ورلڈ ہیڈر ایڈ

اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچائیے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

بدعت کا لفظ بدع سے لیا گیا ہے
جس کا معنی ہے کسی چیز کا ایسے طریقہ پر ایجاد کرنا جس کی پہلی مثال نہ ہو۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:
بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (البقرہ ١١٧)
وہ آسمانوں اور زمین کو نئے سرے سے پیدا کرنے والا ہے

ابن حجر عسقلانی نے فرمایا:
بدعت کی اصل یہ ہے کہ اسے بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ایجاد کیا گیا ہو۔

شرعی اصطلاح میں بدعت کا حکم ہر اس اس فعل یا مفعول کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا وجود خود قرآن و سنت کی نص سے ثابت نہ ہو اور وہ قرآن و سنت کے بعد ظاہر ہو۔
بدعت کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے کہ
“وہ چیز جو دین میں سے نہ ہو،اس کو دین میں شامل کردینا”
الجرجانی کہتے ہیں:
کسی چیز کو اس طرح ایجاد کرنا کے اس سے پہلے نہ اس کا مادہ ہو نہ زمانہ ہو اور بدعت ہر وہ وہ کام ہے جو سنت کے مخالف ہو۔

الراغب کہتے ہیں:
ایساقول لانا جس کا کہنے والا اور کرنے والا اس کام میں صاحب شریعت کی پیروی نہیں کرتا یعنی صاحب شریعت کی سنت اختیار نہیں کرتا اور پہلی مثالوں اور مضبوط اصولوں کا طریقہ اختیار نہیں کرتا۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ
“دین میں ایجاد کردہ نیا طریقہ جس پر عمل کرنے سے اجر و ثواب اور اللہ کا قرب حاصل کرنا مقصود ہو بدعت کہلاتا ہے”
دین میں ہر بدعت حرام اور باعث گمراہی ہے۔
بدعت کی دو اقسام ہیں
1۔عقیدے میں بدعت مثلا جہمیہ ، معتزلہ ، رافضہ اور دیگر فرقوں کے باطل عقائد۔
2۔ عبادات میں بدعت خود ساختہ اور غیر شرعی طریقوں سے اللہ کی عبادت کرنا مثلا نفس عبادت ہی بدعت ہو یعنی کوئی ایسی عبادت ایجاد کر لی جاۓ جس کی شریعت میں اصل نہ ہو مثلاً غیر شرعی نماز ، خود ساختہ روزہ وغیرہ۔

شریعت کی مقرر کردہ عبادات میں زیادتی ہو جیسے ظہر یا عصر کی نماز میں پانچویں رکعت بڑھا دینا اپنے آپ میں اتنی سختی کرنا کہ وہ سنتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے تجاوز کر جاۓ مثلاً ہمیشہ روزہ رکھنا ، نکاح نہ کرنا پوری رات قیام کرنا وغیرہ۔
وہ عبادت جسے شریعت نے کسی وقت کے ساتھ خاص نہ کیا ہو جیسے مسنون اذکار اور دعاؤں کو غیر ثابت شدہ طریقہ پر ادا کرنا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ غلام ہو ، پس تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا تو تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو پکڑ لینا لازم ہے اور سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا بلکہ داڑھوں سے پکڑے رہنا اور (دین میں) نئی پیدا کی ہوئی چیزوں سے بچو کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

عرباض رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“بدعات سے بچو”

ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
ہر بدعت گمراہی ہے اگرچہ لوگ اسے نیکی سمجھیں۔

بدعت سے بچنے کا طریقہ:
کتاب وسنت پر مضبوطی سے جمے رہنے ہی سے بدعت و گمراہی میں پڑنے سے بچا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو جو تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ روایت میں ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے پھر اس کے دائیں اور بائیں لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ بہت سارے راستے ہیں ان میں سے ہر ایک راستے پر شیطان ہے جو اپنی جانب بلا رہا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:
(ترجمہ) اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو جو تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
سنت میں درمیانی چال ، بدعت میں کوشش کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔

بدعت کے نقصانات
حسّان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جو قوم اپنے دین میں نئی بدعت ایجاد کرتی ہے اللہ تعالی ان میں سے اس بدعت جیسی سنت کو اٹھا لیتا ہے اور پھر اسے دوبارہ ان لوگوں کے پاس قیامت تک نہیں لوٹاتا۔
بدعت ہلاکت کا باعث ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ہر عمل میں ایک تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کے بعد ایک وقفہ ہوتا ہے جس کا وقفہ اسے سنت کی طرف لے گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور جس کا وقفہ اسے کسی اور چیز کی طرف لے گیا تو وہ ہلاک ہو گیا۔

بدعت حوضِ کوثر سے محرومی کا سبب ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بیشک میں تمہارے لئےحوض ِکوثر پر پیش خیمہ ہوں گا اور تم اس بات سے بچنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی میری طرف آئے اور پھر وہاں سے ہٹا دیا جائے جیسا کہ گم شدہ اونٹ ہٹا دیا جاتا ہے تو میں کہوں گا ایسا کیوں ہے تو کہا جائے گا کہ بے شک آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے جانے کے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔
تو میں کہوں گا دور ہو جاؤ۔

بدعت سے توبہ کی توفیق نہیں ملتی
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوع نقل کیا گیا ہے:
بے شک اللہ تعالی نے توبہ کو ہر بدعتی سے پردے میں رکھا ہے۔

سفیان ثوری کہتے ہیں:
بلاشبہ ابلیس کو گناہ سے زیادہ بدعت پسند ہے کیونکہ بدعت کے بعد توبہ نہیں کی جاتی جبکہ گناہ سے توبہ کی جاتی ہے۔

بدعتیوں کی تردید ان کی نکیر اور ان کو مسلسل اس عمل سے منع کرتے رہنا ہی مطلوب ہے اس کی مثال صحابہ اور سلف صالحین کے طرز عمل سے ملتی ہے۔

مزکورہ روایات واضح دلیل پیش کرتی ہیں کہ دین میں بدعت کی کوئی گنجائش موجود نہیں اور بدعت سراسر گمراہی کیطرف لے جاتی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے کا سبب بنتی ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں بدعت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وماعلینا الا البلاغ المبین۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.