Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شرافت،تحریر: تمثیلہ لطیف

نقطہ نظر

اسلم کو وہ شخص اس لیے برا لگتا تھا کہ وہ جب بھی اس کے گھر کے پاس سے گزر کر کھیل کے میدان کی طرف رخ کرتا تو ایک دم تسبیح پڑھتے پڑھتے اس کے چہرے پر ناگواری کے اثرات ابھر آتے وہ منہ پر رومال رکھ لیتا اور کبھی کبھار کندھے پر رکھا ہوا پرنا منہ اور ناک پر دھر لیتا اور بڑبڑاتا ہوا آگے بڑھ جاتا۔ وجہ یہ تھی کہ کھیل کے میدان کے ایک کونے پر گاؤں کے لوگ مویشیوں کا گوبر پھینک جاتے تھے اور مسجد کی طرف جانے کا وہ واحد راستہ تھا اس لیے مجبوراً اسلم کے محلے میں رہنے والے رحمت خان کو اسی راستے سے گزرنا پڑتا تھا اگرچہ اس محلے کے رہائشی اب بس سٹاپ کے پاس بننے والی نئی مسجد میں نماز پڑھتے تھے لیکن اسلم چونکہ اپنے دادا کے ساتھ پرانی جامع مسجد میں نماز پڑھنے جاتا تھا تو رحمت خان بھی پھر اسی مسجد میں نماز پڑھنے جاتا تھا کیونکہ وہ بھی اسلم کے دادا کے ساتھ وہاں مسلسل جانے والا تھا اسلم گاؤں کے دیگر لڑکوں کے ساتھ اسی میدان میں کرکٹ کھیلتا تھا وہ ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان میں بھی گاؤں کے دیگر بچوں سے بہت اگے تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔

کھیل کے اس میدان سے تھوڑا آگے قبرستان کی طرف بھی ایک راستہ جاتا تھا لیکن اس سے پہلے لڑکوں کا سکول تھا اس سکول سے تھوڑا آگے دیہات کی پرانی آبادی تھی جب کہ اسلم جس محلے کا رہائشی تھا وہ گاؤں کی نئی آبادی پر مشتمل تھا رحمت خان اس کے محلے میں رہتا تھا۔پچپن برس کی عمر میں بھی اس کی صحت مثالی تھی۔ گاؤں کے لوگ اس کے نیک چال چلن سے بخوبی واقف تھے اور وہ محلے کی امن کمیٹی کا چیئرمین تھا تو اس کے ساتھ ساتھ وہ پرانی جامع مسجد کی جو کمیٹی تھی اس کا صدر بھی تھا۔چونکہ وہ مالی لحاظ سے مستحکم تھا اس لیے اس کی بات کو سبھی توجہ سے سنتے تھے لیکن اسلم کو وہ شخص زہر لگتا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک تو بات بات پہ گالیاں بکنے لگتا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے پر اور اس کے ماتھے پر ہر وقت بل پڑے رہتے حالانکہ اس کا بیٹا تاج اسلم کا کلاس فیلو بھی تھا اور اس کا بہت اچھا دوست بھی تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلم کو ایک بات اور بھی بری لگتی وہ یہ تھی کہ کبھی کبھی اس کے سکول کے پاس اس کی عمر کی ایک لڑکی گندے کپڑے پہنے لیٹی رہتی اور روتی رہتی اس کے بال بکھرے ہوتے اور وہ ہر آنے جانے والے کی طرف ایسی نظروں سے دیکھتی جن میں بے بسی ہوتی لوگ اس پر افسوس کا اظہار کرتے اور اس کے پاس سے گزر جاتے۔ اسلم کو اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے ڈر لگتا کیونکہ ان آنکھوں میں اسے ویرانیاں نظر اتی رحمت خان جب بھی وہاں سے گزرتا اگر بچے کھیل رہے ہوتے اور وہ لڑکی جس کا نام تو پروین تھا لیکن سبھی اسے پینو کے نام سے یاد کرتے، وہاں ہوتی تو انتہائی نفرت انگیز لہجے میں منہ پر رومال رکھے رحمت خان اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کے ماں باپ کو گالیاں دیتا جو اس کا خیال نہیں رکھتے تھے اور اسے گھر میں قید نہیں کرتے تھے۔ خود اسلم کو بھی یہ بات تکلیف دیتی کہ اس کے والدین کو پینو کا خیال نہیں تھا۔چھوٹے بچے اسے کنکر مارتے یا گزرتے ہوئے اس کا دوپٹہ کھینچ لیتے لیکن وہ بے بس روتی رہتی اور سارا دن یا تو اپنے محلے میں کسی جگہ پڑی رہتی یا قبرستان اور یا پھر سکول کے آس پاس وہ نظر آتی۔عشاء کی نماز ختم ہوتی تو نمازی گھروں کو جاتے اور کوئی خدا ترس پینو کے گھر والوں کو بتا دیتا کہ وہ کہاں ہے پھر اس کے گھر والے اسے لے آتے۔ عام طور پر یہ فریضہ اسلم انجام دیتا جو عشاء کے بعد اسکول کے پاس یا قبرستان کے راستے پر جاتے ہوئے اسے دیکھ لیتا تو اس وقت رحمت خان پینو کو اور اس کے گھر والوں کو گالیاں دے رہا ہوتا اور اسلم واپس اس کے گھر والوں کو اطلاع دے کر پھر گھر کی طرف پلٹتا۔

