ماضی محض سنگِ میل ہے، منزل نہیں،تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
کہتے ہیں کہ ایک مسافر شام ڈھلے ایک ویران سرائے میں جا ٹھہرا۔ دیواروں پر بیتے موسموں کی گرد جمی ہوئی تھی، دریچوں سے گزرے ہوئے لمحوں کی خاموش آہٹ سنائی دیتی تھی اور فضا میں ایسی اداسی بسی ہوئی تھی جیسے وقت یہاں آ کر ٹھہر گیا ہو۔ مسافر نے سوچا کہ شاید یہی اس کی آخری منزل ہے۔ اسی لمحے ایک عمر رسیدہ راہبر وہاں آیا، مسکرایا اور نہایت شفقت سے بولا:
"بیٹے! سرائے میں رات تو گزاری جاتی ہے، پوری زندگی نہیں۔ راستے اس لیے ہوتے ہیں کہ منزل تک پہنچایا جائے، رک جانے کے لیے نہیں۔"
یہ مختصر سی نصیحت دراصل پوری زندگی کا فلسفہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ انسان کی زندگی بھی ایک طویل سفر ہے۔ اس سفر میں ماضی ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سنگِ میل یہ ضرور بتاتا ہے کہ ہم کہاں سے گزر کر آئے ہیں مگر وہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ اب یہیں بیٹھ جاؤ اور آگے نہ بڑھو۔ اگر ہر مسافر کسی سنگِ میل سے لپٹ کر بیٹھ جائے تو راستے ویران اور منزلیں بے معنی ہو جائیں۔
قدرت کا نظام بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔ درخت خزاں میں سوکھے پتوں کو ہمیشہ اپنی شاخوں سے لپٹائے نہیں رکھتا بلکہ خاموشی سے انہیں ہوا کے سپرد کر دیتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ بہار پھر آئے گی اور نئی کونپلیں اس کی شاخوں کو زندگی بخشیں گی۔ دریا گزرے ہوئے پانی کو آواز نہیں دیتا، وہ مسلسل آگے بڑھتا ہے اور اسی روانی میں اپنی عظمت تلاش کرتا ہے۔ سورج ہر شام غروب ضرور ہوتا ہے مگر اگلی صبح ایک نئی روشنی کے ساتھ طلوع بھی ہوتا ہے۔ اگر کائنات کا ہر عنصر آگے بڑھنے کا اصول اپنا سکتا ہے تو انسان کیوں ماضی کی زنجیروں میں خود کو قید رکھے؟
اسی لیے گزرے ہوئے دنوں کی گرد کو اپنی پلکوں کا زیور بنانے کے بجائے اسے تجربے کی روشنی میں بدل دینا چاہیے۔ یادیں انسان کی شناخت کا حصہ ضرور ہیں لیکن اگر وہی یادیں انسان کے قدم روک دیں تو وہ نعمت کے بجائے بوجھ بن جاتی ہیں۔ جو لوگ ہر وقت گزرے ہوئے زمانوں کے دریچوں سے جھانکتے رہتے ہیں، وہ حال کے دروازے پر ہونے والی دستک سننے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں صرف افراد ہی نہیں بلکہ ادارے، خاندان اور بعض اوقات پوری قومیں بھی اسی ذہنی کیفیت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ وہ ماضی کو اس قدر مقدس بنا لیتی ہیں کہ حال انہیں ناقابلِ قبول اور مستقبل خوفناک دکھائی دینے لگتا ہے۔ ہر نئی سوچ پر اعتراض، ہر نئے طریقے پر بدگمانی اور ہر نئی نسل پر بے اعتمادی گویا ان کی مستقل عادت بن جاتی ہے۔
اس کیفیت کو ایک تمثیل کے ذریعے بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔
