چوک کے بیچوں بیچ ایک آدمی کھڑا تھا۔
اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، چہرے پر خون جما تھا اور ہونٹوں سے خون کی ایک باریک لکیر ٹھوڑی تک آ پہنچی تھی۔
وہ بار بار کہہ رہا تھا:
"مجھے بچا لو!"
مگر لوگ اسے بچانے کے بجائے دیکھ رہے تھے۔
کچھ لوگ موبائل نکال کر ویڈیو بنا رہے تھے، کچھ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ آخر ہوا کیا ہے، اور کچھ ایسے تھے جو چند لمحے رک کر آگے بڑھ جاتے۔
چوک کے ایک کونے میں چائے والے کی دکان تھی۔ دکان کے مالک بشیر نے دور سے یہ منظر دیکھا اور پھر نظریں پھیر لیں۔
اس کے ساتھ بیٹھے شخص نے پوچھا:
"بشیر، کچھ کرو گے نہیں؟"
بشیر نے چائے کا گھونٹ لیا۔
"بھائی، ہمیں کیا؟ آپس کا معاملہ ہوگا۔"
وہ آدمی چیخا:
"یہ آپس کا معاملہ نہیں! مجھے مار رہے ہیں!"
بشیر نے آواز سنی، مگر چپ رہا۔
چوک میں ایک پولیس اہلکار بھی موجود تھا۔
لوگوں نے اسے دیکھا تو کسی نے کہا:
"صاحب، کچھ کریں!"
پولیس اہلکار نے چند لمحے ہجوم کی طرف دیکھا۔
"کس نے مارا ہے؟"
خاموشی چھا گئی۔
سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
جس آدمی کو مارا جا رہا تھا، اس نے ہاتھ اٹھایا۔
"یہ لوگ…"
مگر اس سے پہلے کہ وہ کسی کا نام لیتا، ہجوم میں سے آواز آئی:
"ہم نے کچھ نہیں دیکھا۔"
دوسری آواز آئی:
"میں تو ابھی آیا ہوں۔"
تیسری آواز:
"پتہ نہیں کیا معاملہ ہے۔"
پولیس اہلکار نے کاغذ نکالا، کچھ لکھا اور بولا:
"اگر کوئی گواہ نہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں؟"
وہ آدمی زمین پر گر گیا۔
اس کی آنکھیں ہجوم کو دیکھ رہی تھیں۔
وہ شاید کسی ایک چہرے میں انسان تلاش کر رہا تھا۔
مگر اسے صرف تماشائی نظر آئے۔
اگلے دن اخبار میں خبر چھپی:
"چوک میں نامعلوم شخص پر تشدد، ہجوم خاموش تماشائی بنا رہا۔"
خبر چند گھنٹوں بعد پرانی ہوگئی۔
لوگوں نے اخبار تہہ کیا، چائے پی اور اپنی زندگی میں واپس چلے گئے۔
صرف ایک بوڑھا شخص تھا جو اس خبر کو بار بار پڑھ رہا تھا۔
اس کا نام رحمت تھا۔
اس نے اخبار میز پر رکھا اور آہستہ سے کہا:
"ہم سب مجرم ہیں۔"
پوتے نے پوچھا:
"دادا، آپ نے کیا کیا؟"
رحمت نے کوئی جواب نہ دیا۔
بس کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
اگلے دن اسی چوک میں ایک اور واقعہ ہوا۔
ایک بچہ سڑک پار کرتے ہوئے موٹر سائیکل کی زد میں آگیا۔
بچہ زمین پر پڑا تھا۔
لوگ جمع ہوگئے۔
پھر وہی منظر تھا۔
موبائل نکل آئے۔
ویڈیوز بننے لگیں۔
کوئی کہہ رہا تھا:
"ایمبولینس کو فون کرو!"
مگر فون کوئی نہیں کر رہا تھا۔
ایک نوجوان آگے بڑھا۔
اس نے بچے کو اٹھایا اور چیخ کر کہا:
"کوئی گاڑی روکو!"
چند لوگ پیچھے ہٹ گئے۔
"خون لگ جائے گا۔"
"پولیس کا مسئلہ بن جائے گا۔"
"گواہی کون دے گا؟"
نوجوان نے غصے سے سب کو دیکھا۔
"تم لوگ انسان ہو یا تماشائی؟"
اسی لمحے ایک بزرگ آگے بڑھے۔
وہ رحمت تھا۔
اس نے بچے کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور کہا:
"گاڑی میری ہے۔ اسپتال لے جاتا ہوں۔"
کسی نے پوچھا:
"اگر راستے میں کچھ ہوگیا تو؟"
رحمت نے جواب دیا:
"اگر ہم کچھ نہ کریں تو ابھی ہوجائے گا۔"
وہ بچے کو لے کر چلا گیا۔
چوک میں پہلی بار ہجوم خاموش نہیں تھا۔
کچھ لوگ گاڑی کے پیچھے بھاگے۔
کسی نے ایمبولینس کو فون کیا۔
کسی نے پولیس کو اطلاع دی۔
اور کسی نے پہلی بار اپنا موبائل جیب میں رکھ دیا۔
بچہ بچ گیا۔
شام کو رحمت واپس چوک میں آیا۔
وہی جگہ، وہی لوگ، وہی چائے کی دکان۔
بشیر نے اسے دیکھتے ہی پوچھا:
"بابا، آپ کو ڈر نہیں لگا تھا؟"
رحمت مسکرایا۔
"لگا تھا۔"
"پھر آپ آگے کیوں بڑھے؟"
رحمت نے کچھ دیر اسے دیکھا۔
پھر بولا:
"کیونکہ ایک دن میں بھی تماشائی تھا۔"
بشیر کے ہاتھ رک گئے۔
رحمت نے جیب سے پرانا اخبار نکالا۔
"اس خبر میں جس زخمی آدمی کا ذکر تھا… وہ میرا بیٹا تھا۔"
چائے کی دکان پر خاموشی چھا گئی۔
"میں وہاں موجود تھا۔"
بشیر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
رحمت نے اخبار تہہ کیا۔
"وہ مجھے دیکھ رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس کا باپ اسے بچائے گا۔"
اس کی آواز بھرا گئی۔
"مگر میں ڈر گیا۔ میں نے سوچا کوئی اور بچا لے گا۔"
وہ کچھ لمحے خاموش رہا۔
"کوئی اور نہیں آیا۔"
چوک پر کھڑے لوگوں کی نظریں زمین پر جھک گئیں۔
رحمت نے آہستہ سے کہا:
"اس دن میرا بیٹا نہیں مرا تھا… اس دن میرے اندر کا انسان مر گیا تھا۔ آج ایک بچے کو بچا کر شاید میں نے اسے دوبارہ زندہ کیا ہے۔"
وہ جانے لگا تو بشیر نے آواز دی:
"بابا!"
رحمت رک گیا۔
بشیر نے دکان سے باہر قدم رکھا۔
"اگر آج پھر کسی کو مارا جا رہا ہو تو؟"
رحمت نے مڑ کر دیکھا۔
"تو اس بار تماشائی مت بننا۔"
چوک میں کھڑے لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
کسی نے موبائل جیب میں رکھا۔
کسی نے پولیس کو فون ملایا۔
اور کسی نے پہلی بار آگے بڑھ کر کہا:
"رکو… میں گواہ ہوں۔"
اس دن چوک میں ایک عجیب تبدیلی آئی۔
لوگ ختم نہیں ہوئے تھے۔
تماشائی ختم ہونا شروع ہوگئے تھے۔






