Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وقت کی دہلیز،تحریر:سدرہ قیوم

نقطہ نظر

فراز احمد کو خط ملے تین دن ہو چکے تھے، مگر وہ اب تک اس کاغذ کو بار بار پڑھ رہا تھا۔ وکیل کے دفتر سے آیا یہ خط مختصر تھا: "آپ کی دادی، بیگم زینب خانم کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کی جائیداد، بشمول لاہور کے پرانے محلے میں واقع حویلی، آپ کے نام وصیت کی گئی ہے۔"

فراز نے کبھی اپنی دادی کو نہیں دیکھا تھا۔ اس کا باپ کم عمری میں گھر سے نکل گیا تھا، اور خاندان سے تعلق ٹوٹ چکا تھا۔ اب پینتیس سال کی عمر میں، ایک تاریخ کے استاد کی حیثیت سے، فراز کو اچانک ایک ایسی وراثت مل رہی تھی جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا۔

جب وہ حویلی کے سامنے پہنچا تو اسے ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا، جیسے وہ کسی جانی پہچانی جگہ لوٹ آیا ہو۔ حویلی کا بڑا لکڑی کا دروازہ صدیوں پرانا لگتا تھا، اس پر نقش و نگار اتنے باریک تھے کہ فراز کچھ دیر تک بس انہیں دیکھتا رہا۔

اندر داخل ہوتے ہی اسے دھول اور پرانی کتابوں کی خوشبو نے استقبال کیا۔ حویلی کے ہر کمرے میں وقت جیسے ٹھہر گیا تھا پرانے فرنیچر، دیواروں پر لگی دھندلی تصویریں، اور ایک عجیب خاموشی جو صرف پرانی عمارتوں میں ہوتی ہے۔

مالی، جس کا نام کریم بخش تھا اور جو چالیس برس سے اس حویلی کی دیکھ بھال کر رہا تھا، اس کا منتظر تھا۔

"آپ کی دادی اکثر آپ کا ذکر کرتی تھیں،" کریم بخش نے آہستگی سے کہا۔ "وہ کہتی تھیں کہ ایک دن آپ ضرور آئیں گے، اور دہلیز آپ کا انتظار کر رہی ہے۔"

"دہلیز؟" فراز نے پوچھا۔

کریم بخش نے صرف مسکرا کر جواب دیا، "آپ خود دیکھ لیں گے۔"

پہلی رات فراز کو نیند نہ آئی۔ حویلی کی خاموشی میں عجیب سی آوازیں تھیں لکڑی کے چرچرانے کی، ہوا کے سرگوشیوں جیسی۔ وہ اٹھا اور حویلی کی گیلریوں میں گھومنے لگا۔

کتب خانے میں اسے ایک پرانی ڈائری ملی، جس کے سرورق پر "زینب" لکھا تھا۔ صفحات پیلے پڑ چکے تھے، لیکن تحریر واضح تھی۔ ڈائری میں اس کی دادی نے اپنی زندگی کے واقعات لکھے تھے مگر ان میں ایک عجیب بات بار بار دہرائی گئی تھی: "آج پھر دہلیز سے گزری۔ 1947 کا لاہور آج بھی اتنا ہی خوفناک اور خوبصورت تھا۔"

فراز نے سوچا کہ شاید یہ ادبی استعارہ ہے، دادی کا تخیل۔ لیکن جب وہ تہہ خانے میں پہنچا تو اس کا سامنا ایک اور دروازے سے ہوا چھوٹا، لکڑی کا، بالکل حویلی کے مرکزی دروازے جیسے نقش و نگار والا۔ دروازے کے اوپر فارسی میں کچھ لکھا تھا۔

کریم بخش نے، جو اس کے پیچھے آ گیا تھا، ترجمہ کیا: "جو وقت کی دہلیز پار کرے، وہ اپنے ماضی سے صرف سیکھ سکتا ہے، اسے بدل نہیں سکتا۔"

"یہ کیا ہے؟" فراز نے پوچھا، اس کی آواز میں بے یقینی تھی۔

"یہ آپ کے خاندان کا راز ہے،" کریم بخش نے کہا۔ "صدیوں سے، اس خاندان کی ہر نسل میں ایک شخص اس دروازے سے گزرا ہے۔ اب باری آپ کی ہے۔"

