بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میں پردیسی تھی ، اب لاہوری ہوں: سسٹر پلار،تحریر: اعجاز راہی

نقطہ نظر
ejaz rahi blog

کچھ شخصیات اپنے عہدے سے نہیں بلکہ اپنے کردار، رویے اور پیچھے چھوڑے ہوئے اثرات سے پہچانی جاتی ہیں۔  تیئس اکتوبر، دوہزار چھبیس کے دن ، کانوینٹ آف جیزس اینڈ میری کی پرنسپل سسٹر پلار کا اس دنیا سے رخصت ہونا ان تمام لوگوں کے لیے دکھ کا لمحہ ہے جنہوں نے انہیں قریب سے دیکھا، ان کی رہنمائی حاصل کی یا ان کے ادارے سے وابستہ رہے۔ ایک تعلیمی ادارے کی سربراہی محض انتظامی ذمہ داری نہیں، بلکہ نسلوں کی تربیت، کردار سازی اور ایسے ماحول کی تشکیل کا نام بھی ہے جہاں طالبات علم کے ساتھ نظم و ضبط، احترام، خدمت اور انسانیت کے اقدار سیکھتی ہیں۔ سسٹر پلار کی وفات کے ساتھ لاہور ایک ایسی شخصیت سے محروم ہوگیا جس کی محبت اور خدمات کا دائرہ اسکول سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا تھا۔

سسٹر پلار کا تعلق اسپین سے تھا۔ وہ انیس سو ستانوے میں اپنی رضاکارانہ خواہش اور خدمت کے جذبے کے تحت پاکستان آئیں۔ ابتدا میں کراچی میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں لاہور منتقل ہوئیں، جہاں وہ کانوینٹ آف جیزس اینڈ میری کی پرنسپل رہیں۔ سنہ دو ہزار دو میں سپین کی حکومت نے ان کو گولڈ کورس ایوارڈ سے بھی نوازا،جو ان کو انکی تعلیمی خدمات کے عوض دیا گیا تھا۔ پاکستان میں تقریباً تین دہائیوں پر محیط ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ انسانیت کی خدمت کے لیے سرحدوں اور قومیتوں کی پابندیاں اہمیت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے پاکستان کو محض اپنی جائے خدمت نہیں سمجھا بلکہ یہاں کے لوگوں، ان کی مشکلات، خوشیوں اور ثقافت کو اپنا لیا۔

سسٹر پلار کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ان کی کوششیں تھیں۔ انیس سو ننانوے میں انہوں نے کانوینٹ اسکول کے اندر ایسے بچوں کے لیے ایک مرکز کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جہاں انہیں تعلیم اور تربیت کے مواقع میسر آسکیں۔ یہ اقدام ان کے رحم دل ہونے اور اس سوچ کا عکاس تھا کہ تعلیم ہر بچے کا حق ہے، چاہے اس کی جسمانی یا ذہنی صلاحیتیں عام بچوں سے مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔ ایسے بچوں کو معاشرے کا مفید اور خودمختار حصہ بنانے کی کوشش یقیناً ان کی قابلِ قدر خدمات میں شامل ہے۔

ان کی انسان دوستی صرف تعلیمی سرگرمیوں تک محدود نہیں تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ہر ہفتے اپنے دفتر میں ضرورت مند افراد سے ملاقات کے لیے وقت نکالتیں اور ان کی استطاعت و ضرورت کے مطابق مالی مدد، راشن اور دیگر ضروری اشیا فراہم کرتیں۔ ضرورت مند خاندانوں کی بچیوں کے جہیز کے انتظام میں بھی ان کا کردار رہا۔ یہ خاموش خدمت کسی تشہیر یا شہرت کی محتاج نہیں تھی؛ اس کا اصل مقصد ضرورت مندوں کی مشکلات کم کرنا اور انہیں یہ احساس دلانا تھا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ سسٹر پلار کے نزدیک خدمت محض ایک خیال نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں اپنایا جانے والا عمل تھی۔

سسٹر پلار کی شخصیت کا ایک اور خوب صورت پہلو پاکستان، بالخصوص لاہور اور اس کی ثقافت سے ان کی محبت تھی۔ وہ تعلیم کو صرف کتابوں اور امتحانات تک محدود نہیں سمجھتی تھیں، بلکہ ان کے نزدیک طالبات کی تربیت میں اپنی زبان، تہذیب اور مقامی روایات سے واقفیت بھی اہم تھی۔ اسی لیے وہ اپنے اسکول میں پنجابی ثقافت اور مقامی روایات کو اجاگر کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب لاہور میں بسنت کی تقریبات پر پابندی نہیں تھی، اس دور میں کانوینٹ آف جیزس اینڈ میری میں بھی بسنت کا رنگ نمایاں ہوتا تھا۔ رنگ برنگی پتنگیں اور تہوار کی خوشیاں اس بات کی علامت تھیں کہ مقامی ثقافت کو اپنانا لوگوں کے درمیان قربت اور محبت بڑھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

پنجابی ثقافت اور لاہور کے لوگوں سے ان کی اس وابستگی کو ایک جملہ خوب صورت انداز میں بیان کرتا ہے: ’’میں پردیسی تھی، اب لاہوری ہوں۔‘‘ یہ الفاظ محض ایک شہر سے محبت کا اظہار نہیں بلکہ اس تعلق کی عکاسی کرتے ہیں جو وقت، خلوص اور لوگوں کے ساتھ رہنے سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ اسپین سے آئی تھیں، مگر لاہور کی زندگی، ثقافت اور لوگوں نے ان کے دل میں ایسی جگہ بنائی کہ انہوں نے خود کو اس شہر کا حصہ سمجھنا شروع کردیا۔ ان کا یہ رویہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی معاشرے سے حقیقی تعلق صرف وہاں رہنے سے نہیں، بلکہ اس کے لوگوں کو اپنانے اور ان کی خوشیوں اور دکھوں میں شریک ہونے سے قائم ہوتا ہے۔

سسٹر پلار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی زندگی کو محبت، خدمت اور باہمی احترام کے پیغام کے طور پر یاد رکھا جائے۔ خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کی تعلیم کے لیے ان کی کوششیں، ضرورت مند خاندانوں کی مدد اور مختلف مذاہب و ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی ان کے انسان دوست کردار کی نمایاں مثالیں ہیں۔ انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ محبت کی کوئی سرحد، زبان یا مذہب نہیں ہوتا۔ انسان جب دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے تو اس کی خدمات اس کی زندگی سے آگے بھی یاد رکھی جاتی ہیں۔

آج جب ہم سسٹر پلار کو الوداع کہہ رہے ہیں تو ہمیں ان کی زندگی اور خدمات کو احترام سے یاد کرنے کے ساتھ ان کے جذبۂ خدمت کو آگے بڑھانے کا عہد بھی کرنا چاہیے۔ ایک معلم اور تعلیمی رہنما کا اصل ورثہ عمارتوں یا عہدوں میں نہیں بلکہ ان زندگیوں میں ہوتا ہے جنہیں وہ بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ ان کی زیرِ نگرانی تعلیم پانے والی طالبات، ان کے ساتھی اساتذہ اور ان سے وابستہ خاندان ان کی یاد کو اپنے اپنے انداز میں زندہ رکھیں گے۔ خداوندِ کریم سسٹر پلار کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے ساتھیوں، طالبات اور تمام سوگواروں کو صبر عطا فرمائے۔ سسٹر پلار رخصت ہوگئیں، لیکن ان کی محبت، خدمت اور لاہور سے وابستگی کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