۔۔۔۔۔۔

وقت گزرتا رہا۔ اسلم اب میٹرک کا طالب علم تھا۔ دسمبر کی چھٹیاں ہوئیں تو وہ اپنے ننھیال چلا گیا۔ سردی زیادہ تھی۔ اسے بخار ہو گیا۔ رحمت خان اس کے گھر کا چکر لگا کر اس کا پوچھ لیتا کیونکہ دادا کی وفات کے بعد وہ اسلم کو اپنے ساتھ عشاء کی نماز کے لیے لے کر جاتا تھا۔ سردی کی وجہ سے چھٹیاں ایک ہفتہ بڑھا دی گئیں۔ اور چھٹیاں ختم ہونے سے دو دن پہلے اسلم گھر واپس آگیا۔ اس کا بخار ابھی ٹُوٹا نہیں تھا اس لیے عشاء کے وقت جب رحمت خان اس کے گھر آیا تو اس کی عیادت کر کے نماز پڑھنے چلا گیا۔

یہ دوسرے دن کا ذکر ہے۔ اسلم کی طبیعت بہتر تھی۔ وہ رحمت خان کا انتظار کرتا رہا جب وہ نہ آیا تو وہ نماز ادا کرنے بس اسٹاپ کے پاس نئی مسجد میں چلا گیا اور واپسی پر اسے اچانک پینو کا خیال آیا تو وہ اسی راستے سے پرانی مسجد کی طرف روانہ ہوا کہ واپسی پر رحمت خان کے ساتھ آجائے گا لیکن مسجدخالی تھی لوگ نماز ادا کر کے چلے گئے تھے۔ وہ واپس پلٹا تو جنوری کی اس سرد شام میں چاند اپنے شباب پر تھا۔ گلیاں سنسان تھیں۔ وہ گلیوں میں پینو کو دیکھ چکا تو قبرستان کی طرف گیا۔ ہر طرف خاموشیوں کا راج تھا۔ وہ آگے بڑھتا رہا اسے کوئی آواز سنائی نہ دی تو سکول کی طرف گیا۔ اچانک اسے خیال آیا کہیں پینو گھر نہ ہو۔ لیکن اسی دوران اسے سکول کے مرکزی دروازے کے پاس کچھ حرکت محسوس ہوئی۔ اس نے سفید لبادے میں ملبوس ایک ہیولہ دیکھا۔ سکول کی عمارت آسیب زدہ مشہور تھی۔اسلم کے مشامِ جاں سے پسینہ بہہ نکلا۔ اس نے بمشکل اوسان بحال کیے تو سفید لبادہ حرکت کرتا محسوس ہوا۔ وہ کبھی زمین کی طرف جاتا کبھی اوپر اٹھتا۔ پھر اس نے ہیولے کو کھڑے ہوتے دیکھا۔ اسلم اس کے قریب ہوا تو ہیولہ اپنا لباس درست کررہا تھا۔ پھر اس نے ہیولے کی آواز سنی اور اس کا دل اس کی کنپٹیوں میں سیٹی بجانے لگا۔ وہ رحمت خان تھا جو اب الٹی کرتے ہوئے مسلسل گالیاں دے رہا تھا۔ اسلم چُپ کھڑا رہا۔ اس کے جانے کے بعد اس نے پینو کو دیکھا جو بے لباس تھی۔ وہ چُپ چاپ رحمت خان کے پیچھے پیچھے گھر کی طرف چل پڑا۔ بخار اس کے دماغ میں پہنچ چکا تھا۔۔۔۔