فراز نے دروازہ کھولا۔ اس کے پیچھے کوئی کمرہ نہیں تھا صرف روشنی کا ایک بھنور، اور اس کے پار ایک اور دنیا کی جھلک۔

جب فراز کی آنکھ کھلی، وہ ایک تنگ گلی میں کھڑا تھا۔ ہوا میں دھواں اور خوف کی بو تھی۔ لوگ بھاگ رہے تھے، سامان اٹھائے، بچوں کو گود میں لیے۔ اسے فوراً سمجھ آ گیا یہ تقسیم کا لاہور تھا۔

ایک نوجوان عورت اس سے ٹکرائی، اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا صندوق تھا۔ "معاف کیجیے،" اس نے کہا، مگر رکی نہیں۔

فراز نے اسے پہچان لیا ڈائری کی تصویروں سے۔ یہ زینب تھی، اس کی دادی، مگر جوان، شاید بیس برس کی۔

وہ اس کے پیچھے بھاگا۔ "زینب!" اس نے پکارا، پھر رک گیا وہ اسے کیسے جانتا؟ زینب نے حیرت سے مڑ کر دیکھا۔

"آپ مجھے جانتے ہیں؟" اس نے پوچھا۔

فراز نے جھوٹ بولا: "میں... میں آپ کے خاندان کا دور کا رشتہ دار ہوں۔"

اگلے کئی گھنٹے فراز نے زینب کے ساتھ گزارے، اس کی مدد کی کہ وہ محفوظ راستے سے اپنے خاندان تک پہنچ سکے۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ کس طرح زینب نے اپنے چھوٹے بھائی کو ایک ہجوم سے بچایا، کس طرح اس نے ایک زخمی اجنبی کی مدد کی باوجود اس کے کہ خود خطرے میں تھی۔

"تم بہت بہادر ہو،" فراز نے کہا جب وہ ایک محفوظ جگہ پہنچے۔

زینب نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا: "بہادری نہیں، مجبوری ہے۔ جب آپ کے پاس کھونے کو کچھ نہ بچے، تو ڈر بھی ختم ہو جاتا ہے۔"

یہ الفاظ فراز کے دل میں گھر کر گئے۔ اچانک، روشنی کا وہی بھنور نمودار ہوا، اور وہ واپس تہہ خانے میں کھڑا تھا۔

فراز کئی دن تک اس تجربے کو ہضم نہیں کر پایا۔ کریم بخش نے اسے بتایا کہ دہلیز صرف ماضی کے وہی لمحات دکھاتی ہے جو اس شخص کی زندگی سے جڑے ہوتے ہیں سبق دینے کے لیے، بدلنے کے لیے نہیں۔

"میری دادی... کیا وہ بار بار وہاں جاتی تھیں؟" فراز نے پوچھا۔

"وہ اپنے شوہر کی موت کے بعد بہت زیادہ گئیں،" کریم بخش نے آہستگی سے کہا۔ "وہ ماضی میں سکون ڈھونڈتی تھیں۔ لیکن دہلیز نے انہیں سکھایا کہ ماضی میں رہنا، زندگی سے فرار ہے۔"

فراز نے دوبارہ دروازہ کھولا۔ اس بار وہ ایک اور وقت میں پہنچا 1965 کی جنگ کا زمانہ۔ اس نے اپنے دادا کو دیکھا، ایک نوجوان فوجی، جو خط لکھ رہا تھا اپنی بیوی زینب کو۔ خط میں محبت تھی، خوف تھا، اور امید تھی۔

فراز نے محسوس کیا کہ اس کا خاندان، جسے وہ اجنبی سمجھتا تھا، دراصل جدوجہد، محبت اور قربانی کی ایک لمبی کہانی تھی۔ اس کا اپنا باپ کیوں گھر سے نکلا؟ اس سوال کا جواب ابھی باقی تھا۔


اگلی بار دہلیز نے فراز کو 1988 میں پہنچایا۔ اس نے ایک نوجوان لڑکے کو دیکھا اپنے باپ، عمر کو جو زینب سے شدید بحث کر رہا تھا۔

