زمانۂ طالب علمی،تحریر: اللہ رکھا تبسم ایڈووکیٹ
نقطہ نظر
جب اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اور بھروسا ہو تو انسان کسی بھی ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے۔ جب اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس اور ادراک ہو جائے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
زمانۂ طالب علمی بڑا نازک دور ہوتا ہے، بالخصوص دسویں جماعت تک ہر طالب علم مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی ہے، اس کی سوچ اور ذہنیت بھی بدلتی رہتی ہے۔ نویں اور دسویں جماعت کا طالب علم انتہائی اہم موڑ پر ہوتا ہے۔ ان دو سالوں میں اس کے مستقبل کا تعین ہونا ہوتا ہے۔ اگر وہ ان دو سالوں میں اپنے آپ پر قابو پا لیتا ہے تو کٹھن سے کٹھن مرحلہ بھی اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ وہ ہمیشہ سرخرو اور سرفراز رہتا ہے۔ اس کا خواب ہوتا ہے کہ وہ ڈاکٹر، انجینئر، بینکار، وکیل، صحافی یا فوجی بنے۔ وہ دن رات محنت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے اپنے ملک کی خدمت کرتا ہے۔ اس کے خاندان کو اس پر مان اور ناز ہوتا ہے کیونکہ وہ ان کی امیدوں کا محور اور مرکز ہوتا ہے۔ والدین اس کے لیے سب سے زیادہ دعائیں کرتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے بہن بھائیوں کے لیے مشعل راہ بنتا ہے۔ اس کی ذہانت اور کامیابی کی مثالیں دی جاتی ہیں۔
موجودہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ کوئی چیز بھی ناممکن نہیں رہی۔ جہاں دیگر شعبوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، وہیں طلبہ بھی اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے یہ ایک مثبت ذریعہ ہے، جبکہ چھوٹے بچوں کے لیے یہ زہر سے کم نہیں ہوتا۔ بچے ہمیشہ سیکھنے کے مراحل سے گزرتے ہیں اور ان کی ذہن سازی بھی جاری رہتی ہے۔ ایک اچھا اور ذمہ دار طالب علم ہمیشہ ایک توازن برقرار رکھتا ہے۔ وہ تعلیم اور دیگر مشاغل کے لیے وقت کو تقسیم کر لیتا ہے۔ پڑھائی کے وقت وہ بھرپور توجہ سے پڑھتا ہے۔ تفریح اور کھیل اس کی اچھی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں اور وہ ان کے لیے بھی وقت نکال لیتا ہے۔ ایک صحت مند جسم میں صحت مند دماغ ہوتا ہے، اس لیے صحت و تندرستی ایک اچھے طالب علم کی بنیادی ضرورت ہے۔
معزز قارئین کرام!
ہم اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ ضرور بنائیں، مگر ان کی سرگرمیوں پر خاص نظر رکھیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری لاپرواہی اور غفلت سے ان کا مستقبل داؤ پر لگ جائے۔ اپنے بچوں کو تمام جائز سہولیات فراہم کریں۔ ان کی ذہنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق ان کو تعلیم دلائیں۔ بچوں کو زبردستی ایسے مضامین پڑھنے پر مجبور نہ کریں جو بعد میں آپ کے لیے پچھتاوے کا باعث بنیں۔ ہمارے بچے ہمارا سرمایہ ہیں اور ہمارے بڑھاپے کا سہارا بھی۔ اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے اور ہر قسم کی آزمائش سے محفوظ رکھے۔
آمین! یا رب العالمین!
مزید پڑھیں





