Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

لشکر مدینہ بنیں لشکر ابرہہ نہیں،تحریر:غنی محمود قصوری

نقطہ نظر
ghani mahmood kasuri

گزشتہ کئی ماہ سے مشرق وسطی میں جنگ اور کشیدگی کا ایک ایسا سلسلہ جاری ہے جس نے پورے خطے کو ایک پیچیدہ ترین صورت حال سے دوچار کر دیا ہے، ایک طرف ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست محاذ آرائی ہے تو دوسری طرف ایران کے بھارت کے ساتھ تعلقات ہیں جبکہ بھارت کے اسی اسرائیل کے ساتھ دفاعی معائدے بھی ہیں،مطلب ایک عجیب قسم کی کھچڑی پکی ہوئی ہے جو کہ درحقیقت ثابت کرتی ہے کہ مفاد کی خاطر کسی سے بھی مدد لی بھی جا سکتی ہے اور مدد کی بھی جا سکتی ہے، اسی ساری صورتحال کے باعث خطے کے دیگر ممالک بھی اس کشیدہ صورت حال سے متاثر ہو رہے ہیں،بلکہ یہ اب ایک عالمی معاشی جنگ بن چکی ہے جس سے دنیا کے تمام ممالک متاثر ہو رہے ہیں


سعودی عرب کے حوالے سے معاملہ مذید حساس ہو جاتا ہے کیونکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات موجود ہیں اور پاکستان اور سعودی عرب ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نا ہی کرینگے بلکہ اگلے آنے والے دو سے تین سال اسرائیل،سعودیہ کی براہ راست جنگ کے سال ہیں جس میں تمام سعودی اتحادی حصہ لینے گے خاص کر پاکستان اور ترکی ، دوسری سمت خطے کے بعض دیگر ممالک اسرائیل کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں،اسی دوران یمن کا محاذ بھی اس پورے تنازعہ میں ایک اہم پہلو بن کر سامنے آیا ہے، یمنی حوثی باغی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی اور حملوں کے تبادلے نے صورتحال کو مذید پیچیدہ کر دیا ہے،سعودی افواج نے اپنے ملک پر ہوئے حوثیوں کے حملوں کے جواب میں کارروائیاں کیں ہیں نیز یمن میں باغی حوثیوں کے خلاف لڑنے والی مقامی سرکاری فوج اور دیگر قوتیں بھی اس کشمکش کا حصہ ہیں


یہاں سوال صرف جنگ کا نہیں، ہماری سوچ کا بھی ہے

جب بیت اللہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات کا ذکر آتا ہے تو مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کیونکہ ہم بین المذاہبی ہم آہنگی کی بات تو کرتے ہیں مگر پھر آپس میں مسلک پرستی بھی کرتے ہیں،درحقیقت آج ہمیں مذہبی آہنگی سے بھی پہلے بین المسالکی ہم آہنگی کی زیادہ ضرورت ہے بلکہ ہر دور میں یہی اصول ہونا چاہیئے،

مکہ مکرمہ وہ مقدس شہر ہے جس پر حملے کے لئے ابرہہ ہاتھیوں کا لشکر لے کر آیا تھا

وجہ وہی تھی جیسے آج ہے کہ مکہ کا کنٹرول میرے پاس ہونا چائیے ناکہ کسی اور کے پاس ،اسی بنیاد پر ابرہہ نے مکہ پر باقاعدہ حملہ کیا تھا جس کا قرآن کریم کی سورۂ فیل میں ذکر ہے

قرآن نے ہمیں بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی تھی ننھی ابابیلوں سے، کیونکہ وہ رب جس سے چاہے کام لے یہ اسکی مرضی ہے حالانکہ اس رب کے لشکر بہت سے ہیں مگر دفاع مکہ ابابیلوں کے سر ہوا

اب کویں شکوہ کریں کہ رب نے دفاع مکہ کا کام ہم سے نہیں لیا تو یہ نادانی ہو گی


آج جب بیت اللہ اور حرمین شریفین کی سلامتی کا معاملہ سامنے آتا ہے تو ہمیں جذباتی نعروں کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ ہماری ترجیح کیا ہونی چاہیے،ایک طرف یہ دلیل دی جاتی ہے کہ سعودی عرب اپنے دفاع کے لیے امریکی یا دیگر ممالک سے حاصل کردہ اسلحہ اور ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے تو دوسری طرف اسی بنیاد پر سعودی ریاست اور اس کی افواج کو مختلف سخت القابات دیئے جاتے ہیں بلکہ سخت ناپسند کیا جاتا ہے،سوال یہ ہے کہ دفاعی ٹیکنالوجی کا تعلق اس کے استعمال کے مقصد سے ہے یا صرف اس کے بنانے والے ملک سے؟


