fbpx

پنجاب حکومت نے بلدیاتی ایکٹ 2022 تیار کرلیا

پنجاب حکومت نے بلدیاتی ایکٹ 2022 تیار کرلیا

بلدیاتی ایکٹ 2022 کی آئندہ ماہ منظوری لی جائے گی مئیر، ڈپٹی مئیر کا انتخاب براہ راست ہوگا ،نیبر ہڈ، ویلج کونسل کا نام تبدیل کرکے یونین کونسل رکھ دیا گیا ،مئیر، چئیرمین ڈسٹرکٹ کونسل، یونین کونسل، ناظمین، نائب ناظمین، کونسلز بااختیار ہونگے حکومت یونین کونسل میں فنڈ براہ راست دے گی حکومت اور اپوزیشن کو بلاامتیاز فنڈذ میسر ہوگے یونین کونسل، اضلاع اپنی حدود میں ٹیکس اکٹھا کرنے کے مجاز ہونگے وزیراعلی پنجاب مئیرز، ڈپٹی مئیرز، چئیرمین ڈسٹرکٹ کونسل کو معطل کر سکیں گے

دیہاتوں میں پنچایت کونسلیں، شہروں میں ثالثی کونسلیں بنیں گی پنجاب میں 11 میٹروپولیٹن کارپوریشنز ہونگی 9 ڈویژنل ہیڈکوارٹر، گجرات، سیالکوٹ میٹروپولیٹن کارپوریشن ہونگی پنجاب میں 5500 یونین کونسلز ہونگی یونین کونسل ناظم، نائب ناظم سمیت 12 ممبران پر مشتمل ہوگی یونین کونسل میں لیبر، کسان، اقلیت، خواتین یوتھ کی نمائندگی ہوگی

الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

۔دوسری طرف حکومتی جماعت نے پنجاب بھر میں اپنے مضبوط امیدواروں کی تلاش شروع کردی ہے ، جس کے بعد یہ یہ خیال ظآہر کیا جارہا ہےکہ حکومت ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا میدان مار لے گی،پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کب ہوں گے اس حوالہ سے ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا، سندھ میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کو بارشوں کی وجہ سے ملتوی کیا گیا ہے، سندھ میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات ہونے تھے

علاوہ ازیں تحریک انصاف نے بلدیاتی الیکشن کےالتواء کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست داٸرکی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سندھ میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں آٸینی درخواست ارکان سندھ اسمبلی خرم شیرزمان اور راجہ اظہر نے داٸر کی ہے آٸینی درخواست میں چیف الیکشن کمیشن، صوباٸی الیکشن کمیشن اور صوباٸی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ کراچی میں زیادہ بارش نہیں ہورہی لیکن الیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشن ملتوی کردیئے ہیں بلدیاتی الیکشن سندھ حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کی خواہش اور صوباٸی الیکشن کمشنر کی سفارش پر ملتوی کٸے گٸے ہیں اٹھائیس اگست کو ہونے والے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرکے کراچی کی عوام کو نماٸندے منتخب کرنے سے محروم کیا گیا ہے یہ بھی کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اپنی متوقع شکست کے باعث کراچی میں الیکشن نہیں چاہتی استدعا کی کہ سندھ میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات فوری کروائے جائیں

درخواست دائر کرنے کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 28 تاریخ کو سیکنڈ فیز کے بلدیاتی انتخابات ہونے تھے، الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا حیدرآباد ڈویژن کے الیکشن ملتوی کیے جاتے ہیں-حیدرآباد کے الیکشن ملتوی کیئے جانے کہ بعد کراچی کے الیکشن 28 کو ہونگے، لیکن رات کو اچانک فیصلہ ہوا کہ الیکشن ملتوی سمجھ نہیں آئی یہ اچانک کس کا فیصلہ تھا، کراچی میں نہ کوئی بارش ہے نہ کہیں پانی کھڑا ہے، کراچی کے حالات بدتر ہیں- لوگوں کو پانی نہیں مل رہا سیوریج نظام بہتر نہیں، ہر دوسرا بندہ یہاں لٹ رہا ہے، الیکشن ہوتے جو جیتتا وہ عوام کے مسائل حل کرتا, الیکشن کمیشن نے بددیانتی کرتے ہوئے پی پی اور ایم کیو ایم کو فائدہ دیا ہے، اس فیصلے کے خلاف ہم آج عدالت میں آئے ہیں کراچی میں سب سے زیادہ اسٹیک تحریک انصاف کا ہے، سب سے زیادہ منتخب نمائندے ہمارے ہیں، ہم نے کوئی الییکشن ملتوی کرنے کا نہیں کہا، الیکشن کے وقت ایک سیاسی شخص ایڈمنسٹریٹر بٹھایا ہوا ہے، وہ بیٹھ کر بھی کوئی کام نہیں کررہا ہے ایڈمنسٹریٹر صرف شاہراہ فیصل کے چکر لگارہے ہیں، معزز عدالت کراچی سے اس ظلم کا نوٹس لے، پیپلزپارٹی کی نالائقی کی وجہ سے کراچی کب تک سسکتا رہے گا، کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جارہا ہے, جس لاڑکانہ نے بلاول کو ووٹ دیا وہاں بلاول نے کیا کیا؟