"میں یہاں نہیں رہ سکتا!" عمر چلایا۔ "آپ لوگ مجھے وہ زندگی جینے پر مجبور کر رہے ہیں جو میں نہیں چاہتا۔"

زینب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "میں صرف تمہیں محفوظ رکھنا چاہتی ہوں۔"

"محفوظ رکھنا، یا قابو میں رکھنا؟" عمر نے پوچھا، اور دروازے سے نکل گیا۔

فراز نے اپنی دادی کو ٹوٹتے دیکھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اس کا خاندان بکھر گیا۔ اس نے سمجھا کہ اس کے باپ کی رخصتی کوئی سادہ فیصلہ نہیں تھا یہ نسلوں کی محبت اور خوف کی جنگ کا نتیجہ تھا۔

واپس آ کر، فراز نے کریم بخش سے پوچھا: "کیا میں کچھ بدل سکتا ہوں؟ کیا میں انہیں بتا سکتا ہوں کہ سمجھوتہ کریں؟"

کریم بخش نے سر ہلایا: "دہلیز کا اصول واضح ہے۔ ماضی بدل نہیں سکتا۔ لیکن شاید... حال بدل سکتا ہے۔"

فراز کو احساس ہوا کہ اصل سبق دہلیز کے پار نہیں، بلکہ اس کے اپنے حال میں تھا۔ اس نے اپنے باپ کو، جس سے وہ برسوں سے نہیں ملا تھا، فون کیا۔

"ابا،" اس نے کانپتی آواز میں کہا۔ "میں لاہور میں ہوں، دادی کی حویلی میں۔"

فون کی دوسری طرف طویل خاموشی رہی۔ پھر عمر کی آواز آئی، بوڑھی اور تھکی ہوئی: "میں نے سوچا تھا وہ جگہ بک چکی ہوگی۔"

"ابا، آپ کو کیوں چھوڑنا پڑا؟ مجھے سمجھنا ہے۔"

عمر نے آہ بھری۔ "یہ آسان نہیں تھا، فراز۔ تمہاری دادی مجھ سے بہت محبت کرتی تھیں، مگر وہ ڈر کے مارے مجھے کبھی آزاد نہیں چھوڑتی تھیں۔ ہر فیصلہ، ہر خواب سب پر ان کا خوف حاوی تھا۔ میں نے سوچا اگر میں نہ گیا تو کبھی اپنی زندگی نہیں جی پاؤں گا۔"

"کیا آپ کو پچھتاوا ہے؟"

"ہر دن،" عمر نے سرگوشی میں کہا۔ "لیکن واپسی کا راستہ کبھی آسان نہیں لگا۔"

فراز نے گہرا سانس لیا۔ "ابا، مجھے لگتا ہے وقت آ گیا ہے کہ راستہ آسان بنایا جائے۔ آئیں، لاہور آئیں۔ یہ حویلی آپ کی بھی وراثت ہے۔"

دو ہفتے بعد، عمر احمد نے تیس سال بعد اپنے بچپن کی حویلی کی دہلیز پر قدم رکھا۔ اس کی آنکھیں نم تھیں۔ فراز نے دیکھا کہ اس کا باپ کتنی دیر تک دروازے کے نقش و نگار کو چھوتا رہا، جیسے کوئی کھویا ہوا دوست مل گیا ہو۔

اس رات، فراز نے اپنے باپ کو تہہ خانے کے راز کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں عمر نے یقین نہ کیا، مگر جب فراز نے ڈائری دکھائی اور اپنی آنکھوں دیکھے واقعات بیان کیے، تو عمر کی آنکھوں میں کچھ بدل گیا۔

"تم نے اسے دیکھا؟" عمر نے پوچھا۔ "میری ماں کو، جوان زمانے میں؟"

"ہاں ابا۔ وہ بہت بہادر تھیں۔ اور وہ آپ سے بہت محبت کرتی تھیں، حتیٰ کہ اس رات بھی جب آپ گھر چھوڑ گئے۔"

عمر کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ "کاش میں یہ پہلے سمجھ پاتا۔"

"شاید،" فراز نے آہستگی سے کہا، "دہلیز کا اصل مقصد یہی ہے ہمیں یہ سکھانا کہ ماضی کو سمجھنا، حال کو ٹھیک کرنے کی چابی ہے۔"

