قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کا فیصلہ

قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کا فیصلہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی برائے قومی اسمبلی ورچویل اجلاس نے پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے

کمیٹی نے قومی اسمبلی میں پارلیمانی رہنماؤں کو اگلے اجلاس میں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے،کمیٹی پارلیمانی رہنماؤں کی مشاورت سے قومی اسمبلی کے ورچویل اجلاس کی سفارشات اسپیکر بھجوائے گی

چیئرمین سید فخر امام نے پارلیمانی رہنماؤں کو شرکت کیلئے خطوط لکھ دیے،پی ٹی آئی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی اورجی ڈی اے کے غوث بخش خان مہر کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے،

کمیٹی کے21 اپریل کےاجلاس میں قومی اسمبلی کے ورچویل کے بجائے حقیقی اجلاس بلانے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا،قومی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے اورطریقہ کارپرمزید تبادلہ خیال کیلئے پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کریں گے،

بلاول بھٹو زرداری، خواجہ آصف اور شیخ رشید احمد کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے،ایم ایم اے کے اسعد محمود، نوابزادہ شاہ زین بگٹی اوراے این پی کے امیر حیدراعظم خان کو مدعو کیا گیا ہے،مسلم لیگ ق سے طارق بشیرچیمہ، بی اے پی سے خالد مگسی کو مدعو کیا گیا ہے،بی این پی سے اخترمینگل اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے،مشاورت کیلئے مدعو کیے جانے والے پارلیمانی رہنما وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کرسکیں گے

قبل ازیں اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے کی جانب سے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرا دی گئی ہے، قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے اپوزیشن کے 98 ارکان نے ریکوزیشن پر دستخط کیے ہیں۔ قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی ریکوزیشن میں اپوزیشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے ورچوئل اجلاس کو مسترد کرتے ہیں، قومی اسمبلی کا ریکوزیشن اجلاس بلایا جائے اور کورونا سے نمٹنے کی تیاریوں اور حکومتی اقدامات سے متعلق بتایا جائے۔

اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی ریکوزیشن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اب تک ملنے والی امداد اور رعایتوں کی مانیٹرنگ سے آگاہ کیا جائے اور اب تک کورونا سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اخراجات سے ایوان کو بتایا جائے جبکہ ٹائیگر فورس، نقدرقم کی فراہمی میں اس کے کردار سے بھی ایوان کو آگاہ کیا جائے۔

ریکوزیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ارکان اور عملے کی حفاظت کے اقدامات یقینی بنائے جائیں، قومی اسمبلی ہال میں 450 افراد کی گنجائش ہے، قومی اسمبلی کی گیلریوں کو ملا کر 800 افراد کی گنجائش ہوجاتی ہے۔ اپوزیشن کی ریکوزیشن میں کہا گیا ہے کہ ارکان کے درمیان ایک میٹر کا فاصلہ برقرار کر کے اجلاس منعقد کیا جا سکتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.