رات کے دو بجے عائشہ کے دروازے پر دستک ہوئی۔ اتنی رات گئے دستک سن کر اس کا دل دھڑکنے لگا۔ اس نے دروازہ کھولا تو باہر ایک بوڑھا آدمی کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا لفافہ تھا۔ بوڑھے نے لفافہ عائشہ کی طرف بڑھایا اور کہا، "یہ تمہارے والد نے مجھے بیس سال پہلے دیا تھا۔ کہا تھا کہ یہ خط صرف اسی وقت دینا جب تم سچ جاننے کے قابل ہو جاؤ۔"
عائشہ نے کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا۔ صرف چند الفاظ لکھے تھے: "عائشہ۔ جس شخص کو تم اپنا بھائی سمجھتی ہو وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔ تمہاری اصل ماں زندہ ہے اور وہ تمہیں آج بھی تلاش کر رہی ہے۔"
عائشہ نے حیرت سے بوڑھے کو دیکھا۔ "میری ماں کہاں ہے؟"
بوڑھے نے جواب دینے کے بجائے کہا، "کل صبح پرانے ریلوے اسٹیشن پر آنا۔ وہاں تمہیں اپنی زندگی کا سب سے بڑا سچ ملے گا۔" یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ عائشہ ابھی دروازہ بند کرنے ہی والی تھی کہ اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اوپر والی کھڑکی سے اسے دیکھ رہا ہے۔ وہ شخص کون تھا؟ اور کیا عائشہ واقعی اپنی اصل ماں تک پہنچ پائے گی؟
عائشہ نے گھبرا کر مڑ کر دیکھا تو سیڑھیوں پر ہارون کھڑا تھا، اس کا وہ بھائی جس نے والدین کے بعد اسے سگی بہن سے بڑھ کر چاہا تھا۔ ہارون کے چہرے پر عجیب سنجیدگی تھی۔ "اتنی رات گئے کس سے بات کر رہی تھیں عائشہ؟" عائشہ نے خط دوپٹے میں چھپا لیا اور جھوٹ بولا، "کوئی نہیں بھائی، شاید کوئی راستہ بھول گیا تھا۔"
وہ رات عائشہ نے جاگتے ہوئے گزاری۔ صبح پانچ بجے وہ خاموشی سے پرانے ریلوے اسٹیشن کی طرف چل پڑی۔ اسٹیشن پر گہری دھند تھی اور پٹریاں ویران تھیں۔ عائشہ نے چاروں طرف دیکھا۔ اچانک ایک گودام کے پیچھے سے وہی بوڑھا آدمی نمودار ہوا، مگر اس کے چہرے پر خوف تھا۔
"تم آ گئیں بیٹی؟" بوڑھے نے ہانپتے ہوئے کہا۔ "تمہیں جلدی کرنا ہوگی۔ تمہاری ماں کو بیس سال سے ایک بند کوٹھڑی میں قید رکھا گیا ہے، اور اسے قید رکھنے والا کوئی اور نہیں۔۔۔"
ابھی بوڑھے کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ گولی کی ہولناک آواز گونجی۔ بوڑھا چیخ مار کر زمین پر گر پڑا۔ عائشہ نے مڑ کر دیکھا تو سامنے ہارون کھڑا تھا، جس کے ہاتھ میں پستول تھی!
"بھائی! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟" عائشہ نے روتے ہوئے پوچھا۔
ہارون نے تلخ مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "میں نے کہا تھا نا عائشہ کہ تم میری بہن نہیں ہو۔ لیکن میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا۔ تمہارے والد نے میری ماں سے سب کچھ چھین لیا تھا، اور میری ماں نے بدلے میں تمہیں ان سے دور کر دیا۔ لیکن میں تمہاری معصومیت کا اسیر ہو گیا۔ میں تمہیں اس سچ سے دور رکھنا چاہتا تھا تاکہ تم مجھ سے نفرت نہ کرو۔"
اسی لمحے گودام کا دروازہ کھلا اور ایک ضعیف عورت لاٹھی کے سہارے باہر آئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور چہرے پر ممتا کی تڑپ۔ وہ عائشہ کی اصل ماں تھی، جسے ہارون کی ماں نے قید رکھا تھا لیکن ہارون چھپ کر اس کی دیکھ بھال کرتا تھا تاکہ وہ زندہ رہے۔
"عائشہ! میری بچی!" ماں نے پکارا۔
عائشہ دوڑ کر اپنی ماں کے گلے لگ گئی۔ نفرت، محبت اور سچائی کے اس جال میں عائشہ کو ماں تو مل گئی تھی، لیکن بیس سال کا جھوٹ اور ہارون کا بدلا ہوا روپ اس کے دل پر گہرا زخم چھوڑ گیا تھا۔ ہارون نے پستول پھینک دی اور خود کو پولیس کے حوالے کرنے کے لیے آگے بڑھ گیا۔ سچ جیت چکا تھا، مگر رشتے ہار چکے تھے۔
مزید پڑھیں