اس رات، باپ بیٹے نے ساتھ مل کر تہہ خانے کا دروازہ دیکھا۔ عمر نے دروازہ چھوا، مگر اندر جانے کا حوصلہ نہ کر سکا۔

"شاید ابھی نہیں،" اس نے کہا۔ "شاید مجھے پہلے حال میں صلح کرنی ہے، پھر ماضی کا سامنا کروں گا۔"

مہینے گزر گئے۔ فراز نے حویلی میں رہنے کا فیصلہ کیا، اسے دوبارہ آباد کیا۔ عمر بھی اکثر آنے لگا، اور آہستہ آہستہ باپ بیٹے کے درمیان برسوں کا فاصلہ کم ہونے لگا۔

ایک شام، فراز کی منگیتر، سارہ، حویلی آئی۔ وہ بھی ایک مورخ تھی، اور جب فراز نے اسے دہلیز کا راز بتایا، تو اس کی آنکھوں میں حیرت کے ساتھ گہری دلچسپی بھی تھی۔

"تو یہ سچ میں کام کرتی ہے؟" سارہ نے پوچھا۔

"ہاں،" فراز نے کہا۔ "مگر یہ صرف ہمیں دکھاتی ہے، بدلنے نہیں دیتی۔ ۔"

سارہ نے اس کا ہاتھ تھاما۔ "ہر خاندان کو ایسی دہلیز کی ضرورت ہوتی ہے، فراز۔ کچھ ایسا جو انہیں یاد دلائے کہ ماضی کے لوگ بھی انسان تھے، غلطیاں کرنے والے، محبت کرنے والے، ڈرنے والے۔"

کریم بخش، جو اب بوڑھا ہو چکا تھا، دور کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا، مسکراتے ہوئے۔ اس نے کئی نسلوں کو اس دہلیز سے گزرتے دیکھا تھا، اور اب وہ جانتا تھا کہ فراز نے وہ سبق سیکھ لیا تھا جو اس کی دادی کبھی مکمل طور پر نہ سیکھ سکیں۔

ایک سال بعد، فراز اور سارہ کی شادی حویلی کے اسی صحن میں ہوئی جہاں کبھی زینب نے اپنی زندگی کے سب سے مشکل فیصلے کیے تھے۔ عمر نے اپنے بیٹے کو رخصت کرتے ہوئے، پہلی بار برسوں میں، مکمل سکون محسوس کیا۔

اس رات، جب مہمان جا چکے تھے، فراز تنہا تہہ خانے میں گیا۔ اس نے دروازہ کھولا، مگر اس بار وہ اندر نہیں گیا۔ اس نے بس دیکھا، روشنی کے بھنور کو، اور مسکرایا۔

"شکریہ،" اس نے سرگوشی میں کہا، "مجھے یہ سکھانے کے لیے کہ حال ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں ہم واقعی زندگی جی سکتے ہیں۔"

اس نے دروازہ بند کیا، مگر اسے بند نہیں کیا تالا نہیں لگایا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایک دن، شاید اس کے اپنے بچے، یا اس کی نسل کا کوئی اور فرد، اس دہلیز کو پار کرے گا، اور وہی سبق سیکھے گا جو نسلوں سے سکھایا جا رہا تھا۔

باہر، لاہور کی رات پرسکون تھی۔ ستارے آسمان پر ویسے ہی چمک رہے تھے جیسے 1947 میں، 1965 میں، 1988 میں چمکتے تھے۔ وقت بدلتا رہا، مگر کچھ چیزیں ہمیشہ ایک جیسی رہیں محبت، خوف، امید، اور گھر واپسی کی چاہت۔

فراز نے کھڑکی سے حویلی کو دیکھا، اپنے نئے گھر کو، اپنے ماضی اور مستقبل کے سنگم کو، اور جانا کہ وہ آخرکار اپنی اصل جگہ پر پہنچ چکا تھا۔

"وقت کی دہلیز ہر خاندان میں ہوتی ہے۔ کچھ اسے تہہ خانوں میں تلاش کرتے ہیں، کچھ پرانی تصویروں میں، اور کچھ صرف اپنے بزرگوں کی خاموش کہانیوں میں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ دہلیز کہاں ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے پار کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔"۔