پی ٹی آئی کے چار سالہ دورمیں ترقی کو ختم کیا گیا. وزیر اعظم

0
62
pm

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں تصفیہ پر پہنچنے کی کوشش کی اور پی ٹی آئی کے ساتھ رائے ہو گیا تھا لیکن عمران خان نے ویٹو کر دیا، الیکشن کے انعقاد کا سوال توقعات نہیں بلکہ آئینی تقاضا ہے، انتخابات کا بروقت انعقاد ہونا چاہئے یہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے تاہم یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے اور ہم اس کی پابندی کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا، اس انٹرویو کے دوران پاک ترک اور بھارت کے ساتھ تعلقات ، ملکی اقتصادی بحران سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انٹرویو کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کو ایک بار پھر زبردست کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، انہوں نے کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک زبردست مقابلہ کرنے والی شخصیت ہیں، وہ ایک عظیم سیاستدان اور رہنما ہیں، ترکیہ کی عوام نے ان پر غیرمتزلزل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔عوام، میری حکومت اور مجھ سمیت ہم سب بہت خوش اور اس شاندار کامیابی پر اللہ تعالیٰ کے شکرگزار ہیں، میں اپنے بھائی رجب طیب اردوان کے ساتھ بہت قربت سے مل کر کام کرنے کا متمنی ہوں تاکہ ہم اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی روابط میں اضافہ کریں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی اتفاق کرچکے ہیں کہ آنے والے تین سالوں میں ہم اپنی باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کریں گے، یہ کوئی مشکل ہدف نہیں ہے، ہمیں امید ہے کہ ہم مل کر یہ ہدف حاصل کرلیں گے۔ ترکیہ اور پاکستان دو برادر ملک ہیں، یہ یک جان دوقالب کی مانند ہیں جن کے تعلقات کی تاریخ صدیوں پرانی ہے، ترکیہ کی جنگ آزادی سے اس سے بہت پہلے سے ان تعلقات کی تاریخ ہے، ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، ترکیہ امن، سیلاب، زلزلہ سمیت ہر مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، صدر طیب اردوان، ان کی حکومت اور ترکیہ کی عوام نے ہمیشہ آگے بڑھ کر پاکستان کی مدد کی ہے۔ اس طرح پاکستانی عوام اور ہر حکومت ترکیہ کے ساتھ تعلقات کے حوالہ سے ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ سفر ہے جسے ہم نے اختیار کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم محنت اور مقصد سے وابستگی کے ساتھ مل کر اپنی خواہشات کہ پایئہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپنا باہمی تجارتی حجم بڑھائیں گے، ہم شمسی توانائی کے شعبہ میں ترک سرمایہ کاروں کے تعاون کے خواہشمند ہیں کیونکہ ترکیہ شمسی توانائی کا زبردست تجربہ رکھتا ہے، ہم ترک سرمایہ کاروں کو پن بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے بھی دعوت دیں گے۔ ترکیہ نے نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا بھر میں پن بجلی کے منصوبے مکمل کئے ہیں، دیامر بھاشا جیسے منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے بہت مواقع ہیں، ترک سرمایہ کاروں سے اس پر بات ہوئی اور انہوں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ترک سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کریں گے تاکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ پاکستان اورترکیہ میں اساتذہ، طلبا اور تاریخ دانوں کے وفود کے تبادلے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے دعوت دی باہمی تعلقات کے اس زبردست سفر سے آگاہی کیلئے سیمیناروں کا انعقاد کریں، اس حوالہ سے ہماری خواہشات اور مقاصد کی تکمیل صدر طیب اردوان کے موجودہ دور میں ہوگی، طیب اردوان ایک دوراندیش اور صاحب بصیرت رہنما ہیں جن کا بڑا احترام ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا تعلق برادرانہ ہے اور ہر اچھے برے وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ صدر اردوان کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کیلئے پاکستانی آموں کا تحفہ لایا، پاکستان کے سندھڑی آم بہت مشہور ہیں۔ پاکستان، ایران اورترکیہ کے مابین ریل روڈ نیٹ ورک کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ اس سے سفری لاگت میں کمی آئے گی۔ ہماری پیداوار اور مصنوعات کو ان منڈیوں میں مقابلے کا موقع ملے گا اور وہ اس سے مستفید ہوسکیں گے۔ میرا مقصد ہوگا کہ اس ریل نیٹ ورک کو جدید ترین اور بہترین کارکردگی کا حامل بنایا جائے۔ پاکستان کی افرادی قوت زیادہ مہارت اور سستی ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کیلئے فائدہ مند ہے۔ اگر ترکیہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے اور پاکستانی سرمایہ کار ترکیہ میں سرمایہ کاری کریں، ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی افرادی قوت میسر ہو تو یہ ایک زبردست مجموعہ ہوگا جس سے ہم زیادہ قیمتی اشیاء مقابلتا انتہائی بہتر قیمت پر تیار کرسکیں گے۔ اس سے ہمارے باہمی تعاون اور باہمی منصوبوں میں مواقع کا ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

