بچوں کے فحش مواد پر امریکی سفارت کار کی خفیہ منتقلی

لندن میں امریکی سفارت خانے میں تعینات ایک امریکی سفارت کار کے خلاف بچوں سے متعلق فحش مواد کے الزامات سامنے آنے کے بعد امریکی حکام نے اسے برطانیہ سے خفیہ طور پر امریکا منتقل کر دیا –
برطانوی اخبار ’دی سن‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے مذکورہ سفارت کار کے بھائی کی امریکا میں جاری ایک تفتیش کے سلسلے میں الیکٹرانک آلات کا معائنہ کیا تو یہ مواد دریافت ہوا، جس کے بعد گزشتہ ماہ کے آخر میں امریکی میرینز نے لندن میں سفارت کار کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔
رپورٹ کے مطابق، برطانیہ کی پولیس اور اعلیٰ حکام کو اس وقت خبر دی گئی جب سفارت کار کو ملٹری طیارے کے ذریعے برطانیہ کی حدود سے باہر منتقل کیا جا چکا تھا، جس کے بعد برطانیہ نے اپنی سرزمین پر اس آپریشن کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں،اس کارروائی کے لیے ایک خصوصی امریکی ملٹری جہاز شکاگو سے برطانیہ میں قائم ایک امریکی ایئر بیس پہنچا اور بعد میں سفارت کار کو لے کر واپس امریکا روانہ ہو گیا۔
اس خفیہ منتقلی پر برطانوی پارلیمنٹ میں سخت تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، کنزرویٹو پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ بین اوبیس جیکی نے اس عمل پر شدید تنقید کر تے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکی میرینز کی جانب سے برطانوی سرزمین پر ایسا چھاپہ مارنا جس کی ان کے پاس کوئی قانونی اجازت نہیں تھی، اور پھر اپنے سفارت کار کو نکالنے کے لیے عسکری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے امریکا لے جانا بالکل ناقابلِ قبول ہے۔
اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ برطانیہ میں موجود تمام غیر ملکی سفارت کاروں سے مقامی قوانین کی پاسداری کی توقع کی جاتی ہے، تاہم امریکا میں جاری تفتیش کی وجہ سے انہوں نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
لندن میں موجود امریکی سفارت خانے نے بتایا کہ وہ اپنے عملے سے متعلق ان الزامات سے واقف ہیں اور تمام اہلکاروں کے لیے اعلیٰ اخلاقی معیار برقرار رکھنا ضروری ہے،دوسری طرف ایک امریکی سفارتی ذرائع نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام نے طویل سفارتی عمل اور قانونی تاخیر سے بچنے کے لیے یہ قدم تیزی سے اٹھایا۔
مزید پڑھیں

بدچلنی، طلاق اور بچے،تحریر:خالد شہزاد

عورت کمزور نہیں،تحریر: شازیہ حنیف


تبصرہ کتب،الف سے اے آئی تک،تحریر: مبراء عبدالقیوم

افسانہ،صفراوی ،صفدر بھٹی
