Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مذہب،روحانیت اور شعور،تحریر:پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

‎انسان کی زندگی شاید ایک مسلسل سفر کا نام ہے—اپنے آپ سے دوسروں تک، ظاہر سے باطن تک، یقین سے شعور تک۔ ہم پیدا ہوتے ہیں تو ہماری دنیا بہت چھوٹی ہوتی ہے۔ ماں کی گود، گھر کی چار دیواری اور چند مانوس چہرے ہی ہماری کائنات ہوتے ہیں۔ پھر عمر بڑھتی ہے تو دائرے وسیع ہوتے جاتے ہیں۔ خاندان سے معاشرہ، معاشرے سے قوم، قوم سے انسانیت اور انسانیت سے کائنات تک۔

‎

‎مگر عجیب بات یہ ہے کہ جسم کے ساتھ ہماری دنیا وسیع ہوتی رہتی ہے، ذہن ہمیشہ وسیع نہیں ہوتا۔

‎

‎کبھی انسان اپنی ہی بنائی ہوئی ایک چھوٹی سی حد کے اندر پوری زندگی گزار دیتا ہے اور اسے ہی مکمل کائنات سمجھ لیتا ہے۔

‎

‎مذہب، روحانیت اور شعور کو اگر تین دائروں کی صورت میں دیکھا جائے تو شاید انسانی باطن کے اس سفر کو نسبتاً آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔

‎

‎پہلا دائرہ: مذہب

‎

‎مذہب انسان کو زندگی کے لیے ایک سمت دیتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ خالق کون ہے، زندگی کا مقصد کیا ہے، اچھائی اور برائی میں فرق کیا ہے اور انسان کو اپنے رب، اپنے نفس اور دوسرے انسانوں کے ساتھ کس طرح کا تعلق قائم کرنا چاہیے۔

‎

‎مذہب کے ذریعے انسان عبادت، اخلاق، نظم و ضبط اور ذمہ داری سیکھتا ہے۔ یہ انسانی زندگی کو محض مادی وجود نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک معنوی مقصد عطا کرتا ہے۔

‎

‎لیکن ہر دائرے کی طرح مذہب کا دائرہ بھی انسان کے ہاتھ میں آکر کبھی کبھی ایک محدود شناخت بن جاتا ہے۔

‎

‎پھر انسان مذہب پر عمل کرنے کے بجائے مذہبی شناخت کی حفاظت میں زیادہ مصروف ہو جاتا ہے۔

‎

‎یہاں ایک لطیف سا فرق پیدا ہوتا ہے۔ مذہب جس نے انسان کو خدا کے قریب کرنا تھا، وہ کبھی کبھی انسان کو دوسرے انسان سے دور کرنے لگتا ہے۔مسئلہ مذہب نہیں، انسانی رویہ ہے۔

‎

‎جب عقیدہ انسان کے کردار میں محبت، رحم، دیانت اور عاجزی پیدا کرے تو مذہب روح کی روشنی بن جاتا ہے؛ لیکن جب وہ انسان کے اندر تکبر، نفرت اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کا جذبہ پیدا کرے تو ہمیں اپنے دائرے کی دیواروں کو ضرور دیکھنا چاہیے۔

‎

‎دوسرا دائرہ: روحانیت

‎

‎روحانیت مذہب کی نفی نہیں، بلکہ مذہبی تجربے کی گہرائی کا نام روحانیت ہے۔یہاں انسان دوسروں کو پرکھنے سے پہلے اپنے آپ کو پرکھنا شروع کرتا ہے۔وہ سوال بدل دیتا ہے۔

‎

‎اب وہ یہ نہیں پوچھتا کہ کون صحیح ہے؟بلکہ پوچھتا ہے:میں کتنا صحیح ہوں؟

‎

‎میں نے کتنے دل دکھائے؟

‎میں نے کتنے لوگوں کو معاف کیا؟

‎میں نے اپنے اختیار کا استعمال کس طرح کیا؟

‎کیا میری عبادت نے میرے کردار کو بہتر بنایا؟

‎کیا میرے ایمان نے میرے اندر محبت پیدا کی؟

‎

‎یہ وہ مقام ہے جہاں مذہب ایک شناخت سے بڑھ کر ایک تجربہ بننے لگتا ہے۔

‎

‎روحانیت انسان کے اندر وسعت پیدا کرتی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں صرف اس جیسے لوگ نہیں رہتے۔ مختلف زبانیں، مختلف ثقافتیں، مختلف مذاہب اور مختلف خیالات رکھنے والے انسان بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں۔

‎

‎اختلاف اب دشمنی نہیں رہتا۔

‎

‎انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کسی دوسرے کے مختلف ہونے سے اس کی اپنی شناخت خطرے میں نہیں پڑتی۔

‎

‎یہ احساس انسان کو آزاد کرتا ہے۔

‎

‎نفرت دراصل انسان کے اندر ایک مسلسل جنگ ہے۔ جس شخص سے ہم نفرت کرتے ہیں، وہ ہماری زندگی میں موجود نہ بھی ہو تو ہمارے ذہن میں موجود رہتا ہے۔ ہم اسے بار بار یاد کرتے ہیں، اس کے خلاف سوچتے ہیں اور اپنے اندر غصہ پیدا کرتے رہتے ہیں۔

‎

‎محبت اس کے برعکس انسان کو آزاد کرتی ہے۔

‎

‎اسی لیے روحانیت کا ایک بنیادی سبق شاید یہ ہے کہ دل کو وسیع کیا جائے۔

‎

‎تیسرا دائرہ: شعور

‎

‎اس سفر کا سب سے وسیع دائرہ شعور کا ہے۔

‎

‎یہاں ہم ایک فلسفیانہ تصور سے دوچار ہوتے ہیں: کیا ہم واقعی اتنے الگ ہیں جتنا ہمیں دکھائی دیتے ہیں؟

