مُعَلِّم کون ہے؟
ایک استاد نہیں، ایک اِنسان ساز۔
آکاشِ وطن پر جو ہے خُورشید کی مانند
لاریب، وہ استاد ہے، استاد ہے، استاد۔
پہلی وحی "اِقْرَأْ" (پڑھ) اور نبیِ کریم ﷺ کا فرمان "مجھے مُعَلِّم بنا کر بھیجا گیا ہے"۔ یہی ایک جملہ شانِ مُعَلِّم کے حوالے سے سمندر کو کوزے میں بند کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ تمام مخلوقات اور ہر ذی رُوح سے افضل، محبوبِ خدا، وجہِ کائنات اور سَیِّدُالْاَنبیا، نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے مُعَلِّم، یعنی استاد، بنا کر بھیجا گیا۔ ایک استاد کی عزت و توقیر، مقام و مرتبے کے لیے اس سے بڑی سند کیا ہو سکتی ہے؟
اگر مُعَلِّم ہونا اتنا بڑا منصب ہے تو اس کی کچھ وجوہات بھی ہوں گی۔ آج یومِ اساتذۂ کرام کے موقع پر آپ سب کی خدمت میں اپنی عقل و فہم کے مطابق شانِ مُعَلِّم بیان کر کے اپنے اساتذۂ کرام اور دیگر تمام اساتذۂ کرام کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
(چھوٹا منہ، بڑی بات)
اساتذۂ کرام کے لیے ایک لفظ استعمال ہوتا ہے: معمارِ قوم۔ کبھی اس لفظ کی حقیقت پر غور کریں۔ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، بلکہ آدمی کو اِنسان بناتا ہے۔
ڈاکٹر مریض کا علاج کرتا ہے، انجینئر عمارت تعمیر کرتا ہے، استاد سوچ و کردار کو بدل کر، نکھار کر، ایک بہترین قوم بناتا ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ بہترین اور کامیاب اقوام بڑے منصوبوں سے نہیں، بلکہ بہترین اساتذۂ کرام اور بہتر نظامِ تعلیم سے تیار کی جاتی ہیں۔
اور نوازا بھی انہی کو جاتا ہے جو اپنے محسنوں، اپنے اساتذۂ کرام، کو ان کا جائز مقام دیتے ہیں، کیونکہ مُعَلِّم صرف آج بچوں کو نہیں پڑھا رہا ہوتا، وہ آنے والے کل کا معاشرہ لکھ رہا ہوتا ہے۔
امریکہ میں ایک استاد کے عدالت میں پیش ہونے پر جج کا کھڑا ہونا، استاد کے مقام و مرتبے کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ مہذب دنیا کے ہر معاشرے میں استاد کا منصب سب سے افضل ہے۔
ہم ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں نام پانے کے لیے معیاری تعلیم کو ضروری سمجھتے ہیں، مگر ہم یہ تعلیم دینے والے اساتذۂ کرام کو بھول جاتے ہیں۔
ہم ایک مخصوص دن میں چار الفاظ بول کر "سلامِ مُعَلِّم" کہہ کر سمجھتے ہیں کہ حق ادا ہو گیا۔ اساتذۂ کرام اور والدین کا حق ادا کرنے کے لیے پوری عمر کم پڑتی ہے، ان کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہمیں جینے کا ڈھنگ یہی ہستیاں سکھاتی ہیں۔ اسی لیے استاد کو روحانی باپ کہا گیا ہے، کیونکہ استاد ہی آپ کی سوچ و فکر کو عطائے رَبِّی سے بالیدگی عطا کرتا ہے، ہمیں صحیح و غلط میں تمیز کرنا سکھاتا ہے۔
معاشرہ سلامِ مُعَلِّم کہنے سے نہیں، بلکہ ان کو حقیقی معنوں میں عزت، وقار اور وسائل دینے سے بہتر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے استاد کو بہت ہی عظیم منصب عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو زندگی عطا کر کے زمین پر بھیجتا ہے، پھر یہ استاد ہی ہے جو انسان کو زمین سے اٹھا کر کامیابیوں کی بلندیوں تک لے کر جاتا ہے۔