ایک قدیم شہر کے وسط میں ایک عظیم الشان قلعہ تھا۔ اس کی دیواریں بلند، دروازے مضبوط اور پہرے دار نہایت محتاط تھے مگر ان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر آنے والے سے یہی کہتے:
"سنہرا زمانہ گزر چکا ہے۔ اب نہ وہ لوگ رہے، نہ وہ اقدار، نہ وہ خلوص۔"
قلعے کے اندر ایک عجیب روایت قائم ہو چکی تھی۔ ہر نئی آواز کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا، ہر نئے خیال کو فتنہ قرار دیا جاتا اور ہر نئے آنے والے کو ممکنہ خطرہ سمجھا جاتا۔ بزرگ پہرے دار نوجوانوں کو مسلسل یہ نصیحت کرتے کہ کسی پر اعتماد نہ کرو کیونکہ لوگ تمہاری مدد کرنے نہیں بلکہ تمہاری جگہ لینے آتے ہیں۔
دوسری طرف قلعے کے باہر زندگی پوری آب و تاب سے آگے بڑھ رہی تھی۔ بچے نئے خواب دیکھ رہے تھے، کسان نئی فصلوں کے تجربات کر رہے تھے، کاریگر نئے اوزار بنا رہے تھے، اساتذہ نئے انداز سے علم منتقل کر رہے تھے اور مسافر نئی راہیں تلاش کر رہے تھے مگر قلعے کے اندر وقت جیسے قید ہو چکا تھا۔ وہاں دیواروں پر ماضی کی تصویریں تو آویزاں تھیں لیکن کھڑکیاں بند تھیں تاکہ حال کی روشنی اندر داخل نہ ہو سکے۔
ایک دن ایک نوجوان مسافر قلعے کے دروازے پر آیا۔ اس نے ادب سے کہا:
"میں آپ کی جگہ لینے نہیں آیا بلکہ آپ کے تجربے سے سیکھنے آیا ہوں۔ اگر آپ اپنی دانائی مجھے دے دیں اور میرے خواب قبول کر لیں تو شاید یہ قلعہ دوبارہ آباد ہو جائے۔"
پہرے دار اس کی بات سن کر ہنس پڑے۔
"ہم تم جیسے بہت دیکھ چکے ہیں۔ پہلے لوگ احترام کا اظہار کرتے ہیں، پھر اختیار سنبھالتے ہیں اور آخر میں بزرگوں کو بھلا دیتے ہیں۔"
نوجوان خاموشی سے واپس چلا گیا۔
چند برس بعد شہر کے باہر اس نے ایک نئی بستی آباد کی۔ وہاں بزرگوں کا احترام بھی تھا اور نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع بھی۔ وہاں علم کو وراثت سمجھا جاتا تھا، اقتدار کو امانت اور کامیابی کو مشترکہ خوشی۔ کسی کو اس بات کا خوف نہ تھا کہ دوسرے کے آگے بڑھنے سے اس کی اپنی جگہ کم ہو جائے گی کیونکہ سب جانتے تھے کہ زندگی میں جگہیں چھینی نہیں جاتیں، پیدا کی جاتی ہیں۔
ادھر پرانا قلعہ اپنی مضبوط دیواروں سمیت قائم تو رہا مگر رفتہ رفتہ ویران ہوتا گیا۔ پہرے دار ایک دوسرے کو وہی پرانی داستانیں سناتے رہے مگر سننے والے کم ہوتے گئے۔ آخرکار انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے دشمنوں سے زیادہ اپنے خوف کی حفاظت کی تھی اور اسی خوف نے ان کے قلعے کو تنہا کر دیا۔
یہ تمثیل محض ایک قلعے کی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی تصویر بھی ہے۔ ہم میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو ہر گفتگو کا آغاز اس جملے سے کرتے ہیں کہ "ہمارے زمانے میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔" گویا ان کے نزدیک تمام خوبیاں ماضی میں دفن ہو چکی ہیں اور حال صرف زوال کی علامت ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور نے اپنی مشکلات بھی دیکھی ہیں اور کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ ہر نسل نے آزمائشوں کا سامنا کیا اور ہر نسل نے اپنی صلاحیتوں سے نئی راہیں بھی نکالیں۔