‎

‎ہماری شخصیتیں الگ ہیں، جسم الگ ہیں، زبانیں الگ ہیں، خیالات مختلف ہیں، مگر انسانی تجربے کی بنیادی کیفیتیں حیرت انگیز طور پر مشترک ہیں۔

‎

‎ہر انسان خوش ہونا چاہتا ہے۔

‎ہر انسان دکھ سے بچنا چاہتا ہے۔

‎ہر انسان محبت چاہتا ہے۔

‎ہر انسان عزت اور تحفظ کا خواہش مند ہے۔

‎اور ہر انسان کسی نہ کسی شکل میں زندگی کے معنی تلاش کرتا ہے۔

‎

‎اسی لیے شعور کو ایک ایسے وسیع انسانی دائرے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں ’’میں‘‘ کی سرحدیں آہستہ آہستہ ’’ہم‘‘ میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔

‎

‎ایک درخت پر ہزاروں پتے ہوتے ہیں۔ ہر پتا اپنی جگہ منفرد ہے، مگر سب ایک ہی درخت سے جڑے ہوتے ہیں۔

‎

‎یہی تصور ہمیں انسانوں کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

‎

‎ہم الگ ہیں، مگر بالکل بے تعلق نہیں۔

‎

‎ہماری خوشی دوسروں کی خوشی سے جڑی ہے۔ ہماری ترقی معاشرے کی ترقی سے جڑی ہے۔ ہماری آزادی دوسرے کی آزادی سے متاثر ہوتی ہے۔ اور ہماری انسانیت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب ہم دوسرے انسان کے دکھ کو صرف ’’اس کا مسئلہ‘‘ سمجھنے کے بجائے اسے انسانی مسئلہ سمجھتے ہیں۔

‎

‎غصے کا چھوٹا دائرہ

‎

‎غصہ انسان کے شعور کو محدود کر دیتا ہے۔

‎

‎غصے میں انسان صرف اپنی بات دیکھتا ہے۔ اسے اپنی تکلیف بڑی اور دوسرے کی تکلیف معمولی محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنی دلیل کو مکمل سچ اور دوسرے کی دلیل کو محض غلطی سمجھتا ہے۔

‎

‎اس طرح اس کا دائرہ سکڑتا جاتا ہے۔

‎

‎اس کے برعکس خوشی، محبت، برداشت اور شعور انسان کے دائرے کو وسیع کرتے ہیں۔

‎

‎خوش انسان کا مطلب یہ نہیں کہ اسے زندگی میں کوئی مسئلہ نہیں۔ خوش انسان وہ بھی ہوسکتا ہے جو مشکلات کے باوجود اپنی دنیا کو صرف اپنی مشکل تک محدود نہیں کرتا۔

‎

‎وہ جانتا ہے کہ زندگی میں اختلاف بھی ہے، ناکامی بھی، دکھ بھی اور محرومی بھی؛ مگر ان سب کے باوجود محبت، امید اور انسانیت کے لیے جگہ باقی رہتی ہے۔

‎

‎شاید انسانی زندگی کا سب سے بڑا سفر فاصلے طے کرنا نہیں بلکہ دائرے وسیع کرنا ہے۔بچپن میں ہمارا دائرہ ’’میں‘‘ ہوتا ہے۔پھر ’’میںحرا گھر‘‘ آتا ہے۔اس کے بعد ’’میرا خاندان‘‘، ’’میرا شہر‘‘، ’’میرا ملک‘‘ اور ’’میرا مذہب‘‘۔

‎

‎لیکن شعور کی پختگی شاید اس وقت شروع ہوتی ہے جب ’’میرا‘‘ آہستہ آہستہ ’’ہمارا‘‘ بننے لگتا ہے۔

‎

‎تب انسان سمجھتا ہے کہ دنیا صرف اس کے لیے نہیں بنی۔ دوسرے انسان بھی اسی حق کے ساتھ اس دنیا میں موجود ہیں جس حق کے ساتھ وہ خود موجود ہے۔

‎

‎مذہب ہمیں راستہ دکھا سکتا ہے، روحانیت ہمیں اس راستے کے معنی سمجھا سکتی ہے اور شعور ہمیں یہ احساس دلا سکتا ہے کہ ہمارا سفر صرف اپنی ذات تک محدود نہیں۔

‎

‎آخرکار سوال یہ نہیں کہ ہمارا دائرہ کتنا بڑا ہے۔

‎

‎اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے دائرے میں کتنے انسانوں کے لیے جگہ بنائی ہے؟

‎

‎اگر ہمارے عقیدے میں محبت کے لیے جگہ نہیں، ہماری روحانیت میں برداشت کے لیے جگہ نہیں اور ہمارے شعور میں دوسرے انسان کے لیے جگہ نہیں، تو شاید ہمیں اپنے دائرے کی وسعت پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

‎

‎کیونکہ انسان کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ دوسروں کو اپنے دائرے سے باہر نکال دے۔

‎

‎انسان کی عظمت اس میں ہے کہ وہ اپنے دائرے کو اتنا وسیع کردے کہ اس میں پوری انسانیت سما سکے۔

‎

‎اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب عقیدہ رہنے کے ساتھ کردار بن جاتا ہے، روحانیت احساس بن جاتی ہے اور شعور انسان کو ’’میں‘‘ سے اٹھا کر ’’ہم‘‘ کی منزل تک لے جاتا ہے۔

‎