پاکستان میں نفسیاتی بحران، اسباب، محرکات اور ممکنہ حل،تحریر: پروفیسر عامر زریں
نقطہ نظر
انسان کی صحت کا تصور صرف جسمانی تندرستی تک محدود نہیں۔ ذہنی سکون، جذباتی توازن، مثبت طرزِ فکر اور زندگی کے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت بھی صحت ہی کے بنیادی اجزا ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ذہنی صحت کا مسئلہ ایک سنگین سماجی بحران کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ معاشی بے یقینی، سیاسی عدم استحکام، بے روزگاری، مہنگائی، خاندانی تنازعات اور مستقبل کے بارے میں بڑھتی ہوئی مایوسی نے شہریوں کی نفسیاتی کیفیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ صورت حال محض انفرادی پریشانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی نظامِ زندگی میں موجود ان خامیوں کی نشان دہی کرتی ہے جنہیں نظرانداز کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا ہر تیسرا شہری کسی نہ کسی نفسیاتی مسئلے کا شکار ہے۔ تاہم اس شرح کو حتمی اور مستند قومی اعدادوشمار قرار دینے سے پہلے اس کے ماخذ، سروے کے طریقء کار اور تعریف کو جانچنا ضروری ہے۔ ذہنی دباؤ، اضطراب، افسردگی اور باقاعدہ تشخیص شدہ ذہنی عوارض ایک دوسرے سے متعلق ضرور ہیں، مگر یکساں نہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ذہنی صحت کو نظرانداز کرنا ہمارے معاشرے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
پاکستان میں نفسیاتی مسائل کے اہم اسباب میں معاشی مشکلات سرفہرست ہیں۔ جب ایک شخص دن رات محنت کرنے کے باوجود اپنے خاندان کے لیے خوراک، رہائش، تعلیم اور علاج کی بنیادی ضروریات پوری نہ کرسکے تو اس کی ذہنی کیفیت متاثر ہونا فطری ہے۔ بجلی اور گیس کے بل، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، محدود آمدنی اور قرضوں کا بوجھ مسلسل ذہنی دباؤ پیدا کرتے ہیں۔
بے روزگار نوجوانوں کے لیے صورت حال مزید پیچیدہ ہے۔ تعلیمی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مناسب روزگار نہ ملنا، سفارش اور اقرباپروری کا احساس، معاشرتی موازنہ اور والدین کی توقعات نوجوانوں میں احساسِ محرومی کو بڑھاتے ہیں۔ جب محنت اور قابلیت کے باوجود کامیابی کا راستہ بند دکھائی دے تو مایوسی، اضطراب اور خود اعتمادی میں کمی پیدا ہوسکتی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں خاندان کو تحفظ اور جذباتی آسودگی کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن گھریلو تنازعات، ازدواجی کشیدگی، تشدد، وراثتی جھگڑے اور نسلوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ بعض اوقات اسی نظام کو ذہنی اذیت کا سبب بنا دیتے ہیں۔بچوں پر تعلیمی کامیابی کا غیر معمولی دباؤ، خواتین کے مسائل کو غیر اہم سمجھنا، بزرگوں کی تنہائی اور نوجوانوں کی بات سنے بغیر ان پر فیصلے مسلط کرنا نفسیاتی مشکلات کو بڑھا سکتا ہے۔ بہت سے گھرانوں میں ذہنی پریشانی کا شکار فرد کو ہمدردی دینے کے بجائے کمزور، ناشکرا یا ایمان میں کمزور قرار دے دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ اپنی کیفیت بیان کرنے اور مدد حاصل کرنے سے گریز کرتا ہے۔یہ رویہ تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ذہنی بیماری نہ کردار کی کمزوری ہے، نہ کسی شخص کی اخلاقی ناکامی۔ یہ مختلف حیاتیاتی، نفسیاتی اور سماجی عوامل کے امتزاج سے پیدا ہوسکتی ہے اور مناسب مدد سے اس کا علاج یا مؤثر انتظام ممکن ہے۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے رابطوں کو آسان بنایا ہے، لیکن ان کے غیر متوازن استعمال نے نئے مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ دوسروں کی خوش حال زندگیوں، مہنگے لباس، بیرونِ ملک دوروں اور کامیابیوں کی مسلسل نمائش نوجوانوں میں احساسِ کمتری اور محرومی پیدا کرسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی زندگی اکثر مکمل تصویر نہیں ہوتی، لیکن دیکھنے والا اپنی حقیقی زندگی کا موازنہ دوسروں کی منتخب اور خوب صورت جھلکیوں سے کرنے لگتا ہے۔اسی طرح جھوٹی خبروں، سیاسی کشیدگی، حادثات اور پرتشدد واقعات کی مسلسل اطلاعات ذہنی تھکن میں اضافہ کرسکتی ہیں۔ آن لائن ہراسانی، نیند کی کمی اور حقیقی انسانی تعلقات سے دوری بھی مسئلے کو پیچیدہ بناتی ہے۔ اس کا حل ٹیکنالوجی سے فرار نہیں بلکہ اس کا متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال ہے۔