اصل دانش یہ نہیں کہ انسان ماضی کو بھلا دے بلکہ یہ ہے کہ اسے صحیح مقام دے۔ ماضی احترام کا مستحق ضرور ہے، عبادت کا نہیں۔ وہ بنیاد ہے، عمارت نہیں۔ وہ جڑ ہے، شاخ نہیں۔ اگر درخت صرف اپنی جڑوں پر فخر کرتا رہے اور نئی شاخیں اگانے سے انکار کر دے تو وہ جلد سوکھ جائے گا۔ اسی طرح قومیں صرف اپنے تاریخی کارناموں پر ناز کرتی رہیں اور نئی کامیابیاں پیدا نہ کریں تو ان کی عظمت صرف کتابوں تک محدود ہو جاتی ہے۔
سب سے خطرناک رویہ وہ ہے جو دوسروں کے لیے دل، گھر، ادارے اور مواقع کے دروازے صرف اس خوف سے بند کر دیتا ہے کہ کہیں وہ آگے نہ نکل جائیں۔ یہی خوف خاندانوں کو تقسیم کرتا ہے، اداروں کو کمزور کرتا ہے اور قوموں کی ترقی روک دیتا ہے۔ جو استاد اپنے شاگرد کو اپنے سے بہتر نہیں دیکھنا چاہتا، جو افسر اپنے ماتحت کی صلاحیتوں سے خوفزدہ رہتا ہے، جو بزرگ نئی سوچ کو قبول نہیں کرتا اور جو رہنما نئی قیادت کو ابھرنے نہیں دیتا، وہ دراصل اپنی حیثیت تو وقتی طور پر محفوظ کر لیتا ہے مگر اپنے بعد خلا چھوڑ جاتا ہے، تسلسل نہیں۔
اس کے برعکس وہ لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو اپنے علم، تجربے اور کردار کو اگلی نسل تک منتقل کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اصل کامیابی اپنی کرسی بچانے میں نہیں بلکہ اپنے بعد ایسے انسان تیار کرنے میں ہے جو معاشرے کو پہلے سے بہتر بنا سکیں۔ تاریخ بھی انہی لوگوں کو معمار کے نام سے یاد رکھتی ہے، صرف محافظ کے طور پر نہیں۔
زندگی کا حسن بھی اسی تسلسل میں ہے۔ عہدے بدلتے ہیں، نسلیں بدلتی ہیں، کردار بدلتے ہیں مگر اقدار، علم، اخلاص اور خدمت کا جذبہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔ یہی تسلسل قوموں کی اصل طاقت بنتا ہے۔
لہٰذا ہمیں ماضی سے محبت ضرور کرنی چاہیے کیونکہ وہ ہماری شناخت کا حصہ ہے۔ حال کا سامنا بھی پوری جرات کے ساتھ کرنا چاہیے کیونکہ عمل صرف موجودہ لمحے میں ممکن ہے اور مستقبل پر اعتماد بھی رکھنا چاہیے کیونکہ آنے والی نسلیں ہمارا خاتمہ نہیں بلکہ ہمارا تسلسل ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ماضی کے قلعوں کے پہرے دار بننے کے بجائے مستقبل کے معمار بنیں۔ دروازے بند رکھنے کے بجائے کھولیں، خوف پھیلانے کے بجائے اعتماد پیدا کریں، مقابلے کے بجائے تعاون کو فروغ دیں اور اپنی جگہ محفوظ رکھنے کے بجائے ایسی دنیا تعمیر کریں جہاں ہر اہل انسان کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہو۔
آخرکار یہی حقیقت ہے کہ ماضی کہانی کا پہلا باب ضرور ہے مگر پوری داستان نہیں۔ دانا مسافر وہی ہے جو ہر باب سے سبق حاصل کر کے اگلا ورق پلٹ دیتا ہے کیونکہ زندگی ہمیشہ آگے لکھی جاتی ہے، پیچھے نہیں۔ اس لیے ماضی کو سنگِ میل سمجھیے، منزل نہیں۔





