ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جو بچے ’کھرا سچ‘ بولتے ہیں، انہیں والدین یا دوسرے افراد ’بدتمیز‘ سمجھتے ہیں –
باغی ٹی وی : جرنل آف مورل ایجوکیشن میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے بچوں کے سچ اور جھوٹ بولنے کے سماجی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے لیے 267 بچوں اور بالغ افراد پر تحقیق کی تحقیق میں شامل 171 افراد بالغ تھے، جن کی عمریں 18 سال سے 67 سال تک تھیں جب کہ دو درجن کے قریب افراد کی عمر 6 سال سے 15 تک تھی اور باقی افراد بھی درمیانی عمر کے نابالغ افراد تھے۔
دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ
جن میں سے نصف خواتین تھیں اور تمام افراد کو ویڈیوز دکھا کر ان سے سوال و جوابات کیے گئے جب کہ ویڈیوز کے بعد ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر وہ کسی کے والدین ہوتے تو اپنے ہی دیئے گئے جواب پر کیا رد عمل دیتے؟-
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں نے ’دو ٹوک الفاظ‘ میں سچ بولا، انہیں زیادہ ’بدتمیز‘ اور خطرناک سمجھا گیا اور ایسے ہی بچوں کے لیے والدین نے بتایا کہ ان کے ایسے کھرے سچ بولنے کی وجہ سے انہیں بعض اوقات شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جیسا کہ کوئی بچہ اپنے والدین یا دوسرے رشتے داروں یا دوستوں کی جانب سے ملنے والے کسی تحفے کو ناپسند کرتے ہوئے کوئی لحاظ کیے بغیر دو ٹوک الفاظ میں بولتا ہےکہ اسے مذکورہ تحفہ پسند نہیں، وہ بیکاراور خراب ہے’ تو ایسے کھرے سچ پر والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ایسے جواب پر ان بچوں کو ’بدتمیز‘ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟
تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ پھر بھی، جبکہ والدین اور دوسرے بچوں کو دو ٹوک ایماندارانہ سچ بولنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنا غلط ہےمگر ان میں وقت کے حساب سے سچ اور جھوٹ بولنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ بچے یہ سمجھ نہیں سکتے کہ سماجی طور پر کون سی باتیں، سچائی یا جھوٹ قابل قبول ہے اور کون سی بات کس طرح کی جائے، جس وجہ سے وہ عام طور پر دو ٹوک الفاظ میں بات کرتے ہیں، جس سے انہیں ’بدتمیز‘ سمجھا جاتا ہے تاہم بچوں کو وقت اور موقع کو دیکھتے ہوئے جھوٹ بولنے کی مہارت سیکھنی ہوگی اور اسی عمل سے ہی ان میں ترقی کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق بچوں کو موضوع، وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے دوسروں کا دل یا بھرم رکھنے کے لیے بعض باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا فن سیکھنا ہوگا، انہیں مبہم انداز میں سچ بولنا یا پھر جھوٹ بول کر دوسروں کو مطمئن کرنا سیکھنا ہوگا۔