Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

قلم کی طاقت،تحریر :شگفتہ خان

نقطہ نظر
shagufta khan blog

روز ازل سے یہ بات واضح اور روشن ہے کہ "قلم تلوار سے ذیادہ طاقتور "ہے۔ رب کائنات نے سب سے پہلے قلم کو تخلیق کر کے ہمیں اس کی اہمیت بتا دی۔ پھر گزرتے وقت نے یہ ثابت کیا کہ جہاں تلوار نہ چلی وہاں قلم نے یہ کام سر انجام دیا ہے۔ اس کی روشن مثال مولا حسن ع کی وہ شرائط ہیں جو اس دور میں آپ نے صلح کرنے کےلئے رکھی تھیں۔ اس دور میں آپ ع کے قلم نے وہ کام کیا تھا جو کربلا میں مولا حسین ع کی تلوار نے کیا تھا۔ وقت نے ثابت کیا کہ ہر دور میں قلم کے ذریعے سچائی کی جنگ لڑی گئی ہے۔ اسی قلم کے ذریعے انسان جو غاروں میں رہتا تھا۔ علم و تحقیق کی بدولت ترقی کی راہ پر گامزن ہوکر یہاں تک پہنچا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تو ان کی ترقی میں تعلیم و تحقیق نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ قلم سے لکھے گئے علوم آنے والی نسلوں کے لئے بھی کارگر ثابت ہوئے ہیں۔علم کا یہ خزانہ قلم کی بدولت نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔

جدید دور میں قلم نے بےشک اپنی ہئیت بدل لی ہے۔ اخبار کے ساتھ ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی یہ حق اور سچائی کی جو جنگ جاری ہے۔ وہ ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کچھ لوگ ہیں ایسے جو قلم کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور قلم کار ان کا آلہ کار بن رہا ہے لیکن یہ تعداد رائی کے برابر ہوگی۔ اکثریت قلم کی حرمت کو جانتے اور مانتے ہیں اور اس کی لاج بھی رکھتے ہیں۔ اہل قلم پر فرض ہے کہ وہ قلم کی حرمت کا خیال رکھیں۔ عوام آپ پر اگر اندھا اعتبار کر رہے ہیں تو اپنے مفاد کی خاطر یہ ثابت مت کریں کہ وہ واقعی اندھے ہیں ۔جدید دور میں اہل قلم کی ذمہ داری اور بڑھ گئی ہے۔ ایک بات کر دیں تو ملک کیا دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جاتی ہے تو جو بھی لکھنا ہو سوچ سمجھ کر لکھیں۔ اہل قلم جان لیں کہ ان کے کاندھوں پر عوام نے بہت بھاری ذمہ داری ڈال دی ہے۔ وہ اپنی سوچ کو مثبت رکھیں تاکہ ان کے لکھنے میں بھی اس کا عکس نظر آئے ۔

صحافت ہو، کوئی مصنف ہو یا کوئی استاد جن کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے۔ وہ چاہیں تو نسلیں سنوار دیں اور چاہیں تو اجاڑ دیں۔ ملک کے ایک کونے میں کچھ ہوتا ہے تو اخبار یا سوشل میڈیا کے ذریعے وہ خبر دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جاتی ہے ۔پڑھنے والے سب مختلف طبعتوں اور ذہنوں کے مالک ہوتے ہیں۔ ہر کوئی اپنے انداز سے سوچتا ہے۔ اس لیئے جو بھی لکھیں وہ مثبت انداز میں لکھیں اور ایسا لکھیں کہ آنے والی نسل کے لوگ پڑھیں تو انھیں لگے یہ تو ان کو کہا گیا ہے۔ اس کی زندہ مثال" قرآن مجید"ہے۔ جو آج سے چودہ سو سال پہلے اتارا گیا تھا۔ سمجھیں تو آج بھی ایسے لگتا ہے جیسے موجودہ مسائل کا حل تلاش کرلیا ہو۔بے شک وہ کلام الہی ہے۔ اس جیسا لکھنا بشر کے لئے ممکن نہیں ہے لیکن اس کی نشانیوں کو سمجھا تو جا سکتا ہے۔ اس کے بتائے گئے اصول تو اپنائے جا سکتے ہیں۔ اپنے مفاد کی خاطر قلم کی قیمت لگا دینا غداری میں شمار ہوتا ہے۔ قلم کی حرمت کو پہچانیں اور کسی بھی قیمت پر اس کا سودا نہ کر یں۔ عزتوں کے رکھوالے بنیں سوداگر نہیں۔ مثبت سوچیں اور مثبت لکھیں ۔