شہباز شریف نے کہا کہ آگے بڑھنے کا راستہ یہی ہے، پاکستان اگرچہ مشکل چیلنجوں سے گزر رہا ہے، بین الاقوامی منڈیوں میں اشیائے خورددونوش کی قیمتیں آسمانوں کو پہنچ گئیں، درآمدی اشیا مہنگی ہوگئی ہیں، ہمیں گزشتہ برس بدترین سیلابوں کا سامنا رہا جو ہماری تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن تھے، 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، ہماری فصلیں تباہ ہوئیں، ہمارا انفراسٹرکچر تباہ اور 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، اس کے باوجود ہماری قوم ہمہ گیر صلاحیتوں کی حامل، مضبوط اور بہادر ہے، اس لئے ہم ان چیلنجوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ہماری ہر طرح سے یہ کوشش ہے کہ چیلنجوں سے نمٹیں۔ سخت محنت اور باہمی تعاون سے ہم قابل فخر انداز میں لگن کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ پاکستان اور ترکیہ قریبی دفاعی تعلقات کے حامل ہیں، دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں دونوں ممالک کے درمیان اب تک بہت سے دفاعی معاہدے ہوئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مضبوط تذویراتی شراکتداری قائم ہے، پاکستان ترکیہ کی بحری جہاز بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبہ کا حصہ بن چکا ہے، اس پر ترکیہ میں کام ہو رہا اور کچھ حصہ کراچی شپ یارڈ پاکستان میں پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے، یہ باہمی اشتراک کی ایک زبردست مثال ہے۔ اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی دونوں ملکوں کے مفاد میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پاکستان کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہے، ترکیہ نے کشمیر کاز پر ہمیشہ پاکستان کی غیرمشروط حمایت کی ہے جس کیلئے ہم ان کے مشکور ہیں۔ کشمیری بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، بھارتی مظالم سے پوری دنیا آگاہ ہے اور کشمیری عوام کی قربانیوں سے بھی پوری دنیا آگاہ ہے اس کے باوجود بھارت ضد پر اڑا ہوا ہے، بھارت کا کشمیریوں کا زیرتسلط رکھنے کا طرزعمل بہت بڑا منفی پہلو ہے، دنیا کو سمجھنا چاہئے کہ جس طرح شمالی آئرلینڈ کا مسئلہ حل کیا گیا تھا، جس طرح سوڈان، بلقان کے مسائل حل کئے گئے اسی طرح وقت آگیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ کشمیریوں کی خواہشات مزید تاخیر بغیر پوری ہوں، بصورت دیگر ہمارے خطے میں امن قائم نہیں ہوسکے گا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے لوگوں کو تعلیم، خوراک ، روزگار مہیا کرنے اور جہالت اور غربت کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے محدود وسائل کو ان شعبوں میں استعمال میں لانے کی ضرورت ہے، ہمیں مزید اسلحہ اور جنگی جہاز خریدنے سے فائدہ نہیں ہوگا، تنازعات کے حل کا واحد راستہ پرامن مذاکرات ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے پاکستان میں اتحادی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلابوں سے نمٹنے کیلئے بھرپور کاوشیں کی ہیں، عالمی برادری کو متحد کیا اور جینوا میں کامیاب ڈونر کانفرنس کا انعقاد کیا، جہاں دوست ممالک اورعالمی برادری نے امداد کے وعدے کئے، اتحادی حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ کے سنگین خطرے سے بچایا۔گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کی پاسداری نہیں کی اس کے نتیجہ میں پاکستان کو سنگین معاشی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، ہم نے فیٹف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالا جس کا کریڈٹ مشترکہ طور پر حکومت اور فوجی قیادت کو جاتا ہے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مشکلات کے باوجود ہم اپنی معیشت کی بہتری پر توجہ دے سکے ہیں، ہمارے ٹھوس اقدامات کی وجہ سے اس سال گندم کی ریکارڈ فصل ہوئی، اس سے گندم کی درآمد میں صرف ہونے والے اربوں ڈالر کی بچت ہوگی، ہمیں امید ہے کہ اس جیسے بہت سے اچھے اقدامات کی وجہ سے ہماری کپاس کی فصل بھی بہت اچھی ہوگی۔ پاکستان ٹیکسٹائل کی صنعت کا مرکز ہے، گزشتہ سالوں میں ہمیں کپاس درآمد کرنا پڑتی تھی مجھے امید ہے کہ اس سال ہم اپنی طلب کا ایک بڑا حصہ اپنی مقامی پیداوار سے پورا کر سکیں گے، ہمیں ان اقدامات پر فخر ہے لیکن ابھی ہم نے طویل سفر طے کرنا ہے، ہم نے ابھی آئی ایم ایف کے ساتھ نویں جائزہ کی تکمیل کرنا ہے، ہماری طرف سے تمام شرائط اور مطالبات پورے کردیئے گئے ہیں، امید ہے کہ جلد یا بدیر آئی ایم ایف بورڈ نویں جائزہ کی منظوری دیدے گا۔ اس طرح معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے ہمارا کثیرجہتی اور دو طرفہ اداروں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 13 اگست کو مکمل ہو رہی ہے لیکن بغیر کسی ٹھوس وجوہات کے پی ٹی آئی قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کیلئے دبائو ڈال رہی تھی اگر انہیں قومی اسمبلی کی تحلیل میں اتنی دلچسپی تھی تو انہوں نے اپنی مدت کے دوران ایسا کیوں نہیں کیا۔ ان کے پاس موقع موجود تھا، پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دی تاکہ ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کیلئے پرامن تصفیہ پر پہنچ سکیں کیونکہ پی ٹی آئی نے دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل کردی تھیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن ہوئے ہیں، اب انہوں نے دو اسمبلیاں تحلیل کیں، پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور ماضی میں کچھ عناصر کی جانب سے یہ بے بنیاد الزام تراشی ہوتی رہی کہ پنجاب نے اقتدار پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پنجاب کا دیگر تینوں صوبوں کے ساتھ برابری کا تعلق ہے، ہم ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں، یہ ہماری اقدار ہیں ،اگر ہم نے ایک خاندان کی طرح آگے بڑھنا ہے تو ہم سب نے مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہے اور نفع نقصان میں حصہ دار بننا ہے، اگر پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کرانے ہیں تو آنے والے وقتوں میں ایک نظیر قائم ہوجاتی کہ سب سے پہلے بڑے صوبے میں اور دیگر صوبوں میں بعد میں انتخابات ہوتے تو ایک سنجیدہ عنصر وقت پر فیصلہ کرنے والے ووٹر کا ہے، اگر وہ دیکھتے ہیں کہ پنجاب میں ایک خاص پارٹی کامیاب ہوئی ہے تو اس کے دوسرے صوبوں میں قدرتی اثرات ہوں گے جو ناانصافی اور جمہوری اقدار کے برعکس ہے، ہم نے عام انتخابات کے حوالے سے کسی تصفیہ پر پہنچنے کی بھرپور کوشش کی، ہماری اور تحریک انصاف کی کمیٹی میں اتفاق رائے بھی ہوگیا تھا لیکن پی ٹی آئی چیئرمین نے اسے ویٹو کردیا۔ عام انتخابات کے انعقاد کا سوال توقعات کا نہیں بلکہ آئینی تقاضا ہے، انتخابات کا بروقت انعقاد ہونا چاہئے یہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے تاہم یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے اور ہم اس کی پابندی کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین کو کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کے اقدامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے اپنے چار سالہ اقتدار میں نوازشریف سے لے کر پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں تک کو بے بنیاد الزامات کے تحت ساری اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالا، لیکن تشدد کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، کوئی احتجاج نہیں ہوا، ہم نے مہذب انداز میں پارلیمنٹ میں اس پر آواز اٹھائی لیکن عمران خان کی گرفتاری پر ان کی ہدایت پر شرپسند جتھوں نے ملک کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جن میں فوجی تنصیبات بھی شامل تھیں۔ 6 جنوری 2021 کو اس کو کیپیٹل ہل میں جو ہوا، ان حملہ آوروں کو قانون کے مطابق عدالتوں کی طرف سے سزائیں دی جارہی ہیں۔ کیا پاکستان میں ایسے عناصر کے خلاف کوئی الگ سلسلہ ہونا چاہئے اگر ایک سنگین جرم ہوا ہے تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔


جبکہ دوسری وزیر اعظم شہباز شریف نے قازقستان کے جنگلات میں لگی آگ سے ہونے والی 14 ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے قازقستان کے جنگلات میں لگی آگ سے ہونے والی 14 ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا ہے۔اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قازقستان کے جنگلات میں آگ لگنے سے 14 افراد کی ہلاکت پر دکھ ہوا ہے۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اورعوام کی طرف سے قازقستان کے صدر اور ہلاک شدگان کے اہلخانہ کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔


اپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے بھی دعاکی۔ خیال رہے کہ قازقستان کے شمال مشرقی علاقے میں جنگلات میں خطرناک آتشزدگی کے باعث 14 افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ قازقستان کے محکمہ دفاع کے مطابق علاقے میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنے اور آتشزدگی پر کنٹرول کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

Leave a reply