یومِ تحفظِ ختمِ نبوت،تحریر: تابندہ طارق عکس
نقطہ نظر
اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے ہر دور میں انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ ہر نبی اپنے مخصوص زمانے، مخصوص حالات اور ایک خاص قوم کی اصلاح و رہنمائی کے لیے تشریف لائے۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کا پیغام انسانوں تک پہنچایا اور اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت بھی دی۔ یوں نبوت کا یہ مقدس سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر مختلف ادوار سے گزرتا ہوا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچا۔
تمام انبیائے کرام علیہم السلام ہدایت، محبت اور نور کے ایسے چراغ تھے جنہوں نے اپنے اپنے زمانے میں انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکالا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام عام کیا۔ وہ آئے، اپنے گرد و پیش کو ایمان و اخلاق کی خوشبو سے مہکایا اور اپنے رب کے حضور واپس تشریف لے گئے۔ لیکن جب رحمتِ عالم، فخرِ دو عالم، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو نبوت کا یہ مبارک سلسلہ آپ ﷺ پر مکمل کر دیا گیا۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس، آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور آپ ﷺ کی تعلیمات قیامت تک پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
دنیا میں حسن، محبت، اخلاق، عدل، رحم اور انسانیت کی جو بھی خوبصورت صورت نظر آتی ہے، اس میں کسی نہ کسی انداز سے حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کا فیض دکھائی دیتا ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت ہمارے لیے صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل اور روشن راستہ ہے۔ اسی لیے عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اور اہم ترین عقائد میں شمار ہوتا ہے۔ اس عقیدے کے مطابق حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی گنجائش نہیں۔
قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں ختمِ نبوت کا عقیدہ نہایت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا۔ مسلمانوں کا صدیوں سے یہ متفقہ اور غیر متزلزل عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ یہی عقیدہ دینِ اسلام کی تکمیل اور ایمان کی بنیادی بنیادوں میں سے ایک ہے۔
عقیدۂ ختمِ نبوت محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی مانے اور آپ ﷺ کی ختمِ نبوت پر کامل یقین رکھے۔ اس عقیدے سے انکار اسلام کے بنیادی عقائد سے انحراف کے مترادف ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے ہمیشہ بھرپور کردار ادا کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی علمائے کرام اور مسلمانوں نے اس عقیدے کے تحفظ کے لیے طویل جدوجہد کی۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے ایک اہم تاریخی مرحلہ 7 ستمبر 1974 کو آیا، جب پارلیمنٹ نے آئینی طور پر قادیانی گروہ کو غیر مسلم قرار دیا۔ یہ فیصلہ ایک طویل سیاسی، مذہبی اور آئینی عمل کے بعد سامنے آیا اور پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔اسی تاریخی پس منظر کی وجہ سے ہر سال 7 ستمبر کو یومِ تحفظِ ختمِ نبوت منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کو اجاگر کرنا، نئی نسل کو اس بنیادی عقیدے سے آگاہ کرنا اور سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ سے اپنی وابستگی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ آپ ﷺ نے ہمیں محبت، برداشت، عدل، رحم، اخوت، دیانت اور انسانیت کا درس دیا۔ اگر ہم واقعی اپنے ایمان اور محبتِ رسول ﷺ کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک بہتر، پرامن اور بااخلاق معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کی ختمِ نبوت پر ہمارا ایمان غیر متزلزل ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس عقیدے کو علم، حکمت، اخلاق اور پُرامن انداز میں اپنی نسلوں تک منتقل کریں اور حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کو اپنی زندگیوں کے لیے حقیقی نمونہ بنائیں۔
مزید پڑھیں