ہمارے معاشرے میں برداشت کی کمی اور غصے کا بڑھتا ہوا اظہار بھی قابلِ توجہ ہے۔ ٹریفک کے معمولی تنازعات سے لے کر خاندانی اختلافات اور سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز گفتگو تک، ہر جگہ جذباتی ضبط میں کمی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم ہر جارحانہ رویے کو ذہنی بیماری قرار دینا بھی درست نہیں۔ ایسے رویوں کے پیچھے تربیت، سماجی ماحول، دباؤ اور انفرادی حالات سمیت متعدد عوامل ہوسکتے ہیں۔جب معاشرہ مکالمے کی جگہ الزام، اختلاف کی جگہ نفرت اور ہمدردی کی جگہ تضحیک کو اختیار کرلے تو افراد کے لیے جذباتی طور پر محفوظ ماحول کم ہوتا جاتا ہے۔ ذہنی صحت کا تحفظ صرف ہسپتالوں اور معا لجین کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمارے روزمرہ برتاؤ سے بھی وابستہ ہے۔
پاکستان میں ذہنی صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کو قومی سطح پر ایک جامع اور قابلِ پیمائش ذہنی صحت پالیسی نافذ کرنی چاہیے۔ بنیادی مراکزِ صحت میں نفسیاتی مشاورت اور ابتدائی تشخیص کی سہولت شامل کی جائے، ضلعی سطح پر ماہرینِ نفسیات اور نفسیاتی معا لجین کی دستیابی یقینی بنائی جائے، اور کم آمدنی والے افراد کے لیے علاج کو صحت کے سرکاری پروگراموں میں شامل کیا جائے۔ ہنگامی مدد کے لیے ایک فعال، مفت اور رازداری پر مبنی قومی ہیلپ لائن بھی قائم ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ خودکشی کی روک تھام، منشیات کے استعمال، گھریلو تشدد اور آفات سے متاثرہ افراد کے لیے خصوصی خدمات فراہم کی جائیں۔
تعلیمی اداروں میں ہر طالب علم کے لیے محفوظ اور رازدارانہ مشاورتی نظام ہونا چاہیے۔ اساتذہ کو ذہنی دباؤ، اضطراب، ہراسانی اور خود کو نقصان پہنچانے کے ممکنہ اشاروں کی شناخت کی تربیت دی جائے۔ امتحانی نظام میں غیر ضروری دباؤ کم کیا جائے، کھیل، فنون اور غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے وقت مختص کیا جائے، اور طلبہ کو یہ اعتماد دیا جائے کہ مدد طلب کرنا شرمندگی نہیں۔ جامعات میں ہم جماعت معاونت کے پروگرام اور آن لائن مشاورت بھی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
خاندانوں کو چاہیے کہ وہ گفتگو، سننے اور ہمدردی کو معمول بنائیں۔ بچوں اور نوجوانوں پر مسلسل موازنہ اور غیر حقیقی توقعات مسلط کرنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں اور جذبات کو سمجھا جائے۔ گھر میں تشدد، تضحیک اور خاموشی کے کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اگر کسی فرد میں طویل عرصے تک اداسی، بے خوابی، شدید خوف، سماجی تنہائی یا خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات نظر آئیں تو اسے ڈانٹنے کے بجائے ماہر سے رابطہ کرایا جائے۔
میڈیا کو ذہنی صحت کے موضوعات پر ذمہ دارانہ اور معلوماتی رپورٹنگ کرنی چاہیے۔ خودکشی یا تشدد کے واقعات کی سنسنی خیز تفصیل، متاثرہ افراد کی شناخت اور غیر ضروری تصاویر سے گریز کیا جائے۔ اس کے بجائے مستند ماہرین کی آرا، مدد کے ذرائع اور علاج کی امید کو نمایاں کیا جائے۔ ڈراموں، اشتہارات اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے ذہنی بیماری سے متعلق غلط تصورات کم کیے جاسکتے ہیں۔
افراد کی سطح پر روزمرہ زندگی میں چند عملی عادات مددگار ثابت ہوسکتی ہیں: مناسب نیند، متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، محدود اور شعوری سوشل میڈیا استعمال، قابلِ اعتماد لوگوں سے گفتگو اور ضرورت پڑنے پر پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنا۔ ہر شخص کو اپنے جذبات کا مشاہدہ کرنا، کام اور آرام میں توازن رکھنا اور دوسروں کی کیفیت کے بارے میں غیر فیصلہ کن رویہ اپنانا چاہیے۔ البتہ خود مدد کی یہ عادات ماہرِ صحت کے علاج کا متبادل نہیں؛ شدید یا مسلسل علامات کی صورت میں مستند ماہر سے رجوع ضروری ہے۔
پاکستان کا ذہنی صحت کا بحران پیچیدہ ضرور ہے، مگر ناقابلِ حل نہیں۔ اس کے لیے محض وقتی مہمات نہیں بلکہ مسلسل حکومتی سرمایہ کاری، بہتر طبی سہولیات، ذمہ دار تعلیمی نظام، معاون خاندان، حساس میڈیا اور باخبر شہریوں کی مشترکہ کوشش درکار ہے۔ ہمیں ذہنی بیماری کو چھپانے، مذاق بنانے یا اخلاقی کمزوری سمجھنے کے بجائے اسے صحت کے ایک حقیقی مسئلے کے طور پر قبول کرنا ہوگا۔ جب مدد طلب کرنا معمول بنے گا، علاج قابلِ رسائی ہوگا اور معاشرہ ہمدردی و مکالمے کو فروغ دے گا تو نہ صرف افراد کی زندگی بہتر ہوگی بلکہ پاکستان زیادہ صحت مند، پُرامن اور مضبوط معاشرہ بھی بن سکے گا۔
مزید پڑھیں





