حکمران قبلہ درست کریں ورنہ۔۔۔۔تجزیہ: شہزاد قریشی

0
136
qureshi

ایک ایسی ریاست جس کے عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں اُس ریاست کے سیاستدانوں سیاسی جماعتوں کے قائدین کو جمہوریت آئین اور قانون کی حکمرانی اُس وقت یاد آتی ہے جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتے۔ اپنی شعلہ بیانی کے ذریعے ایسے ایسے شعلے پھینکتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ بلوچستان میں ایک جلسے میں تحفظ آئین کو لے کر ایسے ایسے سیاستدانوں کو آئین پر شعلہ بیانی کرتے دیکھا جو اقتدار میں رہے یہ اپوزیشن ہے اور ملک میں ہونے والے انتخابات سے افسردہ ہیں۔ اپوزیشن نے عمران خان کو فوری جیل سے رہانے کا مطالبہ بھی کیا۔اونچی آواز میں بات کرنا سیاسی گلیاروں میں کوئی نئی بات نہیں۔اصل بات عمل کی ہے کیا دور اقتدار میں آئین پر عمل کیا جمہور کے بنیادی مسائل پر توجہ دی ؟ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا؟ ملکی وسائل پر بھر پورتوجہ دی گئی؟ عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجے میں پھنسے پاکستان کو آزاد کروایا ؟ بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے گئے؟ قانون کی حکمرانی کے لئے کردارادا کیا گیا؟ آئین میں لکھے عوام کے حقوق کے بارے میں عمل کیا گیا؟

موجودہ حکمران طبقے کو بھی اپنے عمل کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ یہ پاکستان اور جمہور کی خدمت پر مامور ہیں بہتر راستہ ایک ہی ہے کہ اپنا قبلہ درست کریں اپنا ٰرُخ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی طرف موڑ دیں۔

یاد رکھیئے موجودہ دور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے عوام پاگل ، گونگی ، یا نااہل نہیں ہے موجودہ دور پاکستان کا مستقبل نوجوان بچے اور بچیاں ہیں ان کے بہتر مستقبل پر توجہ دیجئے ۔اہل سیاست ہی نہیں بیورو کریٹ ، بیورو کریسی ، اعلیٰ عہدوں پر فائز بہت سی شخصیات ، عدلیہ ذاتی مفادات سے بلند ہو کر سب سے پہلے پاکستان کے استحکام عوام کی فلاح اور اپنے اداروں کی مضبوطی اور قانون کی بالادستی یقینی بنانا ہوگی ۔ ورنہ تمہاری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے یہی ایک واحد راستہ ہے غلط راستوں کا انتخاب احمق لوگ کیا کرتے ہیں۔ تکبر اور غرور کی حدوں کا کراس کرنے ، مسخرے پن سے باہر نکل کر سوچیئے

Leave a reply