اگر کسی ملک سے دفاعی نظام خریدا گیا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دفاع کا مقصد بھی اسی ملک کا مقصد بن گیا؟

اگر ایسا ہے تو دنیا کے بیشتر ممالک کی دفاعی پالیسیوں کو اسی پیمانے سے دیکھنا پڑے گا کیونکہ کوئی بھی ملک اپنی دفاعی ضروریات کے لئے صرف ایک ہی ملک پر انحصار نہیں کرتا،اسی طرح کسی دوسرے ملک سے اسلحہ یا ٹیکنالوجی حاصل کرنا بھی کسی گروہ کو خود بخود حق پر ثابت نہیں کرتا،ہمارا اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس طاقت کا استعمال کہاں اور کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے


ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کسی ایک مسلک، قوم یا ملک کی ملکیت نہیں ہیں بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ کے مقدس مراکز ہیں اور قیامت تک مقدس رہینگے ، ان مقامات کی حرمت اور سلامتی پر اختلافِ رائے نہیں ہونا چاہیے،اگر کوئی پاکستانی ہے تو اس کی پہلی ذمہ داری اپنے ملک کے امن اور استحکام کے لیے ہے،اگر کوئی ایرانی ہے تو اپنے ملک کے لیے، اگر یمنی ہے تو اپنے ملک کے لیے، اگر عراقی، شامی یا کسی دوسرے ملک کا شہری ہے تو اسے اپنے ملک کے مفاد اور امن کو سامنے رکھنا چاہیے ناکہ سعودی کے داخلی معاملات پر نوک جھونک کرنی چائیے


اسلام کے اہم فریضے حج اور عمرہ ہر مسلمان کے لئے بڑی سعادت ہے

مکہ اور مدینہ پہنچ کر انسان کو امت کی وحدت، عبادت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا احساس ہونا چاہیے نہ کہ اپنے مسلکی یا سیاسی اختلافات کو مذید بھڑکانا چاہیے،سعودی عرب کی داخلی سیاست اور آل سعود کے بارے میں ہر شخص کی اپنی رائے ہو سکتی ہے اور سیاسی اختلاف بھی اپنی جگہ موجود ہو سکتا ہے،لیکن سیاسی اختلاف کو بیت اللہ کی حرمت اور حرمین شریفین کی سلامتی سے الگ رکھنا چاہیے،ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری شناخت اختلاف کی بنیاد پر ہوگی یا مقدسات کی حرمت کی بنیاد پر ہو گی؟ہمیں مکہ کے محافظوں کے خلاف نفرت کے نعرے لگانے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ ہماری زبان اور ہمارے جذبات کہیں ہمیں ایسی سوچ کی طرف تو نہیں لے جا رہے جس سے خود امت کا مقدس ترین مرکز کمزور ہوتا ہو،ہمیں کسی قوم، مسلک یا ملک کے خلاف لشکر بننے کے بجائے اپنے اپنے ملک میں امن، اتحاد اور استحکام کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے مگر مکہ اور مدینہ جیسے پاکباز ترین شہروں پر حملوں کی دھمکیوں پر اظہار افسوس بھی ہونا چائیے کہ ایسا کرنا ڈائریکٹ اللہ کو چیلنج ہے جیسے ابرہہ نے کیا تھا اور آخر ذلیل ہو گیا


سب سے بڑھ کر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہہمیں مکہ کا لشکر بننا ہے، مدینہ کا لشکر بننا ہے یا ابرہہ کا لشکر نہیں بننا ہے ،ابرہہ وہ تھا جس نے مکہ پر حملہ کیا تھا اور مکہ و مدینہ کا لشکر وہ تھا جس کی کمان میرے محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور اسی لشکر نے دنیا کو جہالت سے نکالا اور دنیا نے ہر میدان میں ترقی کی اور انسانیت نے عزت کمائی جبکہ ابرہہ کے لشکر نے ذلالت قیامت تک کیلئے کما لی اور آج دن تک لعنتیں ہی لے رہا ہے