معاشرتی عدم احساس ،تحریر:پروفیسر عامر زریں
نقطہ نظر
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم سب ایک ایسے بازار میں رہتے ہیں جہاں ہر شخص اپنے حصے کی زندگی خریدنے کے لیے دوسروں کی زندگی پر قدم رکھ رہا ہے۔ عجیب بازار ہے! یہاں دکانیں بھی بہت ہیں، خریدار بھی بہت، مگر انسان کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر چہرہ مصروف ہے، ہر ہاتھ میں موبائل ہے، ہر آنکھ کسی منزل کی تلاش میں ہے اور ہر دل شاید یہ حساب لگا رہا ہے کہ مجھے اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں رہنا۔
ہم اسے ترقی کہتے ہیں، مصروفیت کہتے ہیں، مقابلہ کہتے ہیں، مگر کبھی کبھی یہ سب نام اس حقیقت کو چھپانے کے لیے کافی نہیں ہوتے کہ ہم ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
پہلے محلے میں کسی گھر سے کھانے کی خوشبو آتی تو پڑوسی کے دروازے پر دستک بھی پہنچ جاتی تھی۔ اب کھانا بھی گھر سے باہر آتا ہے اور پڑوسی بھی شاید سوشل میڈیا سے معلوم ہوتا ہے۔ پہلے کسی کے گھر بیماری ہوتی تو محلے کو خبر ہو جاتی تھی؛ اب کسی کی بیماری کا علم اس وقت ہوتا ہے جب وہ اسپتال کی تصویر لگا کر لکھتا ہے: "دعاؤں کی درخواست ہے۔" اور ہم نیچے ایک لفظ لکھ دیتے ہیں: Get well soon.
شاید ہم نے دعاؤں کو بھی مختصر کر دیا ہے۔
ہماری نفسا نفسی اور عدم احساسِ کا سب سے عجیب پہلو یہ ہے کہ ہمیں دوسروں کی تکلیف سے زیادہ ان کی کامیابی دکھائی دیتی ہے۔ کسی کے گھر میں خوشی ہو تو ہم پوچھتے ہیں، کتنے میں ہوا؟ کسی نے نئی گاڑی لی ہو تو ہمیں اس کی قیمت معلوم کرنی ہوتی ہے۔ کسی نے نیا گھر بنایا ہو تو ہم اس کے نقشے سے زیادہ اس کی مالیت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ کسی کا بچہ بیرونِ ملک چلا جائے تو ہمیں اس کی تعلیم سے زیادہ یہ فکر ہوتی ہے کہ کس ملک گیا ہے؟
انسان شاید انسان سے نہیں، اب اس کے اسٹیٹس سے ملتا ہے۔
اور اس دوڑ میں سب سے زیادہ حیرت انگیز چیز یہ ہے کہ ہر شخص تھکا ہوا ہے، مگر کوئی رکنا نہیں چاہتا۔ سب کہتے ہیں وقت نہیں ہے۔ وقت کس کے پاس ہے؟ ماں کے پاس نہیں، باپ کے پاس نہیں، اولاد کے پاس نہیں، دوست کے پاس نہیں۔ حتیٰ کہ اپنے پاس بھی نہیں۔
ہم دوسروں کے لیے وقت نکالنے کو خسارہ سمجھنے لگے ہیں۔
کبھی کسی دوست کے پاس بیٹھ کر دو گھنٹے بے مقصد باتیں کرنا زندگی کا حصہ تھا۔ اب اگر کسی ملاقات سے کوئی فائدہ، کوئی تعلق، کوئی کاروباری امکان یا کوئی تصویر نہ نکلے تو ہم اسے وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان مصروف سے مفاد پرست بننا شروع ہوتا ہے۔
معاشرتی نفسا نفسی صرف دولت کی دوڑ کا نام نہیں۔ یہ دراصل عدم احساس کا نام ہے۔ آپ کے پاس لاکھوں روپے ہوں اور آپ کسی بھوکے کو کھانا نہ دے سکیں تو مسئلہ آپ کی دولت کا نہیں، آپ کے دل کا ہے۔ آپ کے پاس علم ہو اور آپ کسی کم علم کو حقیر سمجھیں تو مسئلہ اس کی لاعلمی کا نہیں، آپ کے علم کی کم مائیگی کا ہے۔
ہم نے شاید کامیابی کی تعریف بھی عجیب بنا لی ہے۔ کامیاب وہ ہے جس کے پاس بڑا گھر، مہنگی گاڑی، اچھا عہدہ اور خوبصورت تصاویر ہوں۔ یہ سوال کم پوچھا جاتا ہے کہ وہ انسان کتنا اچھا ہے؟
ہماری ترجیحات میں بھی ایک خاموش انقلاب آ چکا ہے۔
اب کسی بزرگ کے پاس بیٹھنے سے زیادہ اہم کسی اہم شخص کے ساتھ تصویر بنوانا ہے۔ کسی غریب کی مدد کرنے سے زیادہ اہم یہ بتانا ہے کہ ہم نے کتنی بڑی رقم عطیہ کی۔ کسی کی بات سننے سے زیادہ ضروری اپنی بات کہنا ہے۔ ہم نے ہمدردی کو بھی شاید نمائش بنا دیا ہے۔
اور پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ معاشرہ بے حس ہو گیا ہے۔
معاشرہ آخر ہے کیا؟ ہم ہی تو معاشرہ ہیں۔
اگر سڑک پر ایک شخص گر جائے اور ہم اس کی مدد کرنے کے بجائے راستہ بدل لیں تو معاشرہ بے حس نہیں ہوا، ہم بے حس ہوئے ہیں۔ اگر ایک بوڑھا شخص بس میں کھڑا ہو اور ہم نظریں موبائل میں گاڑ لیں تو تہذیب کہیں باہر نہیں گئی، ہماری نگاہ سے نکل گئی ہے۔
شاید ہمیں ترقی سے زیادہ توقف کی ضرورت ہے۔ کبھی دوڑ سے باہر نکل کر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جس شخص کو ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں، شاید وہ ہمارا اپنا ہی کوئی عزیز تھا۔
زندگی بہت مختصر ہے۔ آخر میں نہ گاڑی ساتھ جائے گی، نہ عہدہ، نہ شہرت، نہ بینک بیلنس۔ شاید صرف یہ یاد رہ جائے گا کہ ہم نے کتنے لوگوں کو راستہ دیا، کتنے آنسو پونچھے، کتنے دل جوڑے اور کتنے لوگوں کے لیے آسانی بنے۔
اس لیے کبھی کبھی اپنی رفتار کم کر لیجیے.
کسی اجنبی کو راستہ دے دیجیے۔
کسی پرانے دوست کو بلا وجہ فون کر لیجیے۔
گھر میں بیٹھے کسی خاموش شخص سے پوچھ لیجیے، "کیا بات ہے؟"
ممکن ہے اسے دوا کی نہیں، صرف آپ کے چند لمحوں کی ضرورت ہو۔
اور شاید یہی چند لمحے ہمیں دوبارہ انسان بنا دیں۔
کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی دوڑ میں جیتنے والا وہ نہیں جو سب سے آگے نکل جائے، بلکہ شاید وہ ہے جو دوڑتے ہوئے بھی کسی گرے ہوئے انسان کو اٹھانے کے لیے رک جائے۔
مزید پڑھیں





