ریگولیٹری فریم ورک سے تجارتی مسائل حل کریں گے،گورنر اسٹیٹ بینک کی چیئرمین ایف بی آر کو یقین دہانی

0
31

اسلام آباد: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ریگولیٹری فریم ورک سے تجارتی مسائل حل کریں گے۔

باغی ٹی وی : گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اورچیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) عاصم احمد کے درمیان ایف بی آر ہیڈکوارٹر میں ملاقات ہوئی، جس میں بینکوں کو اسٹیٹ بینک کے حالیہ سرکلرز کے تناظر میں پھنسے ہوئے کنسائنمنٹس، ایل سی کھولنے اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کی غیرقانونی سرگرمیاں روکنےکیلئےوسل بلوئنگ فورم متعارف کرادیا


ایف بی آر اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے چیئرمین ایف بی آر کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اسٹیٹ بینک فارن ایکسچینج کے بدلے ہوئے ریگولیٹری فریم ورک کی وجہ سے کاروبار اور تجارت کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے گا چیئرمین ایف بی آر نے اسٹیٹ بینک کے ساتھ معلومات کے تبادلے سمیت ایف بی آر کے مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔


ایف بی آر چئیر مین نے گورنراسٹیٹ بینک کو بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے نئی جاری کردہ غیر ملکی کرنسی کی حد کے نفاذ کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ دونوں نے بہتر ریگولیٹری ماحول کے ساتھ پالیسیوں کے موثر نفاذ کے لیے اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے درمیان قریبی رابطہ کاری پر اتفاق کیا۔

پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح مہنگائی میں مزید اضافہ

دوسری جانب اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے غیرقانونی زرمبادلہ آپریٹروں کے خلاف مشترکہ کارروائی کریں گے بینک دولت پاکستان کے گورنر اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کےڈائریکٹر جنرل نےمنگل کومنعقدہ مشترکہ اجلاس میں زرمبادلہ کی غیرقانونی سرگرمیوں کا جائزہ لیا تھا اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے جامع لائحہ عمل وضع کیا گیا تھا-

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ ملک بھر میں زرمبادلہ کے غیرقانونی آپریٹروں اور سٹے بازوں کو پکڑنے اور قانونی کارروائی کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے، اسی لیے اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے نے زرمبادلہ کے غیر قانونی آپریٹروں کے خلاف مشترکہ کارروائی شروع کی ہے۔

اس ضمن میں اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے کی مشترکہ ٹیمیں ان سرگرمیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی اور ان کے خلاف تعزیری/قانونی کارروائی کریں گی تا کہ سٹے بازی اور گرے مارکیٹ کا خاتمہ کیا جاسکے۔ یہ ٹیمیں متعلقہ قوانین کے تحت حاصل قانونی اختیار کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے پاکستان بھر میں غیرقانونی فارن ایکس چینج آپریٹروں اور کاروباری اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کریں گی بینکوں اور ایکس چینج کمپنیوں کو اسٹیٹ بینک، پاکستان میں زرمبادلہ کا کاروبار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

جعلی پاسپورٹ بنانےمیں معاون 5اہلکارمعطل195مقدمات ایف آئی اے کےسپرد

علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک پاکستان نے احتساب اور دیانت داری کے ماحول کو فروغ دینے کی غرض سے ایک مخصوص ای میل ایڈریس (WhistleBlowing.FX@sbp.org.pk) متعارف کرایا ہے اسٹیٹ بینک کی ای میل سروس کے ذریعے عوام نشاندہی کر سکتی ہے، ای میل سے ایکسچینج کمپنیز کے بغیر رسید کاروبار کی نشاندہی بھی کی جا سکتی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ی میل کے ذریعے زرمبادلہ بورڈ ریٹ سے منہگا فروخت کرنے کی شکایات بھی کی جا سکتی ہی زرمبادلہ کی غیر قانونی سرگرمی کی رپورٹنگ کرتے وقت شکایت کنندہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ جس حد تک ممکن ہو سکے حقائق اور مخصوص معلومات اور تفصیلات فراہم کرے تا کہ اس معاملے کا جامع طور پر جائزہ لیا جا سکے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ان سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ افواہیں پھیلانے، قیاس آرائیوں، غلط اور غیر سنجیدہ الزامات لگانے سے گریزکریں گے۔ اس فورم کو استعمال کرنے کے لیے شناخت ظاہر کرنا رضاکارانہ ہے تاہم اگر شناخت بتائی گئی تو وسل بلور کی شناخت کو گمنام رکھا جائے گا۔

دریں اثناء گزشتہ روز وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا تھا کہ زیادہ ڈالر ریٹ چارج کرنے والے بینکوں پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ کیا جائےگا تاکہ آئندہ کوئی بینک ایسا کام نہ کرے-

صدر علوی،عمران خان اورشاہ محمود کوملنےوالےغیرملکی تحائف کا ریکارڈ غائب…

Leave a reply