ملکی مسائل استعفوں سے نہیں بلکہ ایوان میں بیٹھنے سے حل ہونگے۔ راجہ پرویز اشرف

0
36

قومی اسمبلی سے استعفوں اور وزیراعلی پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا معاملہ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی کی سینئر قیادت کا اجلاس آج زمان پارک میں طلب کرلیا

اجلاس شام 4 بجے عمران خان کی زیر صدارت ہوگا۔قومی اسمبلی سے استعفوں کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں وزیراعلی پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے معاملات زیر بحث آئیں گے 2 جنوری کو ہونے والے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس پر مشاورت ہوگی۔اجلاس میں ملک میں جاری معاشی ۔توانائی کے بحران سمیت دیگر معاملات پر عمران خان گائیڈ لائن دیں گے پی ٹی آئی کے چئیرمن عمران خان اجلاس میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے بھی آگاہ کریں گے

دوسری جانب سابق اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے نمائندہ وفد کی پارلیمنٹ ہاؤس آمد ہوئی، ،اسپیکر قومی اسمبلی نے وفد کا پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر خیر مقدم کیا ،ملاقات میں پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی سے استعفوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا، پی ٹی آئی کے وفد میں اسد قیصر ، قاسم خان سوری اورملک عامر ڈوگرشامل تھے ،امجد خان نیازی ، فہیم خان ، ڈاکٹر شبیر حسن لال چند ملہی، عطاء اللہ اورطاہر اقبال بھی شامل تھے ،ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی کے نشستوں سے استعفوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ۔سیاست میں دروازے بند نہیں کئے جاتے سیاست دانوں میں رابطے ہونے چاہیے ،استعفوں کے تصدیق کے حوالے سے آئین پاکستان اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا ،استعفوں کے لئے تمام ممبران کو انفرادی طور پر بلایا جائے گا ،پہلے بھی پی ٹی آئی ممبران کو استعفوں کی تصدیق کے حوالے سے مدعو کیا گیا تھا ،پی ٹی آئی کے کراچی سے ایک رکن اسمبلی نے استعفیٰ کی منظوری روکنے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا ،

اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کی اجتماعی استعفے منظور کرنے کی درخواست مسترد کردی،اسپیکرقومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پی ٹی آئی وفد کو جواب دیا کہ ایک ایک کرکے پیش ہوں تصدیق کریں استعفے منظور ہو جائیں گے، اسپیکر راجہ پرویز اشرف اور پی ٹی آئی وفد کی ملاقات بے نتیجہ ختم ہو گئی،

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ آج پی ٹی آئی کے ایک وفد سے بہت اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی ۔انہوں نے اپنا موقف میرے سامنے رکھا پی ٹی آئی نے کہا 127 ارکان کے استعفے منظور کیے جائیں۔ میں نے کہا کہ کچھ قواعد و ضوابط اور حدود ہیں آرٹیکل 64 میں لکھا ہے استعفی ہاتھ سے لکھا ہو،قواعد کے مطابق اسپیکر استعفی کی تصدیق رکن کو ذاتی حیثیت میں بلا کر کرے گا اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ یہ دیکھے کہیں رکن پر دباؤ تو نہیں تھا پی ٹی آئی کے کچھ ارکان عدالت میں بھی گئے کہ ہم نے استعفیٰ نہیں دیا کچھ ارکان نے چھٹی کی درخواست بھی بھیجی،پارٹی کی اگر کوئی سیاسی پوزیشن ہے تو وہ الگ بات ہے اسوقت ملک کو مفاہمت کی ضرورت ہے پی ٹی آئی کو اسمبلی میں واپس آنے کی دعوت دی ہے،میں نے 11 استعفوں کی منظوری میں پک اینڈ چوز نہیں کیا ،صرف وہی استعفے منظور کیے جنہوں نے ہاتھ سے استعفی لکھا اور ہائوس یا میڈیا میں استعفوں کا اعلان کیا میں نے کہا اگر آپ چاہتے ہیں تو میں تمام ارکان کو دوبارہ خط لکھ دیتا ہوں ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں اجتماعی استعفے منظور کروں ملکی مسائل استعفوں سے نہیں بلکہ ایوان میں بیٹھنے سے حل ہونگے

سابق اسپیکر اسد قیصر اور پی ٹی آئی میمبران نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری اسپیکر کے ساتھ میٹنگ ہوئی ہے ہمارے سارے ایم این ایز ساتھ تھے اسپیکر کو کہا کہ کیا 11 ایم این اے آپکے پاس آئے اسپیکر کے پاس اس سوال کا جواب نہ تھا اسپیکر کا کہنا تھا کہ ٹویٹ آئی ہوئی تھی الیکشن کا انکو پتا نہیں انہوں نے اسلام آباد کے الیکشن ملتوی کر دیئے عوام میں انکی حیثیت انکو معلوم ہوگئی ہے معاشی ایمرجنسی لگائی جارہی ہے اسپیکرقومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے اراکین کے استعفے غیرقانونی طور پر روک رکھے ہیں،قاسم سوری جب اسپیکر تھے انہوں نےاستعفوں کی منظوری کا پراسس مکمل کیا تھا،

Leave a reply