ہم میں سے اکثر لوگ وقت کو اس وقت تک اہمیت نہیں دیتے جب تک وہ ہمارے ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انسان کی عجیب عادت ہے کہ وہ موجود چیز کی قدر کم اور کھوئی ہوئی چیز کی قدر زیادہ کرتا ہے۔ جو وقت آج ہمارے پاس ہے وہ ہمیں معمولی محسوس ہوتا ہے، لیکن یہی وقت جب گزر جاتا ہے تو اس کی ایک ایک ساعت یاد آتی ہے۔ ہم اپنی زندگی میں بہت سی چیزوں کو دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں۔ پیسہ چلا جائے تو دوبارہ کمایا جا سکتا ہے، کاروبار میں نقصان ہو جائے تو دوبارہ کاروبار کھڑا کیا جا سکتا ہے، گھر چھوٹ جائے تو نیا گھر بنایا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ بعض رشتے بھی ٹوٹنے کے بعد کسی نہ کسی صورت میں دوبارہ جڑ جاتے ہیں، لیکن وقت ایک ایسی دولت ہے جو ایک مرتبہ خرچ ہو جائے تو دنیا کی تمام دولت مل کر بھی اسے واپس نہیں لا سکتی۔ ہم اپنی زندگی کے قیمتی برس معمولی چیزوں میں صرف کر دیتے ہیں۔ کبھی کسی ایسے شخص کے پیچھے وقت ضائع کرتے رہتے ہیں جو ہماری قدر نہیں کرتا، کبھی ایسے کام میں عمر لگا دیتے ہیں جس سے ہمیں کوئی سکون نہیں ملتا، کبھی لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنی خواہشات دفن کرتے رہتے ہیں اور کبھی صرف اس خوف سے فیصلہ نہیں کرتے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ پھر ایک دن اچانک احساس ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ہم نے اپنی زندگی گزاری، وہ اپنی زندگی میں مصروف تھے اور جس زندگی کو ہم نے کل کے لیے چھوڑ رکھا تھا وہ کل کبھی آیا ہی نہیں۔
وقت کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ تیزی سے گزر رہا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اس کے گزرنے کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے۔ بچپن میں ایک سال بہت طویل محسوس ہوتا ہے، جوانی میں وہی سال چند مہینوں جیسا گزر جاتا ہے اور عمر کے ایک حصے میں پہنچ کر انسان پیچھے دیکھتا ہے تو اسے حیرت ہوتی ہے کہ اتنے برس آخر کہاں چلے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ کہیں نہیں گئے، ہم نے انہیں اپنی مصروفیات، اپنی غفلت، اپنی ناراضیوں، اپنی خواہشوں اور اپنے غیر ضروری انتظار میں خرچ کیا ہوتا ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ ابھی وقت ہے۔ یہی دو لفظ انسان کی زندگی کے سب سے بڑے فریب میں سے ایک ہیں۔ ابھی وقت ہے، کل کر لیں گے، اگلے ہفتے ملیں گے، اگلے مہینے سفر کریں گے، کبھی فرصت ہوئی تو کتاب پڑھیں گے، حالات بہتر ہوئے تو والدین کے ساتھ وقت گزاریں گے، پیسے آئے تو زندگی جئیں گے۔ لیکن زندگی کسی وعدے پر نہیں چلتی۔ کل کا سورج ضرور طلوع ہو سکتا ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ ہم بھی اسی طرح اس کے استقبال کے لیے موجود ہوں۔ اس لیے زندگی کو ہمیشہ مستقبل کے حوالے کرنا دراصل موجودہ زندگی سے دست بردار ہونا ہے۔
