سعودی عرب میں جسمانی طور پر ساتھ جُڑے دو عراقی بچوں کا کامیاب آپریشن

0
50
Saudi Arabia

سعودی عرب میں کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کے کنگ عبداللہ سپیشلسٹ ہسپتال برائے چلڈرن میں جسمانی طور پر جڑے دوبچوں کا کامیاب آپریشن کرکے علیحدہ کر دیا-

باغی ٹی وی : "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق 27 کنسلٹنٹس، ماہرین اور نرسنگ اور ٹیکنیکل کیڈرز نے ملکر کامیاب آپریشن کرکے دو عراقی تن جڑے جڑواں بچوں کو الگ کیا جڑواں بچوں علی اور عمر کو الگ کرنے کا آپریشن خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کی ہدایت پر کیا گیا۔

معاشی بحران سےنکلنےکےلیےسری لنکا کافوج کی تعداد میں کمی کرنے کا فیصلہ

جمعرات کی صبح کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے جنرل سپروائزر اور ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کی قیادت میں میڈیکل اور سرجیکل ٹیم نے جسموں کے الگ کرنے کا آپریشن کیا-

ڈاکٹر عبداللہ نے العربیہ کو بتا یا کہ تن جڑے ہوئے دونوں بچوں کی علیحدہ کرنے کا عمل چوتھے مرحلہ میں ہے اور پانچواں مرحلہ شروع کیا جائے گا سرجری چھ مراحل میں ہونے کی توقع ہے اور اس میں 11 گھنٹے لگیں گے۔

جڑواں بچوں کے سینے اور پیٹ کے نچلے حصے میں چپک جانے کی وجہ سے آپریشن کی کامیابی کی شرح 70 فیصد ہے دونوں کے جگر، پتے کی نالیاں اور آنتیں مشترکہ ہیں۔ انہوں نے کہا بچوں میں پلاسٹک سرجری ٹیم جلد کی توسیع کے آلات کی پیوند کاری کرے گی-

خواتین کا بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ جاری

ڈاکٹرنے اپنی اور اپنی ٹیم کی طرف سے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا کہ انہوں نے ان بچوں پر اپنی خصوصی توجہ دی ہے یہ آپریشن سعودی عرب اور عراق میں گہرے تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ سعودی عرب میں عراق سے آئے تن جڑے بچوں کا پانچواں آپریشن تھااس سے قبل بھی عراق کے چارجوڑوں کو سعودی عرب میں الگ کیا جا چکا ہے 1990 سے جڑواں بچوں کی سعودی عرب میں تن جڑے جڑواں بچوں کی علیحدگی کے آپریشن کئے جا رہے ہیں ۔ علی اور عمر کی الگ کی جانے والی یہ جوڑی ایسی 54 ویں جوڑی تھی جسے سعودیہ میں الگ کیا گیا۔

کینیڈا میں منشیات سے بھرا بیگ لے جانے والا کبوتر گرفتار

Leave a reply