اللہ تعالی رب العزت نے اپنی تمام مخلوقات کے لیے اس قدرت کے ہر ذرے میں مختلف نشانیاں رکھی ہیں کائنات کا ہر ذرہ اللہ تعالی کی بنائی گئی مخلوقات کے لیے ہے اور اس تمام کائنات میں جہاں بے پناہ نعمتیں مخلوقات کو میسر ہیں ان میں سے سب سے اہم اور افضل نعمت پانی کی ہے۔ پانی ایک ایسی نعمت کہ جس کے بغیر کوئی بھی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا کوئی بھی زندگی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ حیات انسانی سے لے کر حیات نباتاتی اور حیوانات تک ہر چیز کو زندہ رہنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اج سے تقریبا صدی پہلے تمام دنیا میں پانی وافر مقدار میں موجود تھا نہ صرف وافر مقدار میں موجود تھا بلکہ صاف شفاف پانی ہر جاندار کے لیے موجود بھی تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں انسانوں نے اس قدرت اور اس کائنات کے رازوں کو تسخیر کرنا شروع کیا وہاں اس نے اپنی سہولیات کے لیے کائنات کے نظام کو شکست دینے کی ناکام کوشش بھی کی اور جب وہ اس راستے پہ چل پڑا تو پھر ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس میں اج کل سب سے زیادہ سرفہرست مسئلہ پانی کی قلت ہے۔ انسان نے اپنے رہنے کے لیے نئے شہروں کی بنیاد رکھی اور ان شہروں کو آباد کرنے کے لیے اس نے جس طرح بے دریغ جنگلات کو کاٹا ہے اس سے پانی کی قلت میں بے پناہ اضافہ ہوا ابادی میں اضافے کے باعث لوگوں نے گاؤں سے شہروں کا رخ کیا ہے اس کی ایک وجہ کسی حد تک جدید ٹیکنالوجی اور دوسری سہولیات سے فیضیاب ہونا بھی ہے جس کی وجہ سے جنگلات کو کاٹ کر نئے شہروں کو اباد کیا گیا ہے اور پانی کی قلت واضح طور پر ہم سب کے سامنے ائی ہے پانی کی قلت کی دوسری بڑی وجہ بارش کی کمی بھی ہے۔ درختوں کی کمی کی وجہ سے بارشوں میں بھی مزید کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی قلت کی ایک بڑی وجہ بارش کے پانی کو محفوظ نہ کرنا بھی ہے ترقی یافتہ ممالک میں ہم دیکھتے ہیں کہ بارش کے پانی کو اس طرح محفوظ کیا جاتا ہے کہ وہ نا صرف بجلی بنانے کے کام آتا ہیں بلکہ پانی کی قلت کو بھی پورا کرنے کے کام آتا ہیں۔ لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اس بات کی طرف بالکل توجہ نہیں دی جا رہی کہ ہم پانی کی قلت کو درختوں کے کٹاؤ اور بارش کی کمی کے باعث کس طرح روک سکتے ہیں۔ شہروں میں گاؤں کی نسبت پانے کی قلت زیادہ توجہ طلب مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ صنعتی مراکز بھی ہیں جہاں پر فیکثریوں اور کارخانوں میں پانی کا بے درہغ استعمال کیا جاتا ہے اور ان سے نکلنے والا گندا پانی نہ صرف ماحول کو آلودہ بنا رہا ہے بلکہ پینے کے صاف اور شفاف پانی کی قلت کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ہمارے ملک میں پانی کو ضائع کرنے کا جو رواج پروان چڑھتا جا رہا ہے۔ وہ بھی پانی قلت کی ایک اہم وجہ ہے پہلے پہل گاؤں میں صاف شفاف پانی وافر مقدار میں موجود ہوتا تھا لیکن اب وہاں پہ بھی پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم ریگستان کی بات کریں تو وہاں پر شروع سے پانی کی قلت موجود رہی ہے وہاں کے کنویں بہت حد تک زیر زمین پانی کو اپنی طرف کھینچنے میں ناکام رہے ہیں لیکن اب صورتحال مزید بگڑتی جا رہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ پانی اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کو جس طرح ہم ضائع کر رہے ہیں وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب پانی ہماری زمین سے بہت نیچے چلا جائے گا اور ہمارے لیے صاف شفاف پانی ایک خواب بن کے رہ جائے گا۔ اج بھی جب ہم شہروں کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو کہیں پر بھی ایسے پانی دستیاب نہیں ہے جو ہمارے پینے کے لیے مفید ہو۔ ہر جگہ فلٹر پلانٹس لگائے گئے ہیں جو تمام انسانوں کی پانی کی ضروریات کو پورا کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود اس میں وہ تمام چیزیں دیکھنے میں ارہی ہیں جو انسانی صحت کے لیے مضر ہیں۔ انسانوں کی کمزوریوں اور خامیوں کی وجہ سے زمین کے حیوانات اور نباتات بھی پانی سے محروم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ان کی وہ ضروریات جو صاف شفاف پانی پوری کر سکتا تھا اپ پوری نہیں ہو رہی یاد رکھیے پانی کا ہر قطرہ ایک زندگی ہے اور کسی بھی زندگی کو بچانے کے لیے پانی بہت ضروری ہے اللہ تعالی نے زندگی کی بنیادی وجہ پانی کو ہی قرار دیا ہے۔اگر ہم نے انسانوں کے ساتھ ساتھ اس قرار سے موجود تمام مخلوقات کو ایک بہتر زندگی دینی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی انے والی نسلوں اور انے والی مخلوقات کے لیے پانی کو بہتر طریقے سے محفوظ کریں ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے صاف اور شفاف پانی ہر مخلوق کو میسر ہو۔شہر ہو یا گاؤں نخلستان ہو یا وادیاں پانی کی قدر و قیمت ہر جگہ اپنی مسلم حقیقت کی طرح واضح ہے۔ ہمیں حکومتی سطح سے بالکل ہٹ کر ہمیں خود بھی ایسے اقدامات کرنے چاہیے جس سے پانی کم استعمال ہو اور محفوظ بھی رہ سکے پانی کا بے دریغ استعمال اور اس کو ضائع کرنا اپنے ساتھ اور اپنے سے جڑی تمام زندگیوں کے ساتھ نا انصافی اور زیادتی کے مترادف ہے۔ آئیے یہ عہد کریں کہ ہم پانی بچا کر بہت سی زندگیوں کو محفوظ کریں گے ان شاءاللہ ۔۔
مزید پڑھیں