رشتوں میں وقت کی قدر شاید سب سے زیادہ ضروری ہے۔ محبت صرف بڑے بڑے دعووں کا نام نہیں بلکہ وقت دینے کا نام بھی ہے۔ کسی اپنے کے پاس بیٹھ جانا، اس کی بات سن لینا، اس کے خاموش چہرے کو پڑھ لینا، ماں کی آواز پر فوراً جواب دینا، باپ کے ساتھ چند لمحے بیٹھنا، بچے کے سوال کا جواب دینے کے لیے موبائل ایک طرف رکھ دینا، دوست کے مشکل وقت میں اس کے پاس پہنچ جانا، یہ سب وقت ہی تو ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے لوگوں سے محبت کرتے ہیں لیکن اگر ہماری محبت میں ان کے لیے وقت نہیں تو پھر وہ محبت کس کام کی؟ بعض اوقات انسان کو تحفے کی نہیں، صرف آپ کی موجودگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری ایک اور بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم وقت کو صرف گھڑی اور کیلنڈر سے ناپتے ہیں۔ وقت دراصل مواقع کی شکل میں بھی آتا ہے۔ کبھی ایک ملاقات موقع بن کر آتی ہے، کبھی ایک ملازمت، کبھی ایک کاروبار، کبھی کسی کتاب کا مطالعہ، کبھی کسی شخص سے ملاقات اور کبھی زندگی بدل دینے والا ایک فیصلہ۔ اگر ہم نے موقع کو اس وقت نہ پہچانا جب وہ ہمارے سامنے تھا تو ممکن ہے بعد میں وہی موقع ہماری زندگی میں دوبارہ نہ آئے۔ وقت صرف گزرنے والی ساعت نہیں، وقت وہ موقع بھی ہے جو کسی خاص لمحے میں ہماری دسترس میں آتا ہے۔
اور پھر وقت ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہر چیز کی قدر مستقل نہیں رہتی۔ ایک چیز جو آج ہمارے لیے اہم ہے، کل شاید بے معنی ہو جائے۔ اس کی ایک سادہ سی مثال روزمرہ زندگی میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ صبح کا تیس روپے کا ملنے والا اخبار رات کو تیس روپے کلو بکتا ہے۔ اخبار وہی ہے، کاغذ وہی ہے، سیاہی وہی ہے، لیکن اس کی قیمت بدل گئی کیونکہ اس کا وقت بدل گیا۔ صبح وہ تازہ خبر تھا، لوگوں کی ضرورت تھا، ہر شخص اسے جاننا چاہتا تھا۔ رات تک اس کی خبریں پرانی ہو چکی تھیں اور وہ اخبار ردی کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ اس سے زیادہ خوب صورت مثال شاید وقت کی قیمت سمجھانے کے لیے نہیں ہو سکتی کہ قیمت ہمیشہ چیز کی نہیں ہوتی، بعض اوقات قیمت وقت کی ہوتی ہے۔ ہماری اپنی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ جوانی میں جو توانائی ہمارے پاس ہوتی ہے وہ بڑھاپے میں نہیں ہوتی، صحت کا جو سرمایہ آج ہمارے پاس ہے وہ ہمیشہ نہیں رہنا، والدین آج ہمارے ساتھ ہیں تو ہمیشہ نہیں رہیں گے، دوست آج ہمارے آس پاس ہیں تو زندگی انہیں بھی ایک دن ہم سے دور لے جائے گی۔ آج کا انسان کل کا انسان نہیں ہوگا اور آج کا موقع کل کا موقع نہیں ہوگا۔ اس لیے جو شخص وقت کو سمجھنا چاہتا ہے اسے گھڑی دیکھنے کے بجائے اپنی زندگی دیکھنی چاہیے۔
وقت کی قدر کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر لمحہ کام ہی کرتا رہے۔ آرام بھی وقت کا حصہ ہے، محبت بھی، دوستی بھی، تنہائی بھی، کتاب بھی، سفر بھی، عبادت بھی اور خاموشی بھی۔ وقت کی قدر دراصل یہ سمجھنا ہے کہ ہماری زندگی کا کون سا لمحہ کس کام کے لیے ہے۔ جہاں آرام چاہیے وہاں آرام کرنا، جہاں محنت چاہیے وہاں محنت کرنا، جہاں رشتہ نبھانا چاہیے وہاں موجود ہونا اور جہاں فیصلہ ضروری ہے وہاں فیصلہ کر لینا ہی وقت کی اصل قدر ہے۔ زندگی آخرکار وقت کا ہی دوسرا نام ہے۔ ہمارے پاس جو عمر ہے وہ دراصل ہمیں دی گئی محدود مہلت ہے۔ ہم اسے پیسوں میں نہیں خرید سکتے، کسی بینک میں جمع نہیں کر سکتے اور کسی سے ادھار نہیں لے سکتے۔ اس لیے شاید زندگی کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنا ہے بلکہ یہ ہے کہ ہمارے پاس جو وقت ہے ہم اسے کس طرح استعمال کر رہے ہیں۔ کیونکہ ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب ہمارے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر وقت نہیں ہوتا، اور تب انسان کو سمجھ آتا ہے کہ دنیا کی سب سے مہنگی چیز وہ تھی جسے وہ ہمیشہ مفت سمجھتا رہا۔






