Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ،تحریر: سید آزاد گیلانی

نقطہ نظر

بیسویں صدی کے آغاز میں جب حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے بال جبریل میں یہ لافانی شعر تخلیق کیا تھا کہ


’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔


تو شاید اس وقت کا روایتی ذہن اسے محض ایک شاعرانہ مبالغہ سمجھتا تھا۔ مگر آج اکیسویں صدی کے اس تیسرے عشرے میں، جب مریخ پر گاڑی دوڑ رہی ہے اور جیمز ویب جیسی دوربینیں کائنات کے ابھرتے ہوئے نئے جہانوں کی تصاویر بھیج رہی ہیں، تو اقبال کا یہ فلسفہ ایک مادی اور سائنسی سچائی بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ اقبال کا یہ پیغام دراصل جمود کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے، جو انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کی پرواز کی کوئی حد نہیں اور نہ ہی علم کی کوئی آخری سرحد ہے۔


آج جب ہم پاکستان کے موجودہ تعلیمی اور سماجی منظرنامے پر نظر ڈالتے ہیں، تو ایک عجیب سا تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف دنیا مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور خلائی تسخیر کے نئے افق عبور کر رہی ہے، اور دوسری طرف ہمارا روایتی تعلیمی نظام اب بھی بیسویں صدی کے فرسودہ نصاب اور رٹہ کلچر کے حصار میں قید ہے۔ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ڈگریوں کے حصول کو ہی زندگی کا کل اثاثہ سمجھ کر قناعت پسندی کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ڈگری صرف ایک تعارفی دستاویز ہے، جبکہ حقیقی کامیابی کا دارومدار اس تخلیقی سوچ اور سائنسی جستجو پر ہے جو انسان کو مروجہ لکیر سے ہٹ کر کچھ نیا کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔


پاکستان کی کل آبادی کا تقریباً 67 فیصد ( پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ساتویں مردم شماری 2023 کی رپورٹ کے مطابق) حصہ 30 سال سے کم عمرنوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایک ایسا خام مال ہے جو اگر صیقل ہو جائے تو دنیا کے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔ ارفع کریم، کامران لاشاری اور حال ہی میں بین الاقوامی سطح پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نام کمانے والے درجنوں پاکستانی اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر ان ذہنوں کو درست سمت دی جائے تو یہ معجزے تخلیق کر سکتے ہیں۔


زرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی ۔


لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے سماجی اور تعلیمی ماحول میں اکثر نوجوانوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ سائنسی ایجادات یا خلائی تحقیق صرف مغرب کا خاصہ ہیں، جس کی وجہ سے ان میں ایک احساسِ کمتری جنم لیتا ہے۔


اقبال کا فلسفۂ شاہین اسی احساسِ کمتری کا علاج ہے۔ شاہیں کا تصور محض ایک پرندے کی علامت نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے بلند پرواز، خوددار اور متجسس ذہن کا نام ہے جو دوسروں کے بنائے ہوئے گھونسلوں پر قناعت نہیں کرتا، بلکہ اپنے لیے نئے جہان خود پیدا کرتا ہے۔ تعلیمی اور سائنسی ترقی کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں میں سوال پوچھنے کی عادت کو زندہ کریں۔ ہمارا مروجہ نظامِ تعلیم سوال اٹھانے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، حالانکہ سائنس کی بنیاد ہی ’’کیوں‘‘ اور ’’کیسے‘‘ پر قائم ہے۔ جب تک تعلیمی اداروں میں تحقیق و ترقی کو اولویت نہیں دی جائے گی، اور جب تک ہم نوجوانوں کو روایتی ملازمتوں کے حصول کی دوڑ سے نکال کر کاروباری تخلیق اور جدت طرازی کی طرف راغب نہیں کریں گے، ہم عالمی سطح پر پیچھے ہی رہیں گے۔


آج کے نوجوان کے لیے سائنسی ترقی کا مطلب صرف لیبارٹریوں میں کیمیکلز ملانا نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی کے ہر شعبے میں جدید سائنسی طریقوں کو نافذ کرنے کا نام ہے۔ زراعت سے لے کر طب تک، اور صنعت سے لے کر ماحولیات تک، ہر میدان میں ہمیں جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے اب جغرافیائی حدود کو ختم کر دیا ہے۔ ایک کمرے میں بیٹھا ہوا نوجوان اگر برقی رموز نویسی، بلاک چین یا اعداد و شمار کی سائنس میں مہارت حاصل کر لے تو وہ عالمی معیشت کا حصہ بن سکتا ہے۔ حکومت، جامعات اور نجی شعبے کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے نوجوانوں کے لیے وسائل، وظائف اور جدید ترین تجربہ گاہیں فراہم کریں تاکہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔


مایوسی اس وقت ہماری قوم کا سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس کی وجہ سے باصلاحیت نوجوانوں کا ملک چھوڑ کر جانا، یعنی ذہنی و انسانی صلاحیتوں کا بیرونِ ملک منتقل ہونا، عروج پر ہے۔ کالم کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، علم کے مسافر کے لیے راستے کبھی بند نہیں ہوتے۔ اگر عارضی طور پر وسائل کی کمی ہے، تو عزمِ صمیم اس کا نعم البدل بن سکتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ناکامی کسی سفر کا اختتام نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک نیا تجربہ ہوتی ہے جو اگلی پرواز کے لیے پروں کو مزید مضبوط کرتی ہے۔


وقت آ گیا ہے کہ ہم اس روایتی اور جمود زدہ سوچ کے دائرے کو توڑیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی نظریں صرف ڈگری کے حصول یا وقتی آسائشوں پر نہ جمائیں، بلکہ علم و عمل کے ان نئے آسمانوں کی طرف پرواز کریں جن کی نشاندہی علامہ اقبال نے کی تھی۔ کائنات پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ابھی امکانات کے بہت سے سمندر چھپے ہوئے ہیں جن کی غواصی کرنا ابھی باقی ہے۔ چلو کہ علم و تحقیق کی مشعلیں جلائیں اور دنیا کو دکھا دیں کہ اقبال کے شاہین سائنسی ترقی کے اس دور میں بھی ستاروں پر کمند ڈالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