ایک استاد کا احترام اسے تنخواہ کی پرچی دے دینا نہیں، اسے عزت و احترام دینا ہے۔ استاد کے سکھائے راستے پر ثابت قدم رہنا ہے۔ استاد کے لیے اس کی محنت کا صلہ اس کی تنخواہ نہیں، بلکہ اس کے شاگردوں کی کامیابی ہے۔
استاد خود تخت پر نہیں بیٹھتا، نہ ہی ایوان بناتا ہے، مگر وہاں موجود لوگوں کو اس قابل بنانے کا سہرا اسی استاد کے سر ہوتا ہے۔
مُعَلِّم وہ شخص ہے جو تعلیم و تربیت کے ذریعے انبیائے کرامؑ کے مِشْنِ اصلاحِ انسان کی ایک جھلک اپنے کردار میں زندہ رکھتا ہے۔ انبیائے کرامؑ نے انسان کو جہالت سے نکال کر علم، تَزْکِیَے اور حکمت کی طرف بلایا۔ مُعَلِّم اسی عظیم مقصدِ تعلیم و تربیت کی ایک محدود مگر اہم ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائے ہے۔
انسان کسی بھی چیز کا خالقِ مطلق نہیں، بلکہ انسان ہر عطا کا اَمین ہے۔ اسی طرح ایک مُعَلِّم علم کا اَمین ہے۔ وہ کتاب سے صرف آپ کو معلومات جمع نہیں کراتا، بلکہ وہ تعلیم کو شعور اور شعور کو آپ کے کردار میں ڈھالتا ہے۔
استاد کے لیے میرے نزدیک سب سے اہم اور بہترین کارنامہ یہ ہے کہ ایک استاد نے کتنے ذہنوں کو سوال کرنا سکھایا؟ کتنے دلوں کو خوفِ خدا اور انسانیت سکھائی؟ کتنے شاگردوں کی ذہن سازی کر کے ان کے کرداروں کو سچائی سکھائی؟ کیونکہ مُعَلِّم کی عزت و شہرت اس کے نام سے زیادہ اس کے شاگردوں کے کردار سے پھیلتی ہے۔
اساتذۂ کرام میں کئی ایسے نام ہوں گے جنہوں نے دوسروں کے مستقبل لکھتے ہوئے اپنی زندگی کے کئی روشن باب خاموشی سے قربان کیے۔
اگر خوفِ خدا، تَزْکِیۂ نفس، دین و انسانیت آپ کی نظر میں کوئی وقعت رکھتی ہے تو آپ کو یہ سکھانے، سمجھانے والا بھی آپ کے لیے قابلِ احترام ہونا چاہیے، اور وہ کوئی اور نہیں، آپ کے اساتذۂ کرام ہیں۔
اگر علم ایک زیور ہے تو استاد ایک زرگر ہے۔ آپ جس طرح کے زیورِ تعلیم سے اپنی زندگی کو آراستہ کرنا چاہتے ہیں، جس شعبے میں جانا چاہتے ہیں، استاد آپ کو اسی سانچے میں ڈھال کر زیورِ تعلیم عطا کرتا ہے۔
جیسے ایک کمہار مٹی کو خوبصورت برتن میں بدلتا ہے، اسی طرح ایک استاد نہایت صبر و استقامت، محنت و لگن اور محبت سے ایک خام ذہن کو پروان چڑھا کر ذمہ دار انسان میں بدلتا ہے۔
موجودہ ڈیجیٹل دور میں اساتذۂ کرام کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ آج کا بچہ معلومات کی کمی کا نہیں، معلومات کی بہتات کا شکار ہے۔ ایسے میں اساتذۂ کرام معتبر و مؤثر اور غیر معتبر و غیر ضروری معلومات میں فرق کرنا سکھائیں۔
اور طالب علموں کے لیے لازم ہے کہ اساتذہ کی رہنمائی پر عمل کریں، ان کی نصائح کو توجہ سے سنیں اور ان کی محنت کا حق ادا کرنے کے لیے اپنے تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔
اساتذۂ کرام کا احترام ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے اساتذۂ کرام کو دنیا اور آخرت میں سرخرو کرے اور ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔ اور جو دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ کر گئے، انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین۔
مُعَلِّم نسلِ نو کے ذہن کو تابندگی دے کر
وہ خاکِ فکر کو کردار کا زیور بناتا ہے.






