ستمبر آ کے چیختا ہے کہ ٹوٹ کر بکھرنا ہے
گرے گا جو بھی آج یہاں کل اسی نے سنورنا ہے
درد کی رات کالی ہے مگر امید کا دیا ہے
اندھیرا جتنا گہرا ہو اجالا اتنا ہی قریب ہے
شجر سے پتے گرتے ہیں تو جڑیں اور مضبوط ہوں
زخم جو آج دل پر ہیں کل یہی تیرے فخر ہوں
نہ رکنا ہے نہ جھکنا ہے اٹھو اور چل پڑو تم
ستمبر کا یہ پیغام ہے کہ خود سے جیت لو تم
گرا کے پھر اٹھنے والے ہی تاریخ لکھتے ہیں
ستمبر سکھا رہا ہے کہ پتھر بھی تراشتے ہیں
مزید پڑھیں

بدچلنی، طلاق اور بچے،تحریر:خالد شہزاد
15 گھنٹے پہلے

عورت کمزور نہیں،تحریر: شازیہ حنیف
15 گھنٹے پہلے


تبصرہ کتب،الف سے اے آئی تک،تحریر: مبراء عبدالقیوم
15 گھنٹے پہلے

افسانہ،صفراوی ،صفدر بھٹی
15 گھنٹے پہلے

سفید جھوٹ، سیاہ حقائق،تحریر: اقراء علوی
15 گھنٹے پہلے
