نوجوانوں کو ضرورت اِس امر کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے اخلاق و کردار کو سنواریں اور اپنے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ وہ خِزاں زدہ پتوں کی مانند ہوا سے اِدھر اُدھر بکھر جائیں گے اور اپنی شناخت کھو بیٹھیں گےـ
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
مزید پڑھیں





