سینیٹ اجلاس صبح دس بجے تک ملتوی، ناموس صحابہ ایمان کا حصہ ہے، حکومتی اراکین

سینیٹ کااجلاس حکومت اور جمعیت علماء اسلام میں جرگے کے بعد پر امن رہا،معمول کی کارروائی بغیرکسی بدمزگی کے چلتی رہی،سینیٹ میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن کا کہنا تھا کہ حکومت نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل کے فیصلے پر نظرثانی کرکے ختم کیاجائے آرمی چیف کوکونسل کاممبر بناکر متنازعہ بنایاجارہاہے،حکومت آئی ایم ایف کے برمودا ٹرائی اینگل میں پھنس گئی ہے قومی سلامتی دا پر لگادی گئی ہے،آئی ایم ایف اوریہودیوں کے بجٹ کو زیر بحث لانا اپنی اور ایوان کی توہین سمجھتاہوں۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کااجلاس آج صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے.جمعرات کو سینیٹ کااجلاس چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں شروع ہوا۔بجٹ پر بحث کرتے ہوئے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہاکہ تمام مسائل کا ڈائریکٹ بجٹ سے تعلق ہے ملک میں قومی برابری نہیں ہے اور غلامی کی سوچ موجود ہے.علاقائی اور صوبائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ نہیں دیاگیاہے. اسٹیبلشمنٹ صدارتی طرز حکمرانی لارئی ہے مگر ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں. یہ لوگ طاقت اور سازش کے ذریعے اس کو لاناچاہتے ہیں اگر صدارتی نظام مسلط کردیا تو جدوجہد کریں گے اور لوگ قومی خود مختاری کی بات کریں گے یہ ملک کو تقسیمِ کرنے کا عمل ہے یہ ان پر ہے کہ ملک کو تقسیم کرنا ہے یا نہیں کرنا ہے صوبوں کا اثرنو تشکیل ہونا چاہیے صدارتی نظام کی صرف تحریک انصاف حامی ہے 18ویں ترمیم پر سو فیصد عمل ہونا چاہیے احتساب سب سے پہلے جنرلوں کا ہونا چاہیے.

حکومتی اراکین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ کے ناموس پر ہر چیز قربان کرنے کوتیارہیں،حکومتی ارکان نے کہاکہ ناموس رسالت صحابہ اور اہل بیت ہمارے ایمان کا حصہ خون خاضر ہے علما دعی کا کردار ادا کریں اشتعال نہ پھیلائیں،معیشت کی کشتی میں سوراخ کرکے لوگ خوش ہورہے ہیں مگر کشتی ڈوبے کی تو سارے مارے جائیں گے،سابقہ فاٹا کی قومی وصوبائی اسمبلی میں نشستوں کا بل سینیٹ جلدپاس کرئے ،فاٹاکے ٹیکس چھوٹ پر اعلان کے مطابق عمل کیاجائے ۔

۔سینیٹر مولانا عطا الرحمن نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہاکہ ہم ایوان کے ماحول کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں ایوان چلانا حکومت کا کام ہے اگر پارلیمنٹ میں صحابہ کے ناموس پر بات نہیں کرسکوں تو کہاں کروں گا. میں ضرور صحابہ کے ناموس پر بات کروں گا. اگر ملک کا ذمہ دار شخص اس طرح کی بات کرئے گا تو لوگوں کے جزبات اٹھیں گے اس کی وجہ سے امت مسلمہ کی دل آزاری ہوئی ہے ہر صورت صحابہ کادفاع کروں گا. مال غنیمت کو قادیانی اور یہودی لوٹ مار کہتے ہیں اگر ہم ایوان میں بات نہیں کرسکتے تو ہمیں سیٹیں کیوں دی گئی ہیں

بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ناموس رسالت صحابہ اور اہل بیت سب کے ایمان کا حصہ ہے سب کا خون خاضر ہے.علما دعوت کا کردار ادا کریں اشتعال کا کردار ادا نہ کرے فتنہ سے دور رہنے کے لیے وضاحت کررہاہوں وزیراعظم نے الفاظ کا چناؤ ٹھیک نہیں کیا صحابہ کی توہین کوئی مسلمان سوچ نہیں سکتاہے مگر انسان بشر ہے اس سے غلطی ہوسکتی ہے ہم علماء سے رہنمائی لینے کوتیار ہیں کوئی آخرت خراب کرنا نہیں چاہتاہے

سابق چیئرمین سینٹ رضاربانی نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہاکہ یہ بجٹ عوام دشمن اور مزدور کش بجٹ ہے جو بجٹ آئی ایم ایف تیار کرے گی اور وزیر ریونیو پڑھیں گے تو وہ عوام کا بجٹ نہیں ہوگا آئی ایم ایف بجٹ کا ثبوت سٹیٹ بینک کے سربراہ نے یہ کہے کردء دیاہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کے شرائط پورے کئے ہیں. اس حکومت کی بجٹ پر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ 16جون کو وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار نے بیان دیا اور وزیر ریونیو نے اس کو ری ٹویٹ کیا کہ ایشن ڈویلپمنٹ بینک ہمیں قرض دے گا. اتوار کو اے ڈی بی کے سربراہ نے کہاکہ ہم نے کوئی معائدہ نہیں کیا ہے یہ ہمارا بوڈ فیصلہ کرے گا . اہم معاملات ہورہے ہیں مگر کوئی بات نہیں کررہاہے.

سینیٹرایوب آفریدی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جتنی آزادی دنیا میں کئی نہیں ہے ہمیں اس ہر شکر اداکرنا چاہیے سابقہ فاٹا کے لیے 162ارب اور 176ارب بلوچستان کے پسماندہ علاقہ کے لیے رکھے گئے ہیں ہم مشکل وقت سے گزر رہے ہیں اللہ نے ہماری سن لی اور عمران خان کی طرح ایمان دار قیادت دی پاکستانی معیشت مضبوط اور اپنے پاوں پر کھڑی ہوگی.60سال میں 6ہزار بیرونی قرض لیے اور بہت ترقی ہوئی ہے جبکہ دس سال میں 24ہزار ارب قرض لیاہے اور کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے. اورنج ٹرین سے 24ارب روپے کا سالانہ نقصان ہوگا. انہوں نے غریب کا پیسہ بے دردی سے استعمال کیا ایسے حکمران اللہ دشمنوں کو بھی نہ دے. 3ہزار ارب سود سابقہ حکومت کے قرضوں پر ادا کررہے ہیں اس کی وجہ سے ہم آئی ایم ایف میں گئے فوج نے ہمیں محفوظ کیا ہے ہمیں دشمن کی زبان نہیں بولنی چاہیے۔سابقہ قرض ادا کرنے کے لیے آئی ایم ایف گئے.فاٹا میں سٹیل اور گھی کی صنعت پر ٹیکس لگادیاگیاہے اعلان کے مطابق 5سال تک ٹیکس نہ لیں. قومی اسمبلی سے صوبائی اور قومی اسمبلی کی سیٹوں کے اضافہ کا بل سینٹ سے پاس کریں۔سینیٹ کااجلاس آج صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیاگیاہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.