Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

قیمت باز کی نہیں۔ پہچان کی تھی ،تحریر: شمسہ رانی

نقطہ نظر
shamsa rani
مصنف:

کبھی کبھی ایک معمولی سا منظر پوری زندگی کا فلسفہ سمجھا دیتا ہے۔ ایک بچی نے ایک باز کو دیکھا، اسے پسند کیا اور اپنے باپ سے کہہ دیا اسے یہ باز چاہیے۔ باپ نے بیٹی کی خواہش کو محض ضد نہیں سمجھا بلکہ اس کی شوق کی قدر کی۔ یوں ایک ایسی کہانی شروع ہوئی جس نے دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیا کہ اخر ایک پرندہ اتنا مہنگا کیسے ہو سکتا ہے؟

متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ایک فالکن نمائش کے دوران ایک بازکی باقاعدہ نیلامی ہوئی۔ ہال میں خاموشی تھی اور نظریں اس پرندے پر جمی تھیں ۔بولی کا آغاز بیس ہزار درہم سے ہوا ،پھر 50 ہزار، پھر ایک لاکھ درہم اچانک آوازیں رک گئیں ۔چند لمحوں کی خاموش کے بعد ایک بولی دو لاکھ درہم کی لگی اور باز اس قیمت پر خرید لیا گیا۔ پاکستانی روپوں میں یہ رقم تقریبا ڈیڑھ سے دو کروڑ کے درمیان بنتی ہے۔

اس نوعیت کی ایک اور نیلامی میں ایک فالکن گیارہ لاکھ درہم تک میں فروخت ہوا۔ جو پاکستانی کرنسی میں کئی کروڑ روپے بنتے ہیں بظاہر یہ رقم ایک پرندے کے لیے ناقابل تصور محسوس ہوتی ہے۔ مگر اس منظر کو صرف دولت کی نمائش سمجھ لینا اس پوری روایت کو سمجھنے میں ہماری بڑی بھول ہوگی۔

عرب معاشرے میں فالکن محض ایک پرندہ نہیں، یہ صحرائی تہذیب کی تاریخ ،روایت اور شناخت کا حصہ ہے۔ صدیوں سے باز شکاری کے سفر میں انسان کا ساتھی رہا ہے۔اس لیے اس کی قدر صرف اس کے پروں، رنگ یا خوبصورتی سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی نسل، تربیت، صلاحیت، کارکردگی اور نایاب خصوصیات بھی اس کی قیمت متعین کرتی ہیں۔

ایک اعلی نسل کا فالکن اپنی رفتار کے باعث بھی غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ شکار پر جھپٹتے ہوئے اس کی رفتار تقریبا 390 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کے حوالے سے مشہور ہے۔ اسی لیے اسے محض پرندہ نہیں بلکہ ایک قدرتی ایتھلیٹ سمجھا جاتا ہے۔ فالکن ریسنگ کے مقابلوں میں اس کی کارکردگی اس کی شہرت اور قدر میں مزید اضافہ کر سکتی ہے

یہاں ایک اور دلچسپ پہلو سامنے اتا ہے۔ بلڈ لائن جیسے گھوڑوں کی دنیا میں نسل اور نسب کی بڑی اہمیت ہے، ویسے ہی فالکنز میں بھی اعلی نسل کی اپنی قدر ہے۔ جتنی نایاب اور معتبر نسل، اتنی زیادہ قیمت ۔بعض اقسام اپنی خاص خصوصیات رنگ ساخت اور کارکردگی کی وجہ سے انتہائی قیمتی سمجھی جاتی ہیں

اور پھر اس کے ساتھ ایک پوری دنیا جڑی ہوئی ہے۔ فالکن کے لیے خصوصی طبی سہولیات موجود ہیں ۔جہاں ان کے معائنے اور علاج کیے جاتے ہیں۔ سفر کے دوران بھی ان کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ یعنی جس پرندے کو ہم دور سے دیکھ کر خوبصورت شکاری پرندہ سمجھتے ہیں، اس کے گرد ایک مکمل نظام تربیت، نگہداشت اور مقابلوں کی دنیا اباد ہے ۔لیکن اس سارے واقعے میں میرے لیے سب سے دلچسپ بات باز کی قیمت نہیں انسان کی قیمت ہے۔

ہم اکثر زندگی میں اپنی قدر کا تعین دوسروں کی نظر سے کرنے لگتے ہیں ۔کوئی ہمیں کم اہمیت دے تو ہم خود کو معمولی سمجھنے لگتے ہیں۔ کوئی ہماری تعریف نہ کرے تو ہماری صلاحیت ہمیں خود بھی دکھائی نہیں دیتی ۔حالانکہ دنیا میں قدر ہمیشہ صرف اس چیز کی نہیں ہوتی جو بہت زیادہ ہو قدر اکثر اس چیز کی ہوتی ہے، جو نایا ب، قابل اعتماد اور اپنی جگہ منفرد ہو ۔

ایک ہی میدان میں بہت سے لوگ موجود ہوتے ہیں، مگر پہچان چند ہی بناتے ہیں۔ فرق یہ نہیں کہ سب کے پاس صلاحیت نہیں ہوتی، فرق یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی صلاحیت کو مسلسل محنت، کردار، کارکردگی کو ایسی شناخت میں بدل دیتے ہیں۔ جسے نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے

یہی اس باز کی کہانی کا اصل سبق ہے ۔ اس کے پاس نہ سونا ہے،نہ بینک اکاؤنٹ نہ دولت کے انبار، اس کی قیمت اس کی نسل، نایابی کارکردگی اور پہچان نے بنائی ہے ۔

تو شاید ہمیں بھی اپنی زندگی کے بارے میں ایک سوال ضرور کرنا چاہیے۔ ہم دنیا سے اپنی قیمت مانگنے کے بجائے اپنی قدر پیدا کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں ؟

یاد رکھیے دنیا میں ہر شخص ایک جیسا پیدا نہیں ہوتا ،مگر ہر شخص اپنی پہچان بنانے کا موقع ضرور لے کر پیدا ہوتا ہے۔ قیمت مانگنے سے نہیں بڑھتی، اپنی صلاحیت کو نایاب بنانے سے بڑھتی ہے۔ باز کے پاس دولت نہیں تھی، مگر اس کی پہچان ایسی تھی کہ لوگ اس پر کروڑوں لوٹانے کو تیار تھے۔انسان کے پاس سب کچھ ہو مگر اگر اپنی پہچان نہ ہو تو دولت بھی اسے قیمتی نہیں بنا